پاکستان پیپلز پارٹی نے تاریخ میں پہلی بار کراچی کے گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی جس کے بعد کے ایم سی کی جانب کراچی میں تیزی کے ساتھ کام ہورہا ہے۔ کراچی کیلئے ہماری ترجیح پانی کے منصوبے تھے کیونکہ ارسا کے قانون کے مطابق ہمیں پانی کا شیئر نہیں فراہم کیا جاتا۔ اسی سلسلے میں چند مہینے پہلے ہم نے کیماڑی میں 25 ملین گیلن واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹ کا افتتاح کیا اور اس میں 55 ملین گیلن کا اضافہ ہوگا۔ آج انڈسٹریل ایریا میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے 35 ملین گیلن واٹر ٹریٹمینٹ کے منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
@BBhuttoZardari
#GreaterKarachiSeweragePlan
#WasteWaterTreatmentbyPPP
جو لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لئے شروع کیا گیا تھا وہ ملاقاتوں کی اجازت ملنے پر ختم ہونے جا رہا ہے۔ ملاقاتیں تو پہلے بھی ہوتیں تھیں ۔ اب آپ کچھ شرائط کے ساتھ ملیں گے۔ اگر سیاست دانوں کے ساتھ پہلے دن بیٹھ جاتے تو نا یہ دن دیکھنا پڑتا نا فوج کی سیاست پر گرفت اتنی مظبوط ہوتی۔
I’m pleased that the government has accepted the PPP’s suggestion to jointly engage politically with the opposition in an effort to find political solutions to political problems.
The challenge of terrorism has become an existential threat to Pakistan, particularly given the active support these groups receive from neighbouring countries.
I hope these talks conclude with the opposition unconditionally calling off its long march, allowing us to come together as a nation to combat the menace of terrorism and address the threats emanating from neighbouring countries.
The PPP has been, and will always remain, committed to combating terrorism through any and all constitutional means.
A meeting between government and PTI delegations in Speaker Ayaz Sadiq’s chamber at Parliament House to review the overall political situation. Interior Minister Mohsin Naqvi, Allama Raja Nasir Abbas, Barrister Gohar, Sherry Rehman, Naveed Qamar and other leaders are attending.
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات، ملک کی مجموعی سیاسی، اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور ��وبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے۔
اجلاس میں ملک میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے اور ملک کے امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ کل وفاقی حکومت اور پ پ پ کا مشترکہ وفد کل پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔
اس مشترکہ وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا الّلہ، امیر مقام اور پ پ پ کی طرف سے ��یری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شریک ہونگے۔
@AAliZardari
As Breast Cancer Awareness Month begins, a reminder to women everywhere - be aware of changes in your body and do not hesitate to seek medical advice when something feels unusual.
Breast cancer is treatable, especially when detected early. Awareness, timely diagnosis and access to treatment can save lives. No woman should be held back from seeking care by fear, stigma, distance or financial constraints. 🎀
ایمل ولی خان کے بعد بیگم عابدہ حسین بھی چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی مداح نکلیں۔
مریم نواز کے مقابلے میں بلاول بھٹو کی تعلیم اور سیاسی بصیرت زیادہ ہے، اگر بلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کا موقعہ ملا تو وہ بہت بہتر وزیراعظم ثابت ہوں گے۔
بیگم عابدہ حسین
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی پنجاب کے صدر اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی، اس موقع پر سیاسی امور پر بات چیت کی گئی۔
@BBhuttoZardari
The terrorist attack in Dera Ismail Khan, following the recent bloodshed in Kohat, is another painful reminder of the terrorism threat Pakistan continues to confront. My deepest condolences to the families of our martyrs and prayers for the injured. The nation stands firmly with our courageous police, law-enforcement agencies and security forces.
Pakistan has defeated terrorism before, and we will defeat it again. Terrorists, their facilitators, financiers and sponsors will be held accountable, and no territory beyond our borders will be allowed to serve as a sanctuary for terrorism against Pakistan. We will neither be intimidated nor divided. Pakistan will prevail.
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی گونج، سیاسی قیمت کون دے گا؟
خیبر پختونخوا کا جیالا گورنر اگر صوبے میں گورنر راج کی سمری صدرِ مملکت کو ��رسال کرتا ہے، تو کیا صدرِ مملکت اس پر صدارتی فرمان جاری کر دیں گے؟ یا پھر اس کے لیے کوئی دوسرا آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا؟
میرے خیال میں ایسا کرنا اتنا سادہ معاملہ نہیں۔ اگر صدرِ مملکت براہِ راست گورنر کی سمری پر گورنر راج نافذ کر دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کی ساری سیاسی لڑائی کا رخ پیپلز پارٹی کی طرف موڑنے کا موقع فراہم کر دیا جائے۔
میرے اندازے کے مطابق، اگر،اگر ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہوتے ہیں تو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب اور صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب یہ مطالبہ، راستہ اختیار کر سکتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے گورنر راج کے حق میں قرارداد منظور کرائی جائے، تاکہ سیاسی اور آئینی طور پر وسیع تر پارلیمانی تائید سامنے آئے۔
لہٰذا اگر کبھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی نوبت آتی ہے تو یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ ایک بڑا آئینی اور سیاسی امتحان ہوگا۔ گورنر کی سمری سے لے کر صدرِ مملکت کے فیصلے اور پارلیمان کی تائید تک، ہر قدم کی اپنی آئینی اہمیت ہوگی۔ گورنر راج نہ مستقل حل ہے، نہ سیاسی لڑائی جیتنے کا ہتھیار؛ آئین نے اسے صرف ایک محدود اور غیر معمولی انتظام کے طور پر رکھا ہے۔ اس لیے چھ ماہ کی آئینی حد کے بعد راستہ پھر سیاست، پارلیمان اور عوام کی طرف ہی جاتا ہے۔ اور یہی جمہوریت کا اصل فیصلہ کن میدان ہے۔۔
1988 کے بعد خیبر پختونخوا میں (جنرل پرویز مشرف کے دور کے علاوہ) باقاعدہ آئینی گورنر راج صرف ایک مرتبہ نافذ ہوا۔ یہ گورنر راج 25 فروری 1994 سے 24 اپریل 1994 تک، تقریباً 58 دن جاری رہا۔ اس وقت پیر صابر شاہ کی صوبائی حکومت تھی۔ گورنر راج کے خاتمے کے بعد آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی قیادت میں نئی صوبائی حکومت قائم ہوئی۔
لہٰذا سیاس�� کی اس شطرنج میں اپنے جیالے گورنر کو واپس بلا لینا بھی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں، بلکہ بعض اوقات ایک چال پوری بساط بدل دیتی ہے لہذا اگر ایسی صورتحال بنی تو قوی امکان ہے کہ آصف علی زرداری گورنر خیبرپختونخوا کو withdraw کروا لیں گے
@AAliZardari
پیپلز پارٹی کا ڈی این اے ’’پاکستان کھپے‘‘ ہے۔ جان کی بازی لگانی پڑے تو پاکستان کے لیے، پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ 👇 تصاویر 17 اگست 1998 کی ہیں، جب محترمہ بے نظیر بھٹو احتساب عدالت، لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک قیوم کی عدالت میں پیش ہوئیں۔
یہ وہی احتساب کا دور تھا جس میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمن اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان آڈیو گفتگو بھی سامنے آئی، جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ’’فل ڈوز‘‘ دینے کی بات کی گئی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کو باہر سے چاروں طرف سے خاردار تاروں اور پولیس کے حصار میں لے لیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پیپلز لائرز فورم کے وکلا پر شدید تشدد ہو رہا تھا، مگر اس تمام جبر کے باوجود پیپلز پارٹی نے ریاست کو کمزور کرنے، پاکستان کے خلاف محاذ کھولنے یا ملک کو نقصان پہنچانے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
سختیاں ب��داشت کیں، جیلیں کاٹیں، کوڑے اور پھانسیاں برداشت کیں، مگر پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔
یہی سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا بنیادی فرق ہے۔
ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کرنا ایک چیز ہے، ریاست کو کمزور کرنا دوسری۔ حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد ایک چیز ہے، پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانا دوسری۔ احتجاج اور اختلاف جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر تشدد، انتشار اور مسلح جدوجہد جمہوری سیاست کا متبادل نہیں۔
تاریخ کے ان واقعات کو آج کے سیاسی رویوں کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو فرق خود واضح ہو جاتا ہے۔
سیاسی مخالف سے لڑیں، حکومت سے لڑیں، نظام کی اصلاح کے لیے لڑیں مگر پاکستان کو کمزور کرنے کی قیمت پر نہیں۔یہ نہ کہیں کہ "عمران نہیں تو پاکستان نہیں "۔
حکومت سے لڑیں، ظلم کے خلاف لڑیں، مگر پاکستان کے خلاف نہیں۔ یہی جمہوری جدوجہد اور انتشار کے درمیان اصل فرق ہے۔
👇
ضلع ٹھٹہ میں واقع گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اللہ بچایو کھوسو کی خوبصورت عمارت کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے تعاون سے جدید سہولیات سے آراستہ اسکول کی تعمیر کامیابی سے مکمل ہوچکی ہے جس سے طلبہ کے لیے ایک سازگار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
#SindhSchoolsReimagined #SindhEducation