18 سال مسلسل پی پی پی اقتدار، کھربوں روپے کے بجٹ، اور نتیجہ ZERO سندھ کے کروڑوں لوگ آج بھی پانی، علاج، تعلیم اور تحفظ کو ترس رہے ہیں۔ مگر پھر بھی سندھ اسمبلی میں تین دن سے ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے: سندھ تقسیم نہیں ہوگا پی پی پی لیڈرشپ کو چاہئے عوام کی آنکھوں میں دھول نا جھونکیں آج سوال سندھ کی سرحدوں کا نہیں، پیپلز پارٹی کی 18 سالہ مسلسل حکمرانی کے احتساب کا ہے۔سیہون میں پانی کا بحران، لاڑکانہ میں تباہ حال اسکول اور اسپتال، اندرون سندھ میں ناقص نکاسی آب اور ہزاروں سیلاب زدہ اسکولوں کی عدم بحالی—یہ اس طویل حکمرانی کی تلخ تصویر ہے۔اور کراچی؟ پاکستان کا معاشی انجن آج بھی ٹینکر کے پانی، ابلتے گٹروں، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، بدترین ٹریفک اور ادھورے میگا منصوبوں کے رحم و کرم پر ہے۔ K-IV دہائیوں بعد بھی مکمل نہیں، Red Line نے شہر کی بڑی شاہراہوں کو برسوں سے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، یلو لائین کا ابتدائی تعمیری بجٹ 8 ارب رپے پراجیکٹ ڈائریکٹر کھا گیا جبکہ Safe City منصوبہ وعدوں اور ڈیڈ لائنز سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ عالمی درجہ بندیوں میں بھی کراچی مسلسل دنیا کے نا قابلِ رہائش شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کو 18 سال میں بنیادی شہری زندگی بھی کیوں نہ مل سکی؟وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ کو ماں کہتے ہیں۔ مگر شاہ صاحب اس ماں کے بچوں کو بنیادی حقوق کب ملیں گے؟ آج On My Radar میں سندھ حکومت کے 18 سال کا بڑا پوسٹ مارٹم کیا ہے OMR YouTube لنک کلک کریں اور اس investigative show کو enjoy کریں https://t.co/vB0fYoc3fK