متوفی زین کی تین ہفتے قبل منگنی ہوئی تھی وہ نجی کمپنی میں الیکٹریشن کی جاب کرتا تھا۔ متوفی کے بھائی کے مطابق تاحال ڈیڈ باڈی نہ دی گئی ہے۔ متوفی کے بھائی مطابق ان سے کہا جارہا ہے کہ لکھ کہ غلطی زین کی تھی۔ ڈیڈ باڈی اسوقت جنرل ہسپتال میں جمع ہے۔ ورثاء نے ڈی آئی جی آپریشن اور تھانہ میں درخواست دی ہے مگر مقدمہ درج نہیں ہوا۔
Arsenal's most expensive deal of the summer was Bruno Guimaraes at £75m.
Man City have bought three players for more in Anderson £116m, Bouaddi £86m and Enzo Fernandez (TBC) £125m.
Man City must now be considered the side that HAVE TO win the league over any other.
پمز ہسپتال اسلام آباد کے بعد اب لاہور کے جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں بھی آگ لگ گئی۔
لوگوں کو وارڈ سے نکالنے کی کوشش۔ امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں۔
استغفراللّه۔ یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ملک کے ساتھ؟ 😢
کراچی اور ہری پور میں واقعہ ایک جیسا ہے لیکن وزرائے اعلیٰ کا رویہ یکسر مختلف ہے ۔ ہری پور کی آیت نور کیلئے سہیل آفریدی ہری پور آیا ۔ بچی کے والد کے گلے لگا ۔ رو پڑا ۔ بولا بچی تو واپس نہیں لاسکتا لیکن سرکاری نوکری اور ایک کروڑ روپے آپ کو دے رہا ہوں ۔ کراچی کی آئزل صرف ڈیڑھ سال کی تھی ۔ آج بھی اس کی ماں اکیلی رو رہی ہے ۔
مراد علی شاہ بھی وزیراعلیٰ ہیں ۔ لیکن انہوں نے ایک بار بھی آئزل کا نام نہیں لیا ۔ کیا مراد علی شاہ کراچی کو سندھ کا حصہ نہیں سمجھتے ؟ کیا وہ کراچی والوں کو سندھ کا شہری نہیں سمجھتے ؟ کیا کراچی والے شودر ہیں ؟
کیا کراچی والوں کے جان و مال کے تحفظ کی زمہ داری سندھ حکومت کی نہیں ہے ؟
ہری پور کی آیت نور کی ڈی این اے چند روز میں آچکی ہے ۔ پولیس چھپارہی ہے رپورٹ سامنے نہیں لارہی لیکن کراچی کی آئزل کی ماں 27 روز ہوگئے ہیں ڈی این اے رپورٹ کی منتظر ہے ۔ اس کو بتایا گیا ہے کہ دو ماہ لگیں گے ۔
سہیل آفریدی پھر بھی تنقید کی زد میں ہے کہ نوٹس لینے اور ہری پور آنے میں دیر کیوں ہوئی ۔ لیکن مراد علی شاہ ��ے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ تم نے اب تک آئزل کا نام تک کیوں نہیں لیا ۔ پھر کہتے ہیں سندھ کی تقسیم منظور نہیں ہے ۔
اگر کراچی اور کراچی والوں کو اپنا مان لو تو سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوگا ۔
فیکٹری داخل ہونا ہے تو اللہ رسول کا نام ٹرک سے مٹانا ہوگا
یہ اسلامی مملکت پاکستان ہے یا کفار کا ملک؟
کولا بنانے والی غیر ملکی فیکٹری اپنی اصلیت پر آ گئی
Please help us find Dua Abro. She is missing since August 27th from Larkana (Sindh) #ZainabAlertApp
ZAINAB ALERT
👉FB https://t.co/ZuZr346AIa
👉Twitter https://t.co/3HqZ7ElQ25
➡️Android https://t.co/zC65HrxlZK
➡️https://t.co/ysshLfEsLn
آئی پی پیز کو 2 سال میں کیپسٹی و انرجی چارجز کی مد میں 6047 ارب کی ادائیگیا��
تقریباً 22 ارب ڈالر 2 سال میں دیے گئے، دوسری طرف IMF سے 5 ارب ڈالر کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں، جہاں سے چشمہ پھوٹنا ہے۔ خیر آئی پی پیز پر عظیم قائد کا لازمی شکریہ ادا کریں، قائد تجربہ کار ہیں
آیت نور کیس میں ڈی این اے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات اہم اور تشویشناک ہیں۔ اب پولیس کے باضابطہ مؤقف کا انتظار ہے۔
یہ ایک انتہائی حساس اور عوامی اہمیت کا مقدمہ ہے۔ پولیس کو فرانزک رپورٹ کی حساس تفصیلات ظاہر کیے بغیر کم از کم ڈی این اے کے بنیادی نتائج اور ان کے تفتیش پر اثرات سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر رپورٹ پولیس کو موصول ہوچکی ہے تو اس پر خاموشی مزید سوالات کو جنم دے گی۔
پولیس واضح کرے کہ ڈی این اے رپورٹ میں کیا سامنے آیا ہے اور تحقیقات اب کس سمت میں جارہی ہیں۔
یہ ڈیڑھ سال کی معصوم بچی کراچی کی آئزل ہے ۔ جس کیساتھ 4 اگست کو درندگی ہوئی اور آج 26 روز گزر چکے ہیں لیکن ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی ۔ بچی کی والدہ جب تھانے گئی تھی تو وہ بتاتی ہیں کہ ملزم منان ہنس رہا تھا ۔
جبکہ والدہ کہتی ہیں کہ ان کو بتایا گیا ہے ڈی این اے رپورٹ آنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں ۔
آیت نور کی موت کی وجہ تو کم از کم بتادی گئی ہے لیکن آئزل کے پوسٹ مارٹم میں وجہ کو محفوظ کرلیا گیا ہے بتایا نہیں گیا ۔ کیوں ؟
قصور کی زینب انصاری کی لاش 9 جنوری 2018 کو ملی۔ 12 جنوری تک DNA analysis سامنے آ چکا تھا۔ جبکہ 1150 لوگوں کا ڈی این اے لیا گیا اور 814 ملزمان سے ڈی این اے کو میچ کیا گیا تھا جس میں سے عمران علی کا میچ ہوا تھا ۔ جبکہ یہاں تو ملزم بھی گرفتار ہے اور ایک ہی ہے تو پھر اتنی تاخیر کیوں ؟
آئزل کی والدہ کے مطابق ملزم کے خاندان کی طرف سے منان کو کم عمر اور ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں انصاف کی امید نظر نہیں آ رہی اور وہ انصاف کے لیے سڑکوں پر آواز اٹھائیں گی۔
#JusticeForAyatNoor #JusticeForAizal
My name is Harmeet Singh.
I am the first Sikh anchor in Pakistan’s 79-year history
My only “crime” is that I work as a journalist in Pakistan, ask questions and try to speak the truth.
I appeal to journalists organizations, press freedom groups, and human rights organizations around the world to take notice of what is happening to journalists in Pakistan.If a journalist’s only crime is asking questions and speaking the truth then the world must ask: When did journalism become a crime?
@pressfreedom@FreeThePressNow@RSF_inter@IFJGlobal
@IPI_Global
@rorypecktrust
#HarmeetSingh #JournalismIsNotACrime #PressFreedom #JournalistSafety #Pakistan #FreedomOfPress #JournalistsInDanger
کراچی میں یہ لوگ آج پیٹرولیم لیوی کے خلاف پیدل مارچ کررہے ہیں 22 کلو میٹر پیدل چلیں گے ۔ 50 پلس بابوں کو بھی جاگرز پہنوادئے ہیں ۔ ایسے احتجاج روز ہونے چاہئیں پیٹرول سستا ہو یا نہ ہو ۔ ایک تو ان لوگوں کی صحت اچھی ہوجائے گی دوسرا کم از کم عام لوگوں کو بھی شعور ملے گا پیٹرولیم لیوی ٹیکس نہیں بھتہ ہے ۔ جو دن دہاڑے حکومت وصول کررہی ہے ۔
اس ویڈیو کو نظر انداز نا کریں۔۔۔!!
سال 1991 میں موسی/لالہ ولد مظہر جان (شاید نام میں کوئی غلطی بھی ہو) قلات کے علاقے منگوچر میں کسی پولیس کاروائی میں بازیاب ہوا تھا۔ یا تو کسی نے اغواء کیا تھا یا اسکے خاندان میں کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔
برائے مہربانی دنیا بھر میں اس ویڈیو کو پھیلائیں۔ انکے خاندان کو کوئی بھی شخص یہ ویڈیو دیکھے اور ہم ��ے رابطہ کرے۔
وٹس ایپ:
03162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof #balochistan #qallat #quetta #Missingperson
کل رات میں اپنی میڈیسن لینے سول ہسپتال کے سامنے کلینکس پر گیا تو ایک آدمی اتنے رش میں خاموشی سے میرے پاس آیا مجھے پرچی دکھائی کہ ماں کا آپریشن ہوا ہے مگر اندر ہسپتال سے دوائی نہیں مل رہی میرے پاس پیسے نہیں ہیں مجھے یہ دوائیاں لے دیں۔ رو رہا تھا وہ۔ ابھی کچھ دن پہلے میں بھی ایسے حالات سے گزرا ہوں۔ اس کو ساری دوائیاں لے دیں جتنی مدد کر سکتا تھا کردی۔
سوال یہ ہے کہ پنجاب میں کہا جاتا ہے کہ سول ہسپتال میں ��لاج بلکل مفت ہے مگر آپ حقیقت میں وہاں جاکر دیکھیں لوگ مر رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔
یا اللہ ہم پر رحم فرمادے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی حاجی امتیاز کو پشاور جاتے ہوئے راستے سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ حاجی امتیاز پارٹی اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔
جس ملک میں رکن اسمبلی محفوظ نہ ہوں وہاں عام پاکستانیوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
#EndEnforcedDissapearences
آیت نور کے والد محمد شفیق نے سماء نیوز کی اینکر مدیحہ نقوی کو بتایا ہے کہ پہلے روز ہی میں نے پولیس کو اس ملزم کا بتادیا تھا جو آیت نور کو لیکر گیا لیکن پولیس نے اس کو نہیں پکڑا ۔
پولیس رپورٹ درج کرانے کے دو ڈھائی گھنٹے بعد آئی اور قریبی گھر سے سی سی ٹی وی فوٹیج لیکر چلی گئی ۔
پھر یہ تین چار روز آتے رہے ۔ میری نشاندہی پر اس لڑکے کے بڑے بھائی کو لیکر گئے تین روز بعد چھوڑ دیا ۔ جب تھانے جاکر پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ اس کو تمہارے کیس میں نہیں پکڑا بلکہ اس کا کوئی لڑکی کا ایشو تھا ۔
محمد شفیق نے بتایا کہ دس بارہ روز گزر گئے پولیس نے کچھ نہیں کیا تو انہوں نے احتجاج کیا ۔ پھر ڈی پی او نے 24 گھنٹے کا وقت مانگا ۔ لیکن کچھ نہ ہوا ۔ پھر احتجاج کیا گیا ۔ پھر وقت مانگا ۔ پھر ڈیلے کردیا ہم نے ۔ پھر کچھ نہ ہوا تو ہم نے احتجاجی دھرنا دیا
پھر ڈی پی او آفس میں پولیس نے مجھے سی سی ٹی فوٹیجز دکھائی جس میں نے ان کو بتایا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کی میں نے پہلے دن نشاندہی کی تھی کہ یہ میری بچی کو لیکر گیا ہے اور یہ ہمارے محلے میں رہتا ہے
پھر پولیس نے اس کو جاکر پکڑا ۔ اور آیت نور ��ی لاش کنویں سے ملی ۔
یہ سارا سر پولیس کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت آشکار ہورہی ہے ۔ پتا نہیں انہوں نے کیس میں اور کیا کچھ نہیں کیا ہوگا ۔ اس لئے ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشیکل دیا جائے جو تحقیقات کرے اور اصل حقائق بھی سامنے لائے ۔
اور آیت نور کو انصاف بھی مل سکے ۔
#JusticeForAyatNoor
تلاش گمشدہ
عبد اللہ ولد عبد الرحمان ۔ عمر 27 سال ۔ راجہ بازار میں کپڑے کی دکان ہے۔ 28 اگست 2026 کی شام 8 بجے اپنی کپڑے کی دکان سے کاروباری پیمنٹ لینے کے لیے سکستھ روڈ کے لیے نکلا لیکن نہ سکستھ روڈ پہنچا اور نہ ہی کسی اور جانب سے کوئ اطلاع موصول ہو سکی ہے۔ رات گیارہ بجے تک فون نمبر 03175862156 آن تھا لیکن اسکے بعد بند ہو گیاہے۔ آخری مرتبہ 8:20 کے لگ بھگ کزن سے بات ہوئ جسے بتایا کہ سکستھ روڈ پیسے لینے جا رہا ہوں اسکے بعد گھر آؤں گا۔ اسکے بعد سے نہ تو کسی کے ساتھ رابطہ ہو سکا اور نہ ہی کسی رشتہ دار کی کال یا میسج کا جواب دیا۔ گھر پیر ودھائ کے نزدیک واقع ہے، 125 موٹر سائیکل نمبر BLS 7529 پر سوار تھا۔ تاحال لاپتہ ہے۔ آبائ تعلق باجوڑ سے ہے۔ گھر والے پریشان ہیں۔ برائے مہربانی اگر نوجوان سے متعلق کسی دوست کے پاس کوئ اطلاع ہو تو مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
منجانب: اورنگزیب ۔ بھائ ۔
رابطہ نمبر :
03145360371
تلاش ورثاء۔۔۔تھانہ گوجرہ
یہ بچی تھانہ گوجرہ منڈی بہاءالدین کے قریب سے روتی ہوئی ملی ہے۔ اور ابھی تھانہ گوجرہ میں موجود ہے۔ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ بچی کے خاندان تک پہنچ سکے۔۔۔جزاک اللہ
ہری پور پولیس نے آیت نور کے والد محمد شفیق کو ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیجز نہیں دکھائیں۔ بعد میں دھرنا دیے جانے کے بعد جب یہ فوٹیجز ان کو دکھائی ��ئیں تو محمد شفیق نے ایک اس لڑکے کی شناخت کی۔ پولیس نے اس لڑکے کو حراست میں لیا اور اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آیت نور کی لاش بازیاب ہوگئی۔
محمد شفیق کے مطابق یہ وہی لڑکا تھا جس کی نشاندہی انہوں نے آیت نور کے لاپتا ہونے کے پہلے ہی روز کردی تھی۔ اس وقت بچی کو لاپتا ہوئے تقریباً پانچ گھنٹے ہوئے تھے۔ اگر اس مرحلے پر اس نشاندہی کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ شاید آیت نور کو بروقت تلاش کیا جا سکتا تھا اور آج شاید وہ زندہ ہوتی
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز ابتدا ہی میں بچی کے والد یا خاندان کے دیگر افراد کو کیوں نہیں دکھائیں�� جبکہ ایسے مقدمات میں اہلِ خانہ مقامی افراد، راستوں اور مشتبہ چہروں کی شناخت میں تفتیشی ٹیم کی مدد کرسکتے ہیں۔
اس لیے پولیس کو واضح کرنا چاہیے کہ فوٹیجز خاندان سے فوری طور پر شیئر نہ کرنے کی وجہ کیا تھی، اس فیصلے کا ذمہ دار کون تھا
آیت نور کو تلاش کرنے کے بجائے پولیس بچی کے والد محمد شفیق کو ہراساں کرتی رہی ۔ بچی کا والد خود بتارہا ہے کہ پولیس نے کہا کہ یہ بچی آپ کے ہی نہیں ۔ مجھے پیدائشی اور دیگر سرٹیفکٹس دکھا کر ثابت کرنا پڑا کہ میری ہی بچی ہے پھر کہا کہ آپ پہلے سے شادی شدہ تھے آپ کی بیوی بھی پہلے سے شادی شدہ ہے یہ آپ کی دوسری شادی ہے ۔ پھر پولیس ان کے گاؤں گئی ۔ وہاں بھی یہی باتیں کی ۔ اس کے بعد بھی پولیس ان کو پریشان کرتی رہی بجائے آیت نور کو تلاش کرنے کے
#JusticeForAyatNoor