کہتے ہیں، منہ کو خون لگ جائے تو پھر شکار کی عادت نہیں جاتی۔ اپنے ہی عوام کو 'ہارڈ اسٹیٹ' کے نام پر گولیاں مارنا، انہیں انتشاری اور دہشت گرد ثابت کرنا، کمزور بیانیے گھڑ کر اپنا دفاع کرنا، اشرافیہ کو ساتھ ملا کر ہر ظلم کو معمول بنانا، انتخابات کے نام پر دھونس جمانا، جبر کے ذریعے عوام پر حکومتیں مسلط کرنا، اور پھر اس سب پر اپنے مہروں سے جشن منوانا... صاحب، منہ کو خون کی عادت لگ چکی ہے۔ بہتر ہے شیشہ تبدیل کرنے کے بجائے چہرے پر غور کریں۔ غلطی پر صرف شیطان اڑتا ہے؛ خود کو چند ساعتوں کے لیے ہی سہی، انسان سمجھ کر دیکھیں۔ مریم نواز خان
@maryamnawazkhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
"جب ارشد شریف شہید کو مارا گیا تو میڈیا کو متحد ہونا چاہیے تھا چینلز بند کر کے گھر چلے جانا تھا۔ پوری دنیا میں میڈیا کی آزادی کی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ آپ بھی اپنے حقوق کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔ کشمیر میں اتنے لوگ شہید ہوئے میڈیا پر ایک لفظ نہیں بولا گیا کیوں؟ اس طرح تو عوام کا اعتماد میڈیا سے اٹھ جائے گا جب عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو کس نے چینلز دیکھنے۔ یقین کریں متحد ہوکر جدوجہد کریں گے تو آزاد ہو جائیں گے"۔علیمہ خان