Pakistan is grappling with numerous social issues:
Poverty
Unemployment
Illiteracy
Corruption
Healthcare Crisis
Gender Inequality
Child Labor
Water Scarcity
Inflation
Terrorism
Sectarianism
Drug Abuse
Environmental Pollution
Population Growth
Violence Against Women & Children.
"In 2024, Pakistan's poverty rate surged to 25.3%, with an additional 13 million people falling below the poverty line. This isn't just a number—it's millions of lives affected by economic hardship. It's time we confront this crisis with urgency and compassion. #EndPoverty
As a Muslim and a human, I stand with Palestine. The brutal oppression, genocide, and injustice faced by innocent Palestinians cannot be ignored. It's time Islamic governments rise and fulfill their duty by supporting Palestine, even through Jihad if necessary.
We urge all humanity, especially Muslims, to fully boycott Israeli products and brands that fund this cruelty. Silence is complicity. Let us raise our voices, take action, and pressure leaders to stand firm for justice. Together, united,
دنیا میں اس وقت یہودی آبادی 15.7ملین ہے جو ٹو ٹل 1.5 کروڑ بنتے ۔ جبکہ دنیا کی 25% آبادی مسلمان ہے جو تقریبا 1.8 بلین بنتی ۔لیکن وہ 1.5 کروڑ یہودی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ گرا رہا اور دنیا کی 25% آبادی جو مسلم امہ وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی
1/4
لیکن ہماری ترجیحات پی ایس ایل ہے ، ہماری ترجیحات سیاست میں ایک دوسرے کو گرانا اور گندا کرنا ہے، ہماری ترجیحات امریکہ کے ساتھ روابط استوار کرنا ہے کیونکہ وہ ناراض ہوا تو عالمی بینک امداد روک دے گا
ہوئی
3/4
دل میرا تو اداس تھا ہی نہیں
شخص وہ مجھ کو راس تھا ہی نہیں
کیسے پہچانتے وہ میرا وجود
میں کبھی بے لبا�� تھاہی نہیں
ڈھونڈتا ہے جواب جس خط کا
اس کا میں اقتباس تھا ہی نہیں
تھا گلہ بھی تو کوئی رسمی تھا
دل میرا نا سپاس تھا ہی نہیں
1/2
میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے
میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے
میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی
میں تو وہ تھا جسے یاد نہیں کرتا کوئی
تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے
جیت جائے گا کسی روز تیرا غم مجھ سے
وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے
تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا
چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے
یہی ہوتا ہے یہی ہو گا یہی ہونا تھا
پوچھتا رہتا تھا کہ تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے
اور میری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
میں نے اندازے سب لگائے کہ سبب کیا ہو گا
پر میرے تیر ترازو ہی نہیں ہوتے تھے
تجھ سے شکوہ بھی کرتا تو کیسے کرتا
میری قسمت می�� ہی جب خالی جگہ لکھی تھی
میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے
میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے
ایک غریب کی ماہانہ تنخواہ 37000 مقرر ہے اور اس فسطائیت بھرے نظام کی بے انصافی یہ ہے کی یہاں ایک ٹوٹی موٹر سائیکل چلانے والا ایک چالان 2000 کا ادا کر رہا
شرم تم کو مگر نہیں آتی