@atifthepoet ہرگز گراں نہ گزرے گا تاہم آرا کو احترامِ باہمی اور حسنِ ظن سے آراستہ ہونا چاہیے، کیونکہ انسانی جذبات کی نسبت مذہب سے نہیں، بلکہ انسانیت سے استوار ہوتی ہے ۔ محترمی آپ قلم فرسا کیساتھ ساتھ رّافِ اسرار بھی معلوم پڑھتے ہیں ۔
یوتھڑ انصحافی جتنا مرضی پراپیگنڈا کر لیں لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام تاریخ میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے جج کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے چند بہترین ججوں میں سے ایک
آج کا مونال والا فیصلہ مارگلہ ہلز پر قبضے کی راہ کھول دے گا
پاکستان میں ہر جگہ ہاوسنگ سوسائٹیز والے لینڈ مافیا والے کھا گے راولپنڈی کے گرد ڈیم کی زمین ملک ریاض نگل گیا پرویز الہی نے سرکاری جنگل اسے الاٹ کر دیا شاملات کے جنگل پر ہاوسنگ سوسائٹی بن گئ مار گلہ ہلز نیشنل پارک ہے اس اربوں ڈالر کی زمین پر بہت سوں کے رال ٹپک رہے کچھ عرصہ میں دیکھ لیجئے گا یہ ساری سرسبز پہاڑی کنکریٹ کا جنگل ہو گی
بندر باٹ ہوا ہی چاہتی ہے
غریبوں کی بری امام میں بستیاں گرانی والی افسر کو سرکاری تمغہ دیا گیا اور الیٹ کے مونال اور کانسٹیٹیوشن ایونیو والے فیصلے کالعدم ہو گئے
ایسا دیس ہے میرا
جمہوریت میں تنقید ہوتی ہے لیڈران اعتراض کرتے ہیں مولانا صاحب کی باتوں سے اختلاف ممکن ہے نون کے بڑے لیڈران میں سے کوئی ان کی باتوں کا حقائق سے دلائل سے جواب دے مکالمہ ہی حل ہے مولانا کو قائل کر لیں یہ آپ کے برے وقت کے ساتھی رہے ہیں محب وطن ہیں آپ کے لئے کوئی مسلہ نہی بنائیں گے
مگر گالم گلوچ تلخی کے علاوہ کسی کام نہی آئے گی اس وقت پاکستان میں بہت محاذ کھلے مزید مت کھولیں
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں اکثر نعروں اور جلسوں سے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی "نہ" سے آتی ہیں۔ مغرب میں جو جمہوریت بنی، وہ کسی ایک دن کی تحریک کا نتیجہ نہیں تھی۔ لوگوں نے صدیوں تک ٹیکس دینے سے انکار کیا، غیر منصفانہ قانون کو خاموشی سے نظر انداز کیا، اپنے حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہی خاموش مزاحمت تھی۔ حکمرانوں نے جب دیکھا کہ عوام کا دل ان کے ساتھ نہیں، تو کچھ نے طاقت سے دبانے کی کوشش کی، اور کچھ عقلمندوں نے راستہ بدل لیا، اصلاحات کیں۔
پاکستان کا معاملہ: یہاں عوام چیخ کر احتجاج کم کرتے ہیں، مگر اپنا ردِعمل روز دیتے ہیں۔ کوئی ووٹ ڈالنے نہیں جاتا، کوئی ٹیکس کے نظام پر اعتماد نہیں کرتا، کوئی اداروں کی بات پر یقین نہیں کرتا، کوئی ملک چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ یہ سب خاموش مزاحمت کی شکلیں ہیں۔
اور حکمران کا ردِعمل؟
گرفت مضبوط کرنے کی کوشش۔ میڈیا پر کنٹرول، قانون سخت، اختلاف رائے پر قدغن۔ مگر"دیمک لگ چکی ہے" —
جب اعتماد کی بنیاد ہی کھوکھلی ہو جائے تو عمارت کو باہر سے جتنا مرضی رنگ روغن کر لیں، اندر سے وہ کمزور ہوتی جاتی ہے۔
خاموش مزاحمت کا سب سے بڑا ہتھیار یہی ہے کہ اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اس پر لاٹھی چارج نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔ اور دل جب پھر جائے، تو تخت ہل ہی جاتے ہیں، چاہے آج ہلیں یا دس سال بعد۔
سوال یہ ھے کہ دیمک کس مرحلے پر ہے؟ ابھی صرف لکڑی کو لگی ہے، یا ستونوں تک پہنچ چکی؟
حاجی پاشا
@K4mi_i تنقید ہے تنقید ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور وہ اس ملک کے سٹیک ہولڈر ہیں انکی چالیس سالہ سیاسی جد وجہد ہے، سیاست میں وہ اپنا ثانی رکھتے ۔ اور بعد میں سب انکی قدم بوسی کے لئے پہنچتے ہیں۔ کوئی بات نہیں بزرگ سیاست دان ہیں ان کی باتوں کو مثبت لیا جائے اور انکے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا
جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا
تین سو یونٹ مفت بجلی کا وعدہ نون لیگ اور پی پی نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا پی ٹی آئی تو نئی جماعت کبھی اقتدار میں نہی رہی تھی اس کے وعدوں پر تو بندہ کہہ سکتا انکو حقائق پتہ نہی تھے مگر نون اور پی پی تو اقتدار کی پرانی جماعتیں وہ مفت بجلی کا وعدہ کچھ سوچ کر کر رہی تھئں اب یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں مفت تو چھوڑ دیں آنہوں نے سو یونٹ تک بل اتنا بڑھا دیا کہ گرمئ میں لوگ بجلی بند کر کے بیٹھے کہ بل دینے کی سکت نہی ہے
اقتدار لیا ہے تو وعدے پورے کرو
پنجاب میں اس وقت لوگوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے اور افسر شاہی نے مریم صاحبہ کی سیاسی تباہی کا مکمل بندوبست کر دیا ہے اس قدر مہنگائی اور بجلی کے بل گیس کے بل ہیں ایسے میں پیرا فورس جیسے بدمعاش غریب پر چھوڑ دیے ہیں
خدا کے لئے لوگوں کے کاروبار تباہ مت کرو
ہزاروں طالبات کی خاطر مریم نواز صاحبہ کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوا ہوں۔۔۔
مریم نواز صاحبہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرنا ہم بے بس عوام کا آخری لیول ہے، امید ہے کہ مریم نواز صاحبہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں گی۔ سیالکوٹ وومن یونیورسٹی نواز شریف صاحب کا منصوبہ تھا، پھر شہباز شریف صاحب نے اسے آگے بڑھایا، اب بیوروکریسی نے وزیر اعلی پنجاب کے سامنے جھوٹ بول کر، ریکارڈ چھپا کر، بد دیانتی کرتے ہوئے یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی میں سے 120 ایکڑ اراضی واپس لے کر وہاں بیوروکریسی کے دفاتر بنوانے کی منظوری کروائی ہے۔ یہی بیوروکریسی گزشتہ 20 برس سے عدالتوں میں اس اراضی کو بچانے کیلئے کیس لڑتی آ رہی ہے لیکن آج سیالکوٹ کے چند لینڈ مافیاز کے فرنٹ مین بنتے ہوئے بیوروکریسی نے اپنا مئوقف بدل لیا ہے۔
پاکستان میں جو لوگ بیٹیوں والے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم کے حامی ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ پر آواز اٹھائیں تاکہ پنجاب حکومت لڑکیوں کی یونیورسٹی کی اراضی چھیننے کا کابینہ کا فیصلہ واپس لے
@MaryamNSharif
#Punjab #Woman #WomenRights #Education
تفصیل سن لیجئے شہباز شریف کے راج میں سب پیٹرولیم کمپنیوں کے منافع دو تین گنا بڑھ گے
مگر اس دوران پاکستان میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے سرک گے
غریب سے لوٹ کر الیٹ کو دینے کا ماڈل بھی شہباز ماڈل کہلائے گا
کل رات ایران امریکا ایک معائدے کے نکات پر متفق تھے
ایران جوہری معاملے سمیت تمام معاملات سے پیچھے ہٹ گیا تھا
یہ بات پاسدران کو پتہ چلی تو ایک گھنٹے کے اندر ہی آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر کے پین یکی کا واجا وجا دیا گیا۔ ٹرمپ
ناروے والے ہار گئے ٹورنامنٹ سے واپس جا رہے مگر جو خوشی جو تفریح وہ دے گے وہ یاد رہے گی امریکہ میں ائرپورٹ سٹاف کافی بدتمیز اور خشک ہوتا ہے مگر چیک کریں ساتھ بیٹھے انجوائے کر رہے ہیں
یہی سپورٹ کی سپرٹ ہوتی جیت ہار تو کھیل کا حصہ ہے
بلیو پاسپورٹ،تنخواہیں/مراعات بڑھانے،استثنی،اجتماعی فوائد کے لیے اسمبلیوں میں سب جماعتوں کے ارکان اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
یہ
"میثاق معیشت"کے لیے کیوں اکٹھے نہیں ہوتے؟
حالانکہ معیشت بہتر ہو گی تو بھی ان کو مزید فوائد حاصل ہونگے۔