جب وزیر اعلی سہیل آفریدی آپ سے ڈیمانڈ کررہا تھا، آپ کو صوبے کے خزانے سے پیسے ادا کئے گئے تھے، تب آپ یہ مشینری کیوں صوبائی حکومت کے حوالے نہیں کررہے تھے؟
The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi and Speaker of the provincial assembly Babar Saleem Swati are still missing after they were abducted on Sunday from their official residence by the military regime of General Asim Munir.
#AsimLaw#EndEnforcedDissapearences
دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر آرٹیکل 234 کا سہارا لے کر گورنر راج نافذ کرنے کا جواز اب کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔ اگر مقصد واقعی دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے بکتر بند گاڑیاں کیوں فراہم نہیں کی گئیں؟ کسی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے وسائل چھین کر، پھر اسی دہشت گردی کو اس کے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تضاد خود بہت کچھ بیان کرتا ہے
وفاق کی منافقت کھل کر سامنے آگئی ، عوام یاد رکھے ان کا مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں تھا پی ٹی آئی کی منتخب حکومت گرانا تھا ۔ دہشتگردی کے خلاف پولیس کو کو سامان چاہئے تھا جس کی پیمنٹ مہینوں پہلے ہوچکی تھی وزیراعلی سہیل آفریدی نے بار بار ریکوئسٹ کی کہ ہماری پیمنٹ ہوچکی ہمیں سامان فراہم کیا جائے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج گورنر راج لگے ابھی 24 گھنٹے نہیں ہوئے تھے کہ وہ سامان خیبرپختونخوا پہنچا دیا گیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں بلکہ تحریک انصاف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل تھا۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
عمران خان پر تو 300 مقدمات بنالئے، لیکن آج تک کوئی ایک ڈھنگ کا کرپشن کا مقدمہ نہ بنا پائے اور نہ ہی ثابت کر سکے۔ چلیں، ایک اور شروعات کیجیے اور اپنی تصوراتی دنیا کو حقیقت کا روپ دیجیے۔
وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے خاندان پر جو کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، انہیں کھلی عدالت میں براہ راست نشریات کے ذریعے ثابت کیجیے۔ پختونخوا کے عوام کو بتائیے کہ جسے آپ نے تاریخی مینڈیٹ دیا، وہ دراصل کرپٹ تھا اور آپ کے پیسوں سے جائیدادیں، بیرون ملک فلیٹس اور آف شور کمپنیاں بنا رہا تھا یا ٹھیکوں اور تقرریوں تبادلوں سے کمیشن کھا رہا تھا۔
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
ہم سول سوسائٹی اور تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ بہت بڑا حملہ ہے۔ ہم سب، جس کو پاکستان عزیز ہے، جس کو جمہوریت عزیز ہے، ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس بلا کے خلاف اکٹھے ہوں۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
11 اکتوبر سے پہلے خیبرپختونخواہ کے علاوہ پورے پاکستان پر CEO محسن نقوی کا قبضہ تھا، عدالتیں انہوں نے احسن بھون، اعظم تارڑ اور منصور اعوان کے زریعے قبضہ کروائے۔ قومی اسمبلی پر شہباز شریف اور آصف زرداری کو فارم 47 پکڑوا کر ان دونوں سے نشر مکرر قبضہ کروایا۔
جہاں ان کی مرضی کی حکومت نہیں تھی، ان کی بات نہیں مانی جارہی تھی، ربڑ سٹیمپ کی طرح کوئی استعمال نہیں ہورہا تھا، خیبرپختونخواہ کے وسائل سرنڈر نہیں ہورہے تھے، مزاحمت دکھائی دے رہی تھی وہاں پر بدمعاشی سے 2 مہروں سے دستخط کروا کر 92 منتخب ممبران اور 4 کروڑ کی ابادی والے صوبے کے عوام کے ووٹوں کو چلتا کیا۔۔۔
یہ جبر وظلم آپ کے چہروں کا کلنک ہے، اس کو دھونے کیلئے آب زم زم بھی کافی نہیں ہوگی۔
انشاءالله بہت جلد آپ کی ریت سے بنی ہوئی دیوار کو گرائیں گے۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
Sohail Afridi, Junaid Akbar and other young PTI leaders have written their names in history for the courage & boldness with which they have faced the might of the state. Imran Khan must be immensely proud of their struggle.
" حکومت قربان کر دی مگر پختونوں کے سر کا سودا نہیں کیا "
سہیل آفریدی نے بھی حالیہ دنوں میں کم و بیش یہی جملہ اپنی تقاریر میں تسلس کے ساتھ استعمال کیا جو اب شفیع جان کا بیان ہے بی بی سی نے بھی رپورٹ کیا ۔ یہ ایک مکمل سیاسی مقدمہ ہے اور تحریک انصاف کے بیانیے کی شاید یہی ٹیگ لائن ہو !
وزیراعلی خیبر پختو خوا کے علاوہ آج سپیکر ہاؤس خیبر پختونخوا پر بھی فوجی وردیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سینکڑوں لوگوں نے حملہ کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی @BabarSaleemSwat، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید @AbdulKhalidPTI اور سٹاف کے ممبران سمیت کئی افراد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
اس دوران سپیکر ہاؤس میں فائرنگ بھی کی گئی، توڑ پھوڑ بھی کی گئی
The whereabouts of the elected Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi, are unknown after he was abducted this morning, said Pakistan Tehreek-e-Insaf Secretary General @salmanAraja. “We don’t know where he is or what conditions he is being kept in.” #AsimLaw #EndEnforcedDissapearences
حکومت نے بات ماننے کے باوجود back out کیا ہے، میں اس بات کا گواہ ہوں، کمٹمنٹ توڑی ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ کے پیچھے چھپنے کا کوئی جواز نہیں۔ مولانا فضل الرحمان