عمران خان اتنے انصاف پسند ہے کہ جب انڈین بیٹسمین سری کان�� آؤٹ ہونے کے بعد فیصلے سے ناخوش تھا تو عمران خان نے واپس بلایا اور وقار یونس کے اگلی بال پر پھر آؤٹ ہوا۔
کرکٹ کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ ہے ♥️
🚨🚨عمران خان کا پیغام
میرے لوگوں سے کہوں کہ میرے ساتھ یہ بہت ظلم کررہے ہیں، مجھ پر مسلسل ظلم کررہے ہیں
عمران خان نے کہا میرے ساتھ ظلم کر رہے ہیں مجھے ٹارچر کر رہے ہیں، دس ماہ سے مجھے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے کوئی Human contact نہیں ہوتا، مجھے پڑھنے کا مواد فراہم نہیں کیا جاتا، جیل میں کوئی میری بات نہیں سنتا، خیال ہی نہیں کرتے، ایک ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ آپ کو جو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا وہ ذہنی د��اؤ کی وجہ بنا ہے، عمران خان نے مجھے کہا کہ تم بتاؤ یہ میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں، یہ انسان نہیں ہیں جو یہ سب کر رہے ہیں، ڈاکٹر عظمیٰ خان
دھوکے سے بنی حکومت ہر بات میں دھوکے ہی کر تی ہے۔ پمز ہو یا شفاء۔۔ قیدی نے پھر آپ کے منہ پر لعنت ہی ڈالی ہے۔۔ ڈیل کے لفظ سے ہی اس کونفرت ہے۔ اس ساری کہانی میں البتہ سب کو یہ پتہ چل گیا کہ مقبولیت آج بھی قیدی کے سامنے ہاتھ باند کر کھڑی ہے۔
سڑکوں پر پھول ، پھولوں کی مہک ،نظر آتی پتیاں ، دلوں کی دھڑکنیں ، نم آنکھیں بتا رہی ہیں چار سالوں کا ظلم ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، جبر ، سچ پر جھوٹ کا قبضہ تمام ناکام ہو چکے ہیں، راستہ کتنا بھی دشوار کیوں نہ کٹ ہی جاتا ہے
یقینا #اللہ کی مدد ہی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے،
طلعت صاحب۔ پھر مانتے ہیں نا خان کو استاد؟ کیسا آپ سب کو چاروں شانے چت کیا ہے ماشاءﷲ، ناحق قید کے باوجود؟
یہ کسی انسان کی تخلیق کردہ Hype نہیں۔ یہ اللّه کا فضل ہے جو نیت کے سچے لوگوں پر ہوتا ہے۔
بےشک میرا رب بڑا بےنیاز ہے۔
کسی قیدی کی اتنی دہشت ہو اور اتنا پروٹوکول دینا پڑ جائے تو اس کے لیے وزیراعظم کا عہدہ انتہائی چھوٹا ہے وہ تو پیدائشی لیڈر ہے اور اسے کہتے ہیں اسٹیٹس مین۔
یہ مح�� ایک شخص کی آمد نہیں، ایک جذبے کی پذیرائی، ایک عہد کی گواہی اور عوامی محبت کا وہ منظر ہے جسے وقت کے اوراق مدتوں یاد رکھیں گے
وہ جو بڑے وثوق سے کہا کرتے تھے کہ پی ٹی آئی ختم شد، عمران ختم شد، آج ذرا شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک نگاہ دوڑائیے، اسی نام کی بازگشت چار دانگِ عالم میں سنائی دے رہی ہے۔ وہ شخص عجب استقامت، بے مثال حوصلے اور مردانہ وار ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹا رہا کہ بالآخر گردشِ حالات کو اس کے قدموں میں جھکنا پڑا۔ جن اہلِ نظر کو اس کی مقبولیت کے زوال کا بڑا زعم تھا، وہ بھی آج کا منظر ملاحظہ کرلیں اڈیالہ کی اسیری سے شفا اسپتال تک خلقِ خدا دیدہ و دل فرشِ راہ کیے کھڑی ہے، گُل پاشیاں ہو رہی ہیں، صدقے دئے جا رہے ہیں، لمبی عمر کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں، نوافل ادا کئے جا رہے ہیں اور لوگ یوں گھروں سے نکل آئے ہیں جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا کوئی اپنا، کوئی عزیز، کوئی محبوب لوٹ کر آ رہا ہو۔ یہ محض ایک شخص کی آمد نہیں، ایک جذبے کی پذیرائی، ایک عہد کی گواہی اور عوامی محبت کا وہ منظر ہے جسے وقت کے اوراق مدتوں یاد رکھیں گے