🚨The horror never ends in #Pakistan. Students are not safe. Look at how students are detained without due process or accountability.
#StandAgainstOppression
🚨اہم ترین
سرحد یونیورسٹی میں آج کرنل اسفند یار کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے کربل اسفندیار کی اہلیہ کی مدعیت میں پروفیسر جدون سمیت 25 سے زائد طلباء و طالبات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،
یہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے، اسلام آباد پولیس یونیورسٹی میں طلباء کو یقین دہانیاں کرواتی رہی کہ کہ فوج کا قانون سخت ہے کرنل کے خلاف کاروائی ہوگی لیکن اب طلباء کے ہی مستقبل کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، یہ ظلم کی انتہا ہے
جمائما گولڈ اسمتھ، عمران خان کی سابق اہلیہ نے ایک بار پھر اپنی حکومت سے عمران خان کے کیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ پاکستانی سیاست کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ بن چکا ہے۔ عمران خان کو بد تریں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
🚨اہم انکشاف
ہم سے ہمارے فون مانگے جا رہے ہیں تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں اور ساتھ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ" ہم تمھارے ساتھ اور تمھارے گھر والوں کے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے "
طالبہ
سپریم کورٹ کے ان تین ججز نے حکم دیا وفاقی حکومت نے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا، تحریک انصاف نے اب توہین عدالت دائر کردی ہے
ان تینوں ججز کو اب اپنی اور عدلیہ کی ساکھ اور انصاف کی خاطر لڑنا ہوگا
🚨🚨🚨پاکستانیوں اس گفتگو کا ایک ایک لفظ سنو تاکہ تمھارا غصہ طوفان بن سکے
عمران خان نے بار بار کہا کہ بتاو میرے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے ،
ہمارے لیڈر پر اس قدر ظلم ، کبھی ظالموں تمھیں معاف نہیں کیا جائے گا
توجہ فرمائیں 🚨
پی ٹی آئی کارکنان شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی طرف جانے سے سخت گریز کریں۔
ہسپتال کے باہر جمع ہونے والے کسی بھی نامعلوم افراد سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام احباب پرامن رہیں اور ہدایات پر عمل کریں۔
"تمام کارکنان کا گزشتہ روز کی ذمہ داری پر شکریہ!
گزارش ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے قریب جمع نہ ہوں تاکہ عمران خان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ عمران خان کی صحت و سلامتی ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔"
ایک ہی وقت میں دونوں خواتین کی ہلاکت، اور پھر پولیس کی جانب سے وضاحتیں اس معاملے میں بہت تضاد ہے ۔ سامنے آنے والی ویڈیو میں دونوں خواتین بظاہر صحت مند دکھائی دیتی ہیں اور پولیس کے سوالات کے جواب بھی دے رہی ہیں۔ پھر اچانک دونوں کی موت کیسے ہوئی؟
پنجاب پولیس پر پہلے بھی ایسے معاملات میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس واقعے کی شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، کیونکہ ممکن ہے تفتیش سے کئی اہم حقائق سامنے آئیں۔
@MohsinnaqviC42@OfficialDPRPP
لاہور ٹاؤن شپ تھانہ میں دو خواتین کی ہلاکت کا معاملہ
ورثاء کے مطابق دونوں لڑکیوں میں نند اور بھابھی کا رشتہ تھا۔ پولیس نے پاکپتن کے نواح علاقے میں زبردستی جنازہ کروایا اور لڑکیوں کی فوری تدفین کروائی، لاہور سے پاکپتن نعشوں کی روانگی کے ساتھ پولیس اہلکار ساتھ گئے اور جنازے،تدفین کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی گاڑی میں موجود تھے۔جنازے کے دوران پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں۔
ورثاء کا یہ بھی الزام ہے کہ انکو ابتدائی طور ایک اور ایف آئی آر تھمائی گئی اور بتایا گیا کہ ہم دونوں لڑکیوں کی ضمانت کروائیں بعد میں دوسری ایف آئی آر کا بتایا گیا اور پتہ چلا کہ دونوں کی موت ہوچکی ہے۔ دونوں بچیاں پاکپتن میں اوڈ فیملی کج تھیں اور جھگیوں کی رہائشی تھیں۔