اڈیالہ جیل میں کیا ایک ��یدی کے علاوہ تمام قیدی لاوارث ہیں؟
آج تک پی ٹی آئی نے ہزاروں دیگر قیدیوں کی قید و بند کے حالات کا کبھی ذکر تک نہیں کیا، کسی بہتری کا مطالبہ تو دور کی بات ہے؟
اگر انصاف کی تحریک ��وتی تو سب کے لئے ہوتی۔
پاکستان نے جیسے ایٹمی دھماکوں پر امریکی دباؤ اور لالچ کو مسترد کیا تھا۔
اب حماس کو غیر مسلح کرنے اور فوج غزہ بھیجنے کے لیے امریکی دباؤ اور لالچ کو بھی اُسی جرات سے مسترد کرنا ہو گا
جنرل عاصم منیر اور ٹرمپ کی متوقع ملاقات اصل امتحان ہے، کہ سپہ سالار کا تاریخ میں کیا مقام بنتا ہے۔
سُن سُن کر کان پک گئے ہیں کہ عمران خان نے سسٹم کو ننگا کر دیا اسکو ننگا کرگیا۔سب کو ننگا کر دیا سیاست دانوں کو انکی پارٹیوں کو ننگا کر دیا لیکن عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون سے ناجائز تعلقات رکھے اور پھر اسے شوہر سے طلاق دلوا کر خود شادی کر لیا لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ عمران خان نے اپنی حکومت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا تھا، سب سے بڑا قرضہ لے کر کوئی ایک میگا پراجیکٹ مکمل نہیں کیا، حتی کہ سرکاری شعبے میں کوئی ہسپتال اور یونیورسٹیاں تک نہیں بنائیں،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !آئی ایم ایف سے تاریخ کا بدترین معاہدہ کیا جس کی وجہ سے مہنگائی آج بھی نہیں تھم رہی، 52 ارب ڈالر قرضہ لے کر بھی قومی خزانے میں صرف 11 ارب ڈالر چھوڑے تھے جن میں سے بھی 9 ارب ڈالر سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے رکھے ہوئے تھے، کرونا نہ آتا اور باقی ملکوں کی انڈسٹریاں بند نہ ہوتیں تو اسی دور میں ملک دیوالیہ ہوجاتا،
لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !بیک وقت سعودی عرب، چین، امریکہ، یورپ، ترکی اور ملائشیا سے تعلقات بگاڑ لیے تھے، انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر لیا یہ جواب میں ہارن بجاتا رہا، ایران جاکر دہشتگردی کا اعتراف کر آیا، افغانستان بھاگے ہوئے تمام دہشتگردوں کو بغیر سرنڈر کروائے واپس لے آیا،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !انڈیا، فتنہ الخوارج کے خنزیروں اور بی ایل اے کی حمایت کر کے وہ ننگا نہیں ہواملک کے بڑے بڑے فیصلے اپنی تعویز گنڈوں والی بیوی کی راہنمائی سے کرتا رہا جو فال، شگون اور کالے علم کی روشنی میں مشورہ دیتی رہی،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !کے پی پر 9 سال میں اتنا قرضہ چڑھا دیا کہ وہاں اب سرکاری تںخواہیں اور پنشن دینے کے لالے پڑ گئے، ہر عہدے کے لیے بدترین شخص کا انتخاب کیا، غرض ہر لحاظ سے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے صرف ڈائری لے کر نہیں نکلا تھا بلکہ پورا توشہ خانہ بھی سمیٹ کر لے گیا تھا اور کم از کم 20 ملین ڈالر کے تحائف چرائے، سکھوں نے سونے کا ��وٹا دیا وہ بھی چرا لیا، ساتھ ہی وزیراعظم ھاؤس سے خفیہ دستاویز سائفر بھی لے گیا،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !نواز شریف کی لندن مین 6 ملین پراپرٹی کا حساب مانگنے والے نے ملک ریاض کو اسی لندن سے وصول ہونے والے ثابت شدہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کی رقم آرام سے واپس بخش دی اور اس سے سوال تک نہیں کیا، بدلے میں ملک ریاض سے ہیرے زیورات اور سینکڑوں ایکڑ زمین اور اوپر بلڈنگ تحفتاً وصول کی لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!اپنے حامی تاجروں میں 3000 ملین ڈالر ریوڑیوں کی طرح بانٹ دئیے جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے، ایف بی آر کو ہدایت دی کہ شاہ محمود قریشی اور اسد قیصر کے زمینداروں سے ٹیکس وصول نہ کیا جائے،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !عالمی اداروں نے رپورٹ کی کہ پاکستان میں کرپشن تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے،لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ عمران خان انتہا درجے کا جھوٹا ہے،انتہا درجے کا منافق ہے،انتہا درجے کا توہم پرست ہے،انتہا درجے کا کینہ پرور ہے،اپنی کہی ہوئی باتوں سے پھر جانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتاغل�� فیصلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا،انتہا درجے کا احسان فراموش ہےانتہا درجے کا فسادی ہے،اور انتہا درجے کا متکبر ہےاقتدار کی ایسی ہوس ہے کہ کرسی کے حصول کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا سکتا ہےلیکن وہ ننگا نہیں ہوا😁
تو دل میں تو آتا ہے،سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں،تیری پہچان یہی ہے
وجود باری تعالیٰ کےاثبات میں مفتی شمائل ندوی صاحب کےدلائل اور عدم وجود پر محترم جاویداختر صاحب کےفرمودات ہماری سمجھ سےباہر ہی رہے۔ہمخیال کےجیتنے کی خوشی ہے لیکن محمد علی کلے کےہارنے والےاحساسات بھی تازہ ہوگئے
کہتے ہیں کہ عند الوفات امام غزالی سے شیطان نے وجود باری تعالیٰ کے اثبات پر بحث کی اور انکے نناوے دلائل کا توڑ کر ڈالا۔آخر کار زچ ہو کر انھوں نے فرمایا "اموت علی عقیدۃ امی"("میں اپنی ماں کے عقیدے پر رہتے ہوئے مرتا ہوں"جو بغیر دلیل کے حق تعالیٰ کو مانتی تھیں)۔
"فاش گوئم در دل مضمر است" میں اللہ کے وجود کا اس لیے قائل ہوں کہ اسکی خبر نسل انسانی کے سب سے زیادہ سچے انسان نے دی ہے۔
"دے تو بھی محمد کی صداقت کی گواہی"
واقعہ معراج کو ماننا اس لیے بھی ضروری ہیکہ مجھے بتانے والے نے صرف جبریل کی خبر پر نہیں بتایا بلکہ خود دیکھ کر مجھے بتایا ہے۔
یہ پہلی بات دل میں پیوست کرنے کے بعد استدلال اور مباحث کریں تو بجا ہیں۔یہ پہلی شرط پوری کیے بغیر ایسے مباحث میں پڑنا بجائے خود الحاد ہی کی ایک صورت ہے۔۔۔۔
"تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے "
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل فیصل نصیر کوئی اکاؤنٹ چلائیں گے، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا ڈی جی سی کے کام کو نہیں سمجھتے۔ لیبیا والی تصویر سے پہلے جنرل فیصل کی کوئی پبلک ��پیرنس نہیں ہوئی، وہ آج تک کسی صحافی سے نہیں ملے۔ وہ اولڈ سکول سپائی ماسٹر کی طرح خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ ایک ڈیپ ہیومر پر کل جانے کیا سے کیا بات بن گئی اور اتنی بڑی مہم شروع ہو گئی۔ فیلڈ مارشل اس وقت سعودی عرب کے اہم ترین دورے پر تھے اور ڈی جی سی بھی ساتھ تھے۔ سوچیں، ان کی ایک تصویر سے تحریک انصاف نے کتنی بڑی مہم شروع کر دی۔ آخر ان سے اتنا خوف کیوں ہے؟ جن کے خلاف اس قدر نفرت آمیز مہم ہر طرف سے شروع ہو، سمجھ جائیں وہ ملک کے لیے کوئی بہت بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔
بہت مشکل دور ہے، بہت سنبھل کر چلنا لازم ہے۔
دی وسل بلوئر کی ایکس پوسٹ
بریکنگ نیوز:
گزشتہ 10 دنوں کے دوران بھارتی فوج کے 15 افسران نے کشمیر میں ماورائے عدالت کارروائیوں پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
قیامت کی ٹیکنالوجی
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.
تحریر: اسٹرائیکر راجپوت
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہ��تی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا ��ہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟
👇
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب تم نکمے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، ان کے وعدے اور ان کی امانتیں خراب ہو جائیں گی اور وہ اختلاف کا شکار ہو جائیں گے ، وہ اس طرح ہو جائیں گے ۔‘‘ آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں ، انہوں نے عرض کیا ، آپ مجھے کس چیز کا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جس چیز کو جانتے ہو اسے لازم پکڑو اور جسے نہیں جانتے اسے چھوڑ دو ، اور تم اپنا خیال رکھو اور عام لوگوں (کے عمل) کو چھوڑ دو ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے :’’ اپنے گھر میں رہو ، اپنی زبان پر قابو رکھو ، جو چیز پہچانتے ہو اسے پکڑو ، جسے نہیں پہچانتے اسے چھوڑ دو ، تم اپنی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو ترک کر دو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔رواہ الترمذی و ابوداؤد
عظیم مجاہد ابو عبیدہؒ کا وہ گھرانہ جس نے ان کے ساتھ ہی قربانی کی تاریخ رقم کی—
یہ صرف ایک خاندان نہیں، یہ ایمان، صبر اور وفا کی ایسی مثال ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
ان کی اہلیہ: اِسراء غسان (اُمِّ ابراہیم)
وہ ماں، وہ شریکِ سفر، جس نے صبر کو زیور بنایا۔
ان کی بیٹیاں:
لیان الکحلوت
منّتُ اللہ الکحلوت
وہ کلیاں جو دنیا میں کم کھل سکیں، مگر جنت میں ہمیشہ کے لیے مہک گئیں۔
ان کا بیٹا: یمان الکحلوت
ایک معصوم نام، ایک عظیم قربانی۔
اور پھر ایک بیٹا—
حیات… ابراہیم
وہ جو باقی رہا،
وہ جو امید بن کر زندہ ہے،
وہ جو شہادتوں کے اس قافلے کی امانت ہے۔
میرا دل کہتا ہے وہ سچ کے راستے کا مسافر ہوگا،
میرا یقین ہے وہ حق، انصاف اور وقار کی علامت بنے گا۔
میری دعا ہے کہ وہ ایسی جماعت کا حصہ بنے
جو کردار، حکمت اور استقامت سے حق کا علم بلند رکھے،
جو ظلم، فریب اور باطل نظریات کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے،
اور جو نفرت نہیں بلکہ حق کی طاقت سے دنیا کو بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
بے شک ہمارا رب نہایت مہربان ہے—
وہ شہداء کو اپنی خاص قربت عطا فرماتا ہے
اور غم زدہ دلوں میں صبر، عزت اور حوصلہ اتارتا ہے۔
ہم ناامید نہیں ہوتے،
کیونکہ اندھیری رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو
سحر ایک دن ضرور طلوع ہوتی ہے۔
حق دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا—
بالآخر وہی غالب آ کر رہتا ہے۔
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ
محمدٌ رسولُ اللّٰہ ﷺ
۔
When the perpetrator is Muslim, the crime is immediately framed as a civilizational issue. Religion is dragged in, and millions are made to carry the guilt of one individual.
But when the perpetrator is not Muslim, the crime is usually reduced to an “isolated case,” quietly buried, or completely detached from the offender’s ideological or religious background.
Victims are victims.
Yet sympathy is not equal,
outrage is selective,
and justice in public discourse is far from blind.
This selective silence serves neither truth nor victims.
It protects no innocent person.
Instead, it reinforces a distorted narrative:
that evil is condemned only when it comes from certain people,
and excused or ignored when it comes from others.
Calling for justice does not mean defending anyone.
It means demanding one standard for all:
whoever commits a crime is held accountable,
whoever harms is judged
without exceptions and without moral hypocrisy.
Justice that is divided is not justice at all.
اے اسلامی اور عرب دنیا کے رہنماؤ، اے بڑی جماعتوں، علما اور دانشوروں! تم ہر اُس یتی�� بچے، بیوہ عورت، زخمی اور بھوکے انسان کے مجرم ہو جنہیں تم نے اپنی خاموشی سے تنہا چھوڑ دیا۔
شہید ترجمان القسام ابو عبیدہ رحمہ اللّٰہ کا آخری خطاب 😭💔
کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے خلاف شکایت دائر کردی گئی-
درخواست میں جج کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کرنے کی استدعا کی گئی ہے- شکایت میں کہا گیا کہ جسٹس محمد آصف کے بیٹے کی گاڑی سے حادثے میں 2 خواتین جاں بحق ہوئیں- شکایت کے متن کے مطابق جسٹس آصف کا 16 سالہ بیٹا ابوذر نان کسٹم پیڈ گاڑی چلا رہا تھا، جسٹس آصف نے اثرورسوخ اور ریاستی مشینری استعمال کرتے ہوئے ورثا پر دباؤ ڈالا، جاں بحق خواتین کے ورثا کے بیانات خفیہ انداز میں ریکارڈ کرکے ملزم کو ضمانت دی گئی-
درخواست میں مزید کہا گیا کہ جج کو اعلیٰ اخلاق اور کردار کا حامل ہونا چاہیئے جسٹس آصف نے متاثرین کے گھر ہمدردی کے بجائے سرکاری افسران کے دباؤ پر انحصار کیا اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے لہذا جسٹس محمد آصف کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا جائے-
جو کم عمری میں بغیر لائسنس کے جانتے بوجھتے ہوئے گاڑی لا پرواہی اور خطرناک طریقے سے چلا رہا تھا اس کی معافی کس نے دی؟
یہ قتلِ خطا نہیں ہے-
جج صاحب ایک V.8 کسطرح خرید سکتے ہیں؟ تنخواہ میں تو 20 سال میں بھی نہیں لے سکتے!
کیا انہوں نے اس V.8 کو اپنے ٹیکس گوشوارں میں ڈیکلیر کیا تھا؟
“تم سے پہلے کی قومیں اسلئے تباہ ہوئیں کہ اگر امیر اور طاقتور آدمی جرم کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور غریب اور کمزور آدمی جرم کرتا تھا تو اسے سزا دیتے تھے” نبی کریم ﷺ
🔴 پاکستان میں فوجی ترجمان کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان کو 'ذہنی مریض' قرار دینے کے بعد عمران خان کی پارٹی نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معماروں میں ایک اور فوجی ترجمان کے والد ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کو دہشت گرد کے طور پر پیش کر دیا۔
▪️ ڈاکٹر سلطان، دینی ر��حان رکھنے والے سائنس دان، جنہوں نے پہلی بار پاکستان کے ایٹمی بم کو صرف پاکستان کا نہیں 'امت کا بم' قرار دیا تھا۔
▪️ پاکستان 54 اسلامی ممالک میں واحد ملک ہے جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے۔
جب پنجاب حکومت نے لائسنس اور کم عمر بچوں کو پکڑا تو میں نے حمایت کی کیونکہ میں بنیادی طور پر سخت ٹریفک قانون کا قائل مگر قانون صرف غریب کے بچے کو پکڑنے سے نہی بنے گا جج طاقتور تھا اس کے بچے نے دو جوان لڑکیاں مار دیں مگر ساری ریاست نے مل کر وہ بچہ بچا لیا اور معافی دلوا دی پاکستان میں اصل مسلہ یہ ہے سی سی ڈی بھی غریب کا بچہ مارتی ہے اس ملک میں طاقتور کے لئے کوئی قانون نہی ہے