فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خان کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ڈٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
270:Every peaceful voice echoes beyond every barrier.
Hope becomes unstoppable when people unite.
Stand firm with patience and courage.@TeamiPians#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
264: Every peaceful step carries the promise of change.
Hope grows stronger with every united voice.
Keep standing with resilience.
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر@TeamiPians
263: Every peaceful step carries the promise of change.
Hope grows stronger with every united voice.
Keep standing with resilience.
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر@TeamiPians
285: Unity is the foundation of lasting progress.
Every determined heart makes a difference.
Stand tall with confidence.
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر@TeamiPians
مشکلات انسان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہیں جس نے زندگی میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہوں وہ حالات کے تھپیڑوں سے نہیں گھبراتا مشکل وقت اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے جس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہی کامیابی کی بلندیوں کو چھوتے ہیں
AI Pic
@iPiansRTs#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
🚨اگر ہم چاہتے ہیں کہ انصاف ہو، قانون کی حکمرانی ہو، تو گھروں سے نکلنا ہوگا۔
عمران خان اکیلے نہیں، وہ 25 کروڑ عوام کی آواز ہیں۔
نکلنا پڑے گا بولنا پڑے گا
حق لینا پڑے گا 💪🔥🤌
@TeamiPians#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
Traveling across KPK, Aleema Khan is aligning her efforts with PTI leadership’s street movement to secure Imran Khan’s prompt freedom. @TeamiPians#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
جب تک ملک کی باگ ڈور عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگی اور عمران خان کو رہا نہیں کیا جائے گا، ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔
@TeamiPians#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
💔 ایک شخص... جو اپنے حامیوں کے نزدیک اصولوں پر ڈٹ جانے کی علامت بن گیا۔
پچھلے 1061 دنوں سے قید میں ہے، مگر اس کا بیانیہ آج بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
@TeamiPians#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان