🚨 Saudi Arabia, Türkiye and Pakistan agree to immediately implement joint defence commitments and expedite the deployment of agreed military forces and capabilities in the Kingdom.
الحمدللہ کراچی نے ایک بار پھر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرا دیا کراچی کے ساتوں اضلاع میں آج کارکنان اور شہریوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا
کراچی عمران خان کا ہے
#سر_بکف_میدان_میں
پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ عمران خان، ان کی اہلیہ، ان کی بہنیں ، ان کا بھانجا، ان کے ساتھی آپ کی خاطر جیل میں ہیں، اب آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کی خاطر نکلیں اور پاکستان کو حقیقی آزادی دلائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
ہم چیختے رہے کہ پشتونوں کے سر کا سودا مت کرو، ہم چلاتے رہے کہ ہمارے خون کے عوض ڈالر مت کماؤ، مت ان ڈالرز سے بیرونِ ملک جزیرے بناؤ، لیکن ہماری کسی نے نہ سنی۔ سہیل آفریدی
#pakistan@SohailAfridiISF
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔ اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟ سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟ لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟ پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔ اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔ پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے زیرِ قیادت پی ٹی آئی کا تاریخ ساز لانگ مارچ کرک سے کوہاٹ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ کارکنوں اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قدم پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا نیا باب لکھے گا۔
@SohailAfridiISF#سر_بکف_میدان_میں
میں عینی شاہد ہوں کہ کتنا دباؤ تھا، لیکن سہیل آفریدی نے پشتونوں کے لیے سٹینڈ لیا۔ مجھے سہیل آفریدی پر فخر ہے، عمران خان کا انتخاب درست تھا۔ شاہد خٹک
#pakistan@ShahidkhattakSk
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
بلوچستان سے پاکستان تحریکِ انصاف کا قافلہ ڈیرہ اسماعیل سے لکی مروت کے راستے میں اپنی مدد آپ کے تحت تمام رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھ رہا ہے۔
#سر_بکف_میدان_میں#اکتوبر5_یوم_عمران_خان
پاکستان کا کوئی اور وزیر اعلی ، وزیر اعظم ، صدر ، چیف سیکرٹری ، چیف جسٹس یا کوئی اور اہم شخص ، اس طرح بغیر سیکورٹی عوام میں گھل مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صوبے میں جہاں دہشت گردی عروج پر ہے ، سوائے اس وزیر اعلی سہیل آفریدی کے
جو دلوں کو فتح کرلے وہئں فاتح زمانہ
🚨🇵🇰 One of Imran Khan's fmr. ministers is making EXPLOSIVE allegations about Pakistan’s military...
He claims military leaders backed a plan to bring Pakistani Taliban fighters back from Afghanistan after Khan was removed from power in 2022.
According to him, local protests later forced some of those militants back across the Afghan border, before authorities allowed them to return through other areas.
Now, as thousands of Imran Khan supporters march toward Islamabad, he says the fight is no longer just about freeing the jailed former PM.
It’s becoming a much bigger confrontation over terrorism, military power, and who ultimately controls Pakistan’s security policy.
Source: @MuradSaeedPTI / Writer: Samuel
🚨🇵🇰 Imran Khan’s supporters are ON THE MOVE...
PTI has begun its long march toward Islamabad.
Caravans from across the province are joining the multi-day march, with organizers hoping the crowds eventually reach hundreds of thousands.
Negotiations with the government COLLAPSED, and the march is what follows...
Interior Minister Naqvi accuses Afridi of sabotaging those talks and has warned of legal action if protesters violate court orders.
PTI says the march will remain PEACEFUL and is demanding the release of Imran Khan, along with other concessions from the current government.
Writer: Samuel
وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا جو دل چاہے گا کے پی میں وہی کریں گے میں نے کہہ دیا کہ تمہارا باپ بھی نہیں کرسکتا، سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
1985 سے باؤ جی مری کو ڈیولپ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہ سالی مری پتا نہیں کب ڈیولپ ہوگی؟! مرزا شہزاد اکبر
#pakistan@ShazadAkbar
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔