#نیوزالرٹ:
سوات میں پنجابی شہری ٹورسٹ کا قرآن جلانے پر مشتعل مظاہرین نے اس شخص کو بھی زندہ جلا دیا۔
مدین سوات میں حالات کشیدہ،فائرنگ اور تشدد کے واقعات سامنے آنے کی اطلاعات،اموات کا بھی خدشہ،صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی طلب
عشق سیکھنا کوئی نہیں پڑتا، جس کو ہوجائے وہ "عاشق" اور جو عشق کروائے وہ "محبوب"
مکمل قسط دیکھنے کے لئے دیکھیں گرین انٹرٹینمنٹ ٹی وی اپنی ٹیلی ویژن سکرینز پر!
#Jindo#GreenTV
مسلمانوں کا بادشاہ کیسا ہوتا ہے۔؟
رب کعبہ کی قسم عمر بن عبدالعزیز جیسا ہوتا ہے۔
عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور ہے
آپ وقت کے امیرالمومنین ۔ہیں باشاہ ہیں
ایک بار آپکی خدمت میں ایک ��ورت حاضر ہوئی جس کی پانچ جوان بیٹیاں تھی
خاوند فوت ہو چکا تھا
وہ جس کے پاس جاتی سب خوش آمدید کہتے لیکن
یہ خوش آمدید
اس کی غریبی کے لیے نہیں تھی
بلکہ
اسکی خوبصورت جوان بیٹیوں پر گندی نظر ڈالنے کے لیے ہوتی تھی
خاتون سمجھدار تھی بہت جلد سمجھ گئی کہ میرے لیے جوان بیٹیوں کی عزت بچانا مشکل ہے
تو وہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے دروازے پر آئی دستک دی
اسے کسی نے بتایا تھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ ایسا بادشاہ ہے
کہ وہ اپنی رعایا اور انکی جان و مال کا محافظ ہے
وہ اپکی مدد کرے گا
وہ خاتون پانچوں بچیوں کو لیکر عمر بن عبدالعزیز کے دربار میں چلی آئی
ایک عورت نے دروازہ کھولا وہ اندر گئی ایک عورت برتن دھو رہی تھی وہ سمجھی کوئی خادمہ ہے
اس نے اس خاتوں کو ایک درحت کے نیچے بٹھایا
تو خاتون نے برتن دھونے والی عورت سے پوچھا امیر المومنین کہاں ہے۔؟؟
اتنے میں ایک آدمی اندر آیا جس کے کپڑے پھٹےہوئے تھے اور کندھے پر ایک گٹھلی تھی
وہ گٹھلی اس عورت نے لے لی وہ ایک درحت کے نیچے بیٹھ گیا
تو وہ سوکھی روٹی اور سرکہ لے آئی خاتون سمجھی کوئی غلام ہے جب وہ کھانا کھا چکے تو
اسی عورت نے آواز دی کہ امیرالمومنین مہمان آئے ہیں
وہ خاتون کہتی ہے میں حیران رہ گئی میں نے اس خادمہ سے کہا کہ آپ میری غریبی کا مزاق اڑا رہی ہیں
یہ پھٹے ہوئے کپڑے اور سوکھی روٹی کھانے والا امیرالمومنین ہے
تو
اس نے کہا کہ اللہ کی قسم یہی امیر المومنین ہیں
خاتون کہتی ہیں میں جب ان کے قریب گئی تو اس میں اتنی حیاہ تھی
کہ اس نے اپنی نظریں جھکا لی فرما��ے لگے کیسے آئی ہو ۔؟
میں نے کہا یہ میری بیٹیاں ہے میں غریب ہو بیوہ ہو میرے پاس ان کے لیے کچھ نہیں میرا خیال تھا کہ
امیرالمومنین میری تمام بیٹیوں کے لیے سو دینار لکھ دے تو کافی ہے
عمر نے قلم اٹھایا میری ایک بیٹی کے لیے ایک سال کے لیے ایک ہزار دینار لکھ دئیے
میں دوسری کو آگے کیا
اس نے اس کے لیے بھی ایک ہزار دینار لکھ دئیے میں تیسری چوتھی کو آگے کیا
اس نے ان کے لیے بھی ہزار ہزار دینار لکھ دئیے جب وہ لکھ رہے تھے میں اللہ کا شکر ادا کرتی رہی
اور جب پانچویں بیٹی کے لیے دینار لکھنے کے لیے قلم اٹھایا
تو میں نے امیرالمومنین کا شکریہ ادا کیا
عمر بن۔عبدالعزیز نے قلم واپس رکھی دیا
میں نے پوچھا امیرالمومنین کیا ہوا۔؟
فرمانے لگے میں نے چار ہزار دینا اپکے لیے لکھے تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا
اس دفعہ آپ نے میرا شکریہ ادا کیا
قیامت کے دن اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ ہزار دینا تم نے میرے لیے نہیں لکھے اپنی خوشامدی کیلئے دیئے
میں رونے لگی کہ یااللہ یہ کیسا انسان ہے تو عمربن عبدالعزیز کہنے لگے کہ عام انسان ہو ��س رسول اللہ ﷺ کا غلام ہو۔
سبحان اللہ
اللہ عمر بن عبدالعزیز سے راضی ہو۔