زندان میں ڈالنے والے، سن لے فیصلہ پاکستان کا!
آج دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی اپنے حق کی خاطر کھڑا ہے اور اپنی آخری سانس تک کھڑا رہے گا۔ ابھی تو بس سسٹم کولیہس ہوا ہے ابھی بہت سینے اور بہت سر ہیں۔
#ناحق_قید_کے_3سال#KhanIllegallyJailed3Year
میں ایک آخری بار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز اور اُن عناصر سے درخواست کر رہا ہوں کہ گالم گلوچ، کردار کشی اور بے ہودہ زبان کا استعمال بند کریں۔ اگر میں اُن نام نہاد مقدس اور تقدس کے لبادے اوڑھے ہوئے گندے کرداروں کے بارے میں بولنا شروع ہو گیا تو پھر یوتھیوں کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ہر چیز سوشل میڈیا کے نعروں اور مصنوعی پارسائی سے نہیں چھپائی جا سکتی۔
اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پھر میں بھی یہ بھول جاؤں گا کہ کون کس کا کیا لگتا ہے اور کس کے کس سے تعلقات ہیں۔ پھر اُن تقدس کے مصنوعی لبادے اوڑھے ہوئے کرداروں کو بھی بے نقاب کروں گا جو پسِ پردہ بیٹھ کر پروپیگنڈا مہمات چلا رہے ہیں اور دوسروں کو آگ میں دھکیل کر خود پارسائی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
میں خاص طور پر شفیع جان کو بھی کہتا ہوں کہ ذاتی حملوں اور غیر مہذب گفتگو سے باز آ جائیں۔ یہ آخری بار کہہ رہا ہوں۔ اس کے بعد اگر جواب آیا تو پھر شکایت مت کیجیے گا کہ سخت ردِعمل کیوں ملا۔ ہر انسان کے صبر اور خاموشی کی ایک حد ہوتی ہے۔
میں نے اب تک تحمل، خاموشی اور ظرف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، مگر اسے میری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر آپ مسلسل یہی زبان استعمال کریں گے تو پھر جواب بھی اُسی لہجے میں ملے گا۔ اُس وقت پردے کے پیچھے بیٹھے کردار بھی اپنے انجام کے لیے خود ذ��ہ دار ہوں گے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ میں نہ کسی عہدے کا طلبگار ہوں، نہ کسی رعایت کا امیدوار، اور نہ ہی مجھے اُس جماعت کا حصہ بننے کی خواہش باقی رہی ہے جو محسن کُشی، بے توقیری، بہتان تراشی اور بدزبانی کی علامت بنتی جا رہی ہو۔ میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔
میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی۔
اب بھی وقت ہے کہ سیاسی اختلاف کو اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رکھا جائے۔ ورنہ پھر ��و آگ دوسروں کے لیے جلائی گئی تھی، اُس کی تپش بہت دور تک محسوس ہوگی۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں ��ہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو ��حریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
ہماری فیملی نے تمام پارٹی عہدیداران، سینئر قیادت، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منگل کو اڈیالہ جیل پہنچیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ:
1. عمران خان کے وکلاء اور اہلِ خانہ کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
2. عمران خان کو مکمل طبی معائنہ اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹروں، ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی موجودگی یقینی بنائی جائ��۔
3. چیف جسٹس ڈوگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انہیں اس غیر قانونی قید سے بلا تاخیر رہا کیا جا سکے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے اور پاکستانی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے
گندم کے کسان کے فی ایکڑ اخراجات
ہل چلائی لیزر=15000
ڈی اے پی ڈیڑھ=22500
سیڈ+کیرا=9000
یوریا ڈھائ��+سلفر+زنک=16000
پیسٹی سائیڈ+جڑی بوٹی مار=4000
پانچ پانی=5 *5=25*1000=25000
ٹھیکہ زمین 6 ماہ=55000
مزدوری کسان لیبر=10000
��ٹائی+تھریشر =8.5 من*3000=25500
کسان کی محنت =30000
ٹوٹل خرچہ=212000
توڑی فروخت=17000
صافی خرچہ پر ایکڑ=195000
گندم پر ایکڑ اوسط=45 من
فی من 3000= کل 3000 ضرب 45 =135000
کل خسارہ 195000-135000= 60000
فی ایکڑ کسان اس سال گندم میں 60000 کا نقصان اوسط کے حساب سے برداشت کرنے پر مجبور ہے ۔ کسان برباد ہو گئے ہیں