شاہ جی گل زندہ ہے!!!
جہلم جیل میں قریبا ایک ہفتہ دس دن ہوچکے تھے جب ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنے بلاک سے نکل کر باقی جیل میں تحریک انصاف کے ورکرز کی تعداد اور حالات معلوم کیے جائیں۔ ایک بلاک میں تین بیرک ہوتے ہیں۔ ہر بیرک میں عام طور پر 32 قیدی ہوتےلیکن تحریک انصاف کےچونکہ ہزاروں قیدی تھے اس لیے جیلوں میں جگہ کم پڑگئی تھی۔ اس لیے ہر بیرک میں 100 سے 115 قیدی ٹھونس دیےگئےتھے۔ جوایک دوسرےسےجڑے، کسی کاپیرکسی کاسر، کچھ الماریوں کےاوپر، بہت بڑی تعدادمیں برآمدوں میں اور کچھ واشروم کےاندر خشک جگہ پرسوجاتےتھے۔ دسمبر، جنوری شدید سردی تھی توہم نےپلاسٹک منگواکرجیل کے سلاخوں والے دروازےکھڑکیوں پرلگادیےتھے۔ زیادہ تعدادکی وجہ سےبہت سےلوگ رات میں ناسوپاتے تودن میں کہیں دبک کرنیندکرلیتےتھے۔ جیل میں بجلی بندنہیں ہوتی۔ بڑےسفیدبلبو�� کی تندوتیزروشنی میں بیرک کسی فٹبال اسٹیڈیم کی طرح شبانہ روز چمکتا ��ہتاہے۔ اس لیےنیندکےلیےاندھیرےکےعادی دوست شروع دنوں میں تین تین دن بھی جاگے، حتی کہ سکون آگیا۔ خیرباہرجانےکےلیےمیں نےبلاک انچارج سےبات کی توحضرت سخت ناراض ہوئے۔ بات سن جواناں یہ پھپھو جی کاگھر نہیں۔ ہزار روپے کانوٹ دیاتوساتھ ایک دوست کوبھی جانےدیا۔ ایک تنبیہہ کی کہ سپریڈینٹ نےپکڑ لیا تومیں نےمکرجاناہے، خود بھگتنا۔ سپریڈنٹ سےچونکہ حال ہی میں ایک خطرناک مکالمہ ہوچکاتھا جس میں طرفین نےایک دوسرےسےبرےمستقبل کےوعدےکیےتھےاس لیےیہ اطمنان تھاکہ اس سےبراکچھ نہیں ہوسکتا۔ تفصیلات مرتب کررہاہوں، کتاب میں لکھونگا۔ جب روانہ ہوئے تومیں نے غالبا حاجی عصمت کوکہا کہ ایسےچلناجیسےجیل تمہارےباپ کی ہو۔ گھبراگئےتوپھرمارےجائینگے۔ چھ فٹ سےزائدکے حاجی عصمت کوپختونخواء کےقیدی "دینگ حاجی" یعنی لمبے قد والا حاجی کہتے تھے۔ ہم مختلف بلاک اور بیرکوں میں جاتےتوتمام قیدی جمع ہوجاتے۔ ان سب کومعلوم تھاکہ لیڈرشپ میں سےہم جہلم جیل میں قیدتھے۔ وہ مظلوم لوگ جیل کےاندرہمیں اپنامددگاراورمشکل کشاء سمجھتے۔ حاجی کومیں نےکہاسب کی تعداداورمسائل نوٹ کرنا۔ جیل میں نوٹ بک اورپین منگوانےپڑتے۔ ڈیڈھ دومہینےتک چونکہ ہماری جنرل ملاقات اوررسدوترسیل پرپابندی تھی اس لیےنوٹ بک کی جگہ حاجی سگریٹ کی ڈبی کوپھاڑکراس پرنہایت چھوٹی تحریرمیں ضروری معلومات لکھ رہےتھے۔ سب سےزیادہ مسئلہ بزرگوں اوربیماردوستوں کوتھا۔ سندھ کےمری صاحب جولگ بھگ 75سال کےتھےانکودل کاعارضہ لاحق تھا۔ مردان کےا��ک دوست غالبا نعمان کوتھروٹ کینسرتھا۔ مانسہرہ کےالطاف کومرگی کی بیماری تھی۔ شوگرکےمریض سب سےزیادہ تھے۔ کھانسی زکام اوربخاروالےلاتعدادتھے۔ جیل میں ہمارے بارہ سوسےچودہ سولوگ تھے۔ جگہ کی شدیدکمی تھی، ��ین نمبر بیرک میں واشروم ایک اور ڈیڈھ سوبندہ تھا۔ نئےجیل کےبرآمدےقیدیوں سےبھرےہوئےتھے۔ تحریک انصاف کےورکرزکےساتھ افغانی باشندوں کوبھی بڑی تعدادمیں اٹھایاگیاتھا۔ کم از کم تین ساڑھے تین سولوگ۔ انکے بابت آگےلکھونگا۔
ہم 5 نمبر بلاک پہنچ کر اپنے کوئٹہ والے دوستوں سےمل رہے تھے اتنے میں ایک بزرگ نےمیرا دامن پکڑا اور بات سننے کوکہا۔ میں انکے سامنے بیٹھ گیا۔ شور بہت زیادہ تھا، ہر کوئی اپنا مسئلہ بتانا چاہ رہاتھا۔ بزرگ کا نام شاہ جی گل وزیر تھا۔ کس شہر سے تھے وہ اس وقت یاد نہیں آرہا۔ پریشان دک رہےتھے لیکن پراعتماد آوازسےبولےمجھے جیل کی ٹینشن نہیں لیکن شوگر کی ہے۔ شوگرمیرےپورےخاندان میں ہےاورسعودی میں میرے چھوٹے بھائی کی جان لےچکی ہے۔ میں جیل میں کیسے بچونگا؟ میں نےکہا اللہ ہمت دےگاکاکا(چچا)۔ آپ بالکل ٹھیک رہینگے۔ انہوں نےکہامیری گولیاں ختم ہوگئی ہیں کیسے ٹھیک ہونگا؟ میں نےانکےہاتھ سےگولیوں کےخالی پ��ےلیےاورکہاکہ میں منگوالونگا۔ انہوں نےسرپرہاتھ رکھااورہم نےباقی قیدیوں سےبات کی۔ میں نےوعدہ توکرلیاتھالیکن چونکہ ملاقات پرپابندی تھی اس لیےکچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ جس جیل میں پولیس ہم سےبات تک نہیں کرتی وہاں میں جیل کےباہرسےگولیاں کیسےمنگواونگا؟ ایک ڈاکٹرصاحب اورایک ڈسپینسر آتےتھےجوعجیب وغریب برانڈ کی دوائیں اورگولیاں دیتے، جنکے ناکبھی نام سنے نا دیکھیں کبھی۔ ایک قرشی دواخانہ تھا جنکے ہومیوپیتھک دوائیوں سےیقینا ایسی خطرناک بیماریوں کے مریضوں کی تسلی و تشفی نا ہوتی۔ میں نے حاجی کوکہاہمارے پاس پیسےکتنےہیں؟ حاجی نےکہا بیرک میں جاکر چیک کرنا پڑےگا۔ سب سے پوچھوں گا۔ کتنے چاہیے؟ میں نے کہا جتنے ملے سب اٹھاو۔ دوائیں ضروری ہیں اور اس سے پہلے زاد راہ (بخشش)۔
1/2
Another week of unlawful isolation. Another week of silence from those sworn to uphold the Constitution.
The credibility of Pakistan’s justice system continues to erode with every passing day!
#WhereIsImranKhan
وعدہ کرتا ہوں کہ میں عمران خان کے ناحق قید اور بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دوں گا، جو مجھ سے ہوگا وہ خان کے لئے ضرور کروں گا لیکن ��اموش کبھی بھی نہیں بیٹھوں گا
🚨Repost, copy, post it again
"ایک مسنگ پرسن کے نام "
یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے -
مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے تین ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی -
مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے -
مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی -
مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا -
مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا -
مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت -
مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے -
مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ -
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir@MarioNawfal@soulful7867@salmanAraja@SohailAfridiISF
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
کشمیر کو جلیانوالہ باغ بنا دیا گیا ہے، اپنے ہی بیٹوں پر گولیاں چلائیں گئیں، انکی لاشیں گرائی گئیں، کوئی اس پر بات کریگا؟
اسے پہلے 9 مئی کو قتلِ عام ہوا، ڈی چوک پر اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا گیا۔ مریدکے سے پختونخوا تک، بلوچستان سے راولاکوٹ تک، اس ملک کو قبرستان بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات کا ذمعہ دار عاصم منیر ہے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے تم جرنیلوں کا نہیں! اپنے بیرکوں میں واپس جاو نہیں تو پورا پاکستان کشمیر بن جائیگا!
اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بنیادی قانونی حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے درکار وکالت نامہ اور اپیل دستاویزات پر دستخط کروانے میں جیل انتظامیہ تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔
وکیل خالد یوسف چوہدری @KhalidYChaudry نے آج آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ متعدد درخواستوں، خطوط اور ذاتی حاضریوں کے باوجود دستاویزات نہ دستخط کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور نہ واپس کی جا رہی ہیں۔
یہ طرز عمل سیاسی انتقام ہے ��ور عمران خان کی سزاؤں کو حتمی قرار دلوانے کی منظم کوشش ہے۔
سپریم کورٹ پر حملے کا مجرم، پارلیمنٹ پر حملے کا مجرم، ماڈل ٹاؤن کے قتلِ عام کا مجرم، ملکی معیشت کا قاتل، قوم پر آئی پی پیز کا عذاب مسلط کرنے و��لا، رجیم چینج میں قوم سے غداری کرنے والا، الیکشن چوری کا مجرم گلگت بلتستان میں کمپین کر رہا ہے، شکریہ پاک فوج!
انگلیوں کو زیتون کے تیل سے مساج دیں کیونکہ آج رات 8 بجے گلگت بلتستان الیکشن کے لئے بھرپور کمپین چلائیں گے۔
گلگت بلتستان میں عمران خان کے ہر امیدوار کو بھرپور ��وریج اور سپورٹ دینگے۔۔
تیار ہو آج رات 8 بجے 🧐
عید کے بعد کچھ بوریت ہوگئی تھی کہ اچانک اسٹبلشمنٹ کا اپنا کھوتا جو لاہور کا حلقہ بھی ہارا ہوا ہے وہ گلگت بلتستان پہنچ جاتا ہے. اور اپنے ہی مالکوں سے کہتا ہے مجھے کیوں نکالا پھر اپنے ہی کارکنوں سے پوچھتا ہے مجھے کیوں نکلنے دیا. پھر کہتا ہے یہاں سڑکیں ٹھیک نہی. ائرپورٹ چھوٹا ہے. میں ہوتا تو تو سڑکیں بنا دیتا. میں ہوتا تو ائرپورٹ بڑا کر دیتا.
ٹھیک شغل لگا رکھا ہے مستری اور اسکے کھوتے نے
رجیم چینج کو چار سال گزر چکے۔ معیشت براہ راست فوج کے کنٹرول میں ہے۔ وزیر خزانہ کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ فوج نے ایس آئی ایف سی جیسے ادارے بھی بنائے ہیں۔ اسکے باوجود فوج آئی ایم ایف ڈیل کی محتاج ہے اور آئی ایم ایف کی ڈیل صوبائی سرپلس بجٹ کی محتاج ہے۔ ایسے نااہل اور ناکام ٹولے کو مزید بربادی کا وقت دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔
ملکی مفاد میں شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے
ملکی مفاد میں عدلیہ آزاد نہیں ہوسکتی
عمران خان کو علاج کی سہولت نہیں مل سکتی
عمران خان کی وکلاء اور بہنوں سے ملاقات نہیں ہوسکتی
لیکن اس ملکی مفاد کے لیے بجٹ سرپلس کیوں ضروری ہے؟
جنہوں نے نواز شریف کو نکالا
وہ خود واپس لے کر آئے
ائر پورٹ پہ بائیو میٹرک کا انتظام کیا
ڈاکٹر یاسمین راشد کی سیٹ چھین کر نواز شریف کی جھولی میں ڈال دی
نااہل ترین بیٹی کو سیدھا وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بٹھا دیا
چار سالوں سے بھائی مسلسل وزیراعظم ہے
کھربوں کے کرپشن کیسز معاف ہو گئے
اور نواز شریف آج بھی جرنیلوں سے شکوہ کر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا تھا ؟؟
جتنی مہربانیاں جرنیلوں نے شریف خاندان پہ کی ہیں، اس کا ایک فیصد بھی اس قوم کیلئے کرتے تو آج صورتحال ہی الگ ہوتی
#پاکستان