یہ وہی قریبی ذرائع ہیں جو سیاستدانوں کو آپس میں لڑاتے ہیں صحافیوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں لیکن اگر جنرل باجوہ یا جنرل فیض کے خلاف کوئی بات کر دے تو پھر نام نہاد جمہوریت پسندوں سے انکا دفاع بھی کراتے ہیں آج پاکستان کو جس بحران کا سامنا ہے اس میں باجوہ اور فیض کا اہم کردار ہے لیکن انکا احتساب نہیں ہو گا مقدمے صرف سیاستدانوں اور صحافیوں پر بنیں گے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔
صحيح مسلم، 1، رقم الحديث: 210
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جو لوگ اللہ سے کئے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی (جھوٹی) قسموں کا سودا کرکے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیتے ہیں،اُن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا،اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ اُنہیں (رعایت کی نظر سے ) دیکھے گا، نہ اُنہیں پاک کرے گا اور اُن کا حصہ تو بس عذاب ہوگاانتہائی دردناک۔‘‘(سورۂ آلِ عمران)
طاقت کے زور پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا بہت آسان ہے لیکن قرآن مجید جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے ہم میں سے کوئی بھی صادق اور امین نہیں لیکن کم از کم ہمیں جھوٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئیے اور جھوٹوں کا سہولت کار نہیں بننا چاہئیے اللّٰہ ہم سب کو ہدائت دے آمین
قاضی کا دوسرا چہرہ
تحریر: مطیع اللہ جان
یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا ہے کہ اس پر بیٹھا شخص ایک جرنیل کی سازش ناکام بناُکر دوسرے جرنیل کی گود میں بیٹھ کر کلکاریاں مار کر خوش ہوتا ہے۔ افتخار محمد چودھری نے جنرل مشرف کیطرف سے اپنی برطرفی کا بدلہ جنرل کیانی کی گود میں بیٹھ کر لیا، اور آئین اور سیاست کو رسوا کرنے والے ساتھی جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بجا طور پر ذلیل و رسوا کیا مگر ساتھ میں جنرل کیانی کو مضبوط بنانے کے لئیے آصف زرداری کی حکومت اور سیاست دانوں کو سو موٹو اختیارات ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آصف زرداری کا قصور افتخار چودھری کی فوری بحالی کی مخالفت تھی، جنرل کیانی اور بحال شدہ افتخار چودھری نے پھر مل کر سیاستدانوں اور سویلین حکومت کرپشن کے الزامات پر یرغمال بنا کر رکھا-
آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور عمران خان کی مخلوط حکومت نے جسٹس فائز عیسی کو ذاتی طور پراور اِس ملک کے سیاسی اور عدالتی نظام کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا جس میں ثاقب نثار، آصف سعید خان کھوسہ اور بندیال ٹائپ ججوں کا گھناؤنا کردار رہا ہے مگر اب چیف جسٹس فائز عیسی کیا کر رہے ہیں؟ افتخار چودھری کی طرح معجزاتی بحالی کے بعد چیف جسٹس فائز عیسی کو بھی جسٹس اعجاز الاحسن کا سر طشتری میں پیش کیا گیا ہے بلکل اُسی طرح جس طرح جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ساتھی پی سی او ججز کو افتخار چودھری کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ویسے تو ایسے استعمال شدہ ججوں کیساتھ جتنا بھی ہوا وہ بہت کم تھا مگر پھر یہ ہر بحال شدہ چیف جسٹس ہر نئی اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لئیے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا اپنا مذھبی فریضہ کیوں سمجھتا ہے، بحال شدہ افتخار محمد چودھری نے ایک لومڑی کی مانند اسٹیبلشمنٹ کے بوڑھے شیر کے غار تک آصف زرداری اور سویلین حکومت کو گھیر کر لایا، بلکل اِسی طرح بحال شدہ قاضی فائز عیسی بھی جسٹس اعجاز الاحسن کے سر کو اسٹیبلشمنٹ کا تحفہ سمجھ کر اب عمران خان، اُسکی سیاسی جماعت اور ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی انجینئیرنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ افتخار چودھری کو بھی اپنی شھرت اور عوامی مقبولیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا جسکا نتیجہ اسکے بیٹے ارسلان کے کارناموں کیصورت سامنے آیا اور قاضی فائز عیسی بھی اُسی راستے پر چل نکلے ہیں۔
بلے کے نشان متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ ایک طرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے اُس گھناؤنے پراپیگنڈا کا براہ راست جواب ہے جو انکی حکومت میں صدارتی ریفرنس کے دوران کیا گیا۔ تو دوسری طرف ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی سازش کا حصہ بھی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار ہو گئے ہیں، عمران خان اور اُسکی پارٹی کے ساتھ جو ہوا وہ انکا اپنا کیا دھرا ضرور تھا مگر بطور سپریم کورٹ اور بطورچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جس طریقے سے بلے کے نشان متعلق کیس کی سماعت کی اور دنیا نے براہ راست دیکھا وہ کسی طور بھی ذاتی رنجش اور انتقامی جذبے سے مبرا نہیں تھا۔ آج کا جنرل کیانی اور افتخار چودھری ایک بار پھر آج کے زرداری کے در پر ہیں۔
بلے کے نشان متعلق سماعت میں قاضی فائز عیسی نے ایک جج کی بجائے الیکشن کمیشن کے وکیل کا کردار ادا کیا، آئینِ پاکستان کے دفاع کا حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) کے آئین پر عملدرآمد میں جتنی دلچسپی دکھائی اُس سے واضح طور پر انتقام اور ذاتی رنجش کی بو آ رہی تھی، یہ وہی چیف جسٹس تھے جو ایف بی آر اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کے دفاع میں بجا طور پر آئینِ پاکستان کی شق ۲۰۹ اور عدلیہ کی آزادی کی قوالی کرتے نہیں تھکتے تھے، اور اب جب مخالفین کا کیس سامنے آیا تو الیکشن ایکٹ عیسی کی بائیبل بن گیا۔
آئین کی تشریح پر انا کی تسکین حاوی ہو گئی، اعجاز الحسن کا استعفی، چند لاپتہ افراد کا واپس آ جانا، سیکرٹری دفاع کا افواج پاکستان کا افواج پاکستان کو خ، اس سب سے انا کی تسکین تو ہو جائیگی آئین کی تشریح نہیں۔
آئین کی شق ۱۷ میں تنظیم سازی کا بنیادی حق عام شھری کا ہے مگر جج صاحب کے لئیے اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی کا بانی رکن ہونا قاضی صاحب کے لئیے مقدس واقعہ ٹھرا۔ سیاسی جماعت کے آئین اور الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی تو شاید پی ٹی آئی نے ہی کر رکھی تھی کیونکہ کسی اور پارٹی کے کارکن نے شکایت ہی نہیں کی تھی ، واہ قاضی تیرا انصاف، آئین کے آرٹیکل ۲۰۱۸ (صاف شفاف انتخابات)پر الیکشن ایکٹ حاوی ہو گی۔ یہ سب عدالتی انجینئیرنگ نہیں تو کیا ہے۔ قاضی فائز عیسی کا یہ نیا رخ (شاید پرانا) کیا گل کھلائے گا؟ یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا چُبھتا ہے جو اُسے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ میں اپنی شکل تلاش کرتے رہنے پر مجبور کرتا رہتا ہے، ظالمو قاضی ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔ہ
پرویز مشرف کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اصل اختلاف کیا تھا؟ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غوری میزائل کی رینج کو 1500 کلومیٹر سے بڑھانے کی کوشش کی تو مشرف کو شک ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کا ٹارگٹ اسرائیل ہے بس یہیں سے ایک قومی ہیرو کو زیرو بنانے کی سازش شروع کر دی گئی
سپریم کورٹ نے 2012 میں اصغر خان کیس کے فیصلے میں کہاکہ آئی ایس آئی، ایم آئی یا آئی بی کو سیاست میں مداخلت اور انتخابی جوڑ توڑ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ اس فیصلے کی روشنی میں خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت روک کر اگلے انتخابات کوفری اینڈ فیئر بنائے https://t.co/eacL2soprm
سپریم کورٹ نے 2012 میں اصغر خان کیس کے فیصلے میں کہاکہ آئی ایس آئی، ایم آئی یا آئی بی کو سیاست میں مداخلت اور انتخابی جوڑ توڑ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ اس فیصلے کی روشنی میں خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت روک کر اگلے انتخابات کوفری اینڈ فیئر بنائے https://t.co/eacL2soprm