حیرت اور افسوس ہے کہ سعد رضوی اور اُن کے بھائی انس رضوی آٹھ مہینے سے منظر سے غائب ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوس ہے کہ اس معاملے میں ہر طرف ایک پراسرار خاموشی ہے۔۔۔ ریاست کی ذمے داری اور فرض ہے کہ وہ بتائے کہ ان دونوں بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا اور وہ اس وقت کہاں ہیں۔
کہاں گئے وہ دانشور جو کہتے رہے کہ وہ خود کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ پہلے دن کہا تھا کہ یہ ایجنسیوں کا کام ہے۔ جبری گمشدگیاں اس ملک میں معمول بنائی جا رہی ہیں۔
یہ جھوٹ ہے کہ عمران خان نے قوم کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شعور دیا۔ اس ملک میں ایوب خان کے خلاف نعرے لگے، یحییٰ کے خلاف احتجاج ہوئے، ضیاء کے خلاف لوگ نکلی، مشرف کے خلاف وکلاء تحریک چلی۔ قوم کو سب معلوم تھا اور عمران خان کو بھی سب پتہ تھا۔ لیکن عمران خان نے اپنے اقتدار کے لیے جرنیلوں کی تعریفوں کے پُل باندھ کر گزشتہ کئی دہائیوں کے جرنیلوں کے جرائم پر نہ صرف پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی بلکہ اُن جرائم میں پارٹنر بھی بنے رہے۔
جناب ہُن روندے کیوں او؟ اب تھوڑا انتظار کریں۔ جیسے اُن سب ادوار کے بعد بھی پولیٹیکل اسپیس بنی تھی، جلد یا۔ دیر اب بھی بنے گی لیکن اُس وقت اگر آپ پھر شخصیات کی آمریت والی سیاسی جماعتوں سے اُس اسپیس کو پُر کرنے کی کوشش کریں گے، دائروں کا سفر پھر شروع ہو جائے گا۔ اُس متوقع وقت کے لیے قوم کو چاہئے کہ وہ ایک جمہوری سیاسی جماعت تشکیل دے۔
ڈیڑھ مہینے سے زائد گزر گیا۔۔۔۔ حیران کُن طور پر سعد رضوی اور انس رضوی اب بھی منظر سے غائب ہیں۔ دُعا ہے کہ پروردگار انہیں اپنی امان میں رکھے اور حکومت یا اُن کی جانب سے جب بھی کوئی خبر سامنے آئے، وہ خیر کی خبر ہو۔
میں تمہیں تمہاری ماؤں کا واسطہ دیتا ہوں واپس چلے جاؤ میں تمہیں تمہاری ماؤں کے حلالی دودھ کا واسطہ دیتا ہوں واپس چلے جاؤ
سعد رضوی رینجرز کو ان کی ماؤں کے حلالی دودھ کا واسطہ دیتا رہا لیکن حرامی واپس نہ گئے اور کئیں پاکستانیوں کو زبح کر دیا
عجیب ذہنی غلام ہیں۔ بار بار غلطیاں کرنے والوں اور اُن غلطیوں کو تسلیم کرنے والوں کو دوسری، تیسری اور چوتھی بار موقع دینے کو تیار ہیں۔۔۔ لیکن خود کو ایک بار بھی موقع دینے پر تیار نہیں۔
یاد رکھیں !! تبدیلی صرف آپ لا سکتے ہیں، اب صرف پاکستان کے نوجوان پاکستان بدل سکتے ہیں۔