🌺 الحمد للہ 🌺
پانچ سال کے طویل انتظار کے بعد کاشانہ جنسی اسکینڈل میں دائر کردہ کیسز میں لاہور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے
پانچ سال آگ اور خون کا دریا پار کیا، اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل قربان کر کے لاکھوں یتیم و لاوارث بچوں، بچیوں اور عورتوں کی زندگیوں،عزتوں کو محفوظ بنانے کا لاہور ہائیکورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ حاصل کیا ہے
انشاء اللہ اگلے فیصلہ میں یتیم و لاوارث بچوں ، بچیوں کے گنہگار عمران خان ، بشریٰ جادوگرنی کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا
کیا اپ جانتے ہیں دس سے بارہ لاکھ میں ہونے والا IVF پراسیز جس کے تحت بے اولاد جوڑے اللہ کے حکم سے اپنی اولاد حاصل کرتے ہیں وہ پاکستان میں اک ہسپتال اسی ہزار روپے میں کر رہا ہے ۔
اولاد اللہ کی طرف سے ہوتی ہے یہ بات ہر مسلمان کے دل میں پتھر پر لکیر کی طرح کندہ ہے مگر جن جوڑوں کے گھر برسوں سے یہ نعمت نہیں آئی وہ جانتے ہیں کہ انتظار کی راتیں کتنی طویل ہوتی ہیں اور امید کا دیا کتنی بار بجھتے بجھتے دوبارہ جلتا ہے ۔
IVF دراصل کوئی معجزہ یا تخلیق کا متبادل نہیں بلکہ محض ان طبی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بچے کی پیدائش کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں شریعت میں اس عمل کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔
کیونکہ اس میں میاں بیوی کے اپنے مادہ تولید کو استعمال کیا جاتا ہے اور رحم مادر میں وہی امانت رکھی جاتی ہے جو اللہ نے پہلے ہی ان کے نصیب میں لکھ رکھی ہے پاکستان میں نوجوان جوڑوں میں اس کی کامیابی کی شرح ساٹھ سے ستر فیصد تک بتائی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل نہ صرف شرعاً جائز بلکہ میڈیکل طور پر بھی قابل بھروسہ ہے۔
اسی میدان میں ایک نام ڈاکٹر محمد اعجاز انجم کا لیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس برس امریکہ میں ڈاکٹری کر چکے ہیں اور IVF گائناکالوجی کے ماہر ہیں ۔ اور اسی فیلڈ میں امریکہ میں بہترین کام کر چکے ہیں ۔
ان کا اپنا بیان ہے کہ امریکہ میں ان کے پاس دولت بھی تھی اور بہترین زندگی بھی مگر دل میں ایک خیال بار بار آتا رہا کہ پاکستان کے غریب بے اولاد جوڑے جو دس سے بارہ لاکھ روپے کے اخراجات کے سامنے بے بس ہیں وہ یہ نعمت کیسے پائیں گے انہی کے بقول اسی خیال نے انہیں واپس پاکستان کھینچ لیا اور انہوں نے آزاد کشمیر پشاور سوات اور لاہور میں سنٹرز قائم کیے جہاں وہی طریقہ کار جو لاکھوں میں ہوتا ہے کہیں کم قیمت میں پیش کیا جانے لگا۔
ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ ہے کہ اصل لاگت اتنی زیادہ نہیں جتنی مریضوں سے وصول کی جاتی ہے اور یہی بات جب انہوں نے کھل کر کہی تو ان کے بقول میڈیکل کمیونٹی کے ایک حصے نے اسے اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھا انہوں نے ان پر الزام لگانا شروع کر دیا ۔
پاکستان میں ای وی ایف ڈاکٹروں نے آپس میں مل کر ایک ریٹ طے کر رکھا ہے اور اس سے کم پر علاج نہ کرنے کی ضد ہے ڈاکٹر اعجاز انجم کے مطابق ان کے اس مؤقف کے بعد ان کے ہسپتالوں پر چھاپے پڑے مہنگی مشینری ضبط کی گئی اور انہیں ہر طرح سے تنگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اعجاز انجم صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ان مشکلات کے باوجود اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور پورے پاکستان میں سستے IVF سنٹرز کھولنے کے ارادے پر قائم ہیں۔
اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو یہ واقعی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ بانجھ پن کا دکھ صرف وہی جانتا ہے جو برسوں سے اولاد کی دعا مانگ رہا ہو اور پیسے کی کمی کے باعث علاج کا سوچ بھی نہ سکتا ہو ایسے میں ۔
اگر کوئی شخص اپنی آسائشیں چھوڑ کر واپس آئے اور غریبوں کے لیے کم قیمت پر یہی سہولت دینے کی کوشش کرے تو یہ قابل قدر بات ہے مگر ساتھ ہی ایک سچے صحافتی اور دینی اصول کی بھی یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی بھی طبی فیصلے سے پہلے خود تحقیق ضرور کریں ہسپتال کا طریقہ کار عملے کی قابلیت اور مریضوں کے تجربات خود دیکھیں دل مطمئن ہو تو ہی آگے بڑھیں ۔
کیونکہ اولاد کی خواہش جتنی مقدس ہے اتنی ہی احتیاط اس کے حصول کے راستے میں بھی ضروری ہے آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ پاک تمام بے اولاد جوڑوں کو نیک اولاد سے نوازے اور جو لوگ سچے دل سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں انہیں ثابت قدمی اور حفاظت عطا فرمائے۔
اس انفارمیشن کو اگے تک بھجیں تاکہ بے اولاد جوڑے جو برسوں سے صرف اس انتظار میں ہیں کہ انکے پاس پیسے نہی ہیں ان تک مسیج پہنچ سکے ۔ اور اس مہنگای اور لوٹ مار کے دور میں ڈاکٹر اعجاز صاحب کا اس ملک میں انا کسی نعمت سے کم نہی ہے ۔
خبر یہ ھے سپریم کورٹ ججز کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 10 دسمبر 2025 سے بڑھا دی گئی ہیں ۔ مطلب نو مہینوں کا بقایاجات بھی ملے گا اب فرض کیجیے تنخواہ دس لاکھ بڑھی تو ہر جج کو نوے لاکھ روپے ملیں گے ہمارے وزیروں اور چیئرمین سینٹ اور سپیکر کی تنخواہ بھی آٹھ مہینے پیچھے سے بڑھائی کروڑوں کے بقایاجات بیرون قرضہ حاصل کر کے ادا کئے گئے
نا اس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہوا نا ان سے منظوری لینی پڑی
@Asadrchaudhry Every Thursday night Rikshaw Race hoti. Jallo morr se Quad-e-azam interchange Ring Road Tk. Please uske liye b kuch kre hr saal 10 se zyada log mrte rikshaw accident se
میں اس بندے کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔
اگر آپ کے کم بچے ہیں تو سب کو باہر ممالک میں نہ بھیجیں
خاص کر ویسٹرن ممالک میں کیونکہ گلف اور عرب مڈل ایسٹ سے تو انسان کچھ سالوں بعد کماکر واپس آہی جاتا ہے
لیکن مغرب والے پکا پکا واپس نہیں آنے دیتے وہ ایسا جکڑ لیتے ہیں بندے کو
اور ماں باپ پیچھے خاص کر بڑھاپے میں اکیلے بہت زیادہ پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں😔