@BOLNETWORK@SMQureshiPTI ”تحریک ختم نبوت” لگی، یہ کتاب قریبا نصف صدی پہلے شائع ہوئی تھی۔انھوں نے کچھ انکشافات کئے تھے، ان کا مطالعہ کیجئے اور پھر کرتارپور بارڈر کی خبروں کو دوبارہ پڑھئے، آپ کے سامنے کا سارا منظرنامہ ہی بدل جائے گا، مرحوم شورش کاشمیری کتاب کے صفحہ 224 پر لکھتے ہیں:
@BOLNETWORK@SMQureshiPTI عبیداعوان.
کرتارپور بارڈر کھلا تو اس پر مختلف انداز میں تبصرے اور تجزیے کئے جارہے ہیں، ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ بارڈر کھول کر قادیانیوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی اثنا میں میرے ہاتھ معروف صحافی،جرات مند خطیب، شاعر اور ادیب مرحوم شورش کاشمیری(ہفت روزہ چٹان کے بانی مدیر) کی کتاب