ہمارے گاؤں کے نمبردار کی پھوپھی ہماری دادی ہے اور ہماری دادی کو ان کی طرف سے وراثت میں حصہ آیا اور اب وہ ہمارے دو بھائیوں کے نام ہے تو نمبردار نے ایسا کیا محکمہ مال میں تحصیل دار اور پٹواری وغیرہ کے ساتھ مل کر اس کے ونڈہ جات کروا لیے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلنے دیا اور ہمارا حصہ اس جگہ پر ڈال دیا جو بیکار ہے اور اس کے اوپر سے الیون کے وی کی تاریں گزر رہی ہیں ہم نے اب اس کی ADCR کے پاس اپیل کی ہوئی ہے لیکن اب ہمیں نمبردار حراساں کر رہا ہے اور ہماری زمین کے ساتھ سے سرکاری کھال گزر رہا ہے اس میں سے فصل کو پانی بھی نہیں لگانے دے رہا جس وجہ سے ہماری فصل خراب ہو رہی ہے ہمارے پاس عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر بھی ہے کہ ان کو پانی لگانے دیا جاے لیکن وہ دھونس اور پولیس کے ساتھ مل کر ہمیں پانی نہیں لگانے دے رہے اس کے علاوہ وہ اونے پونے دام ہم سے رقبہ لینا چاہتے ہیں حالانکہ انہوں نے خود مہنگا بیچا ہے ہماری گزارش ہے کہ ہمیں انصاف دیا جائے
@iRaiSaqib
ہر کسی کو یہی لگتا ہے کہ میرا متبادل ہے ہی کوئی نہیں۔ جب متبادل بنانے والے متبادل کا سوچتے ہیں تو کئی نکل آتے ہیں۔ اس ’’تہہ کی کاتی‘‘ صحافی کی پسندیدہ جماعت جائے گی تو چیخے گا کہ جی وہ جی جمہوریت نہیں ہے، بس پسندیدہ جماعت ہو تو ہی ان جیسوں کی جمہوریت ہوتی ہے
میرے خیال میں سہیل آفریدی کو اس کانفرنس میں لازمی شرکت کرنی چاہیے اور عمران خان، ان کی اہلیہ، کوٹ لکھپت جیل کے اسیران، اپنے سیاسی کارکنوں کے ساتھ جیل کے اندر ہونے والے ناروا سلوک اور 12 کارکنوں کی وفات سمیت دیگر تمام مظالم کو اجاگر ضرور کرنا چاہیے۔ جہاں چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججوں سمیت تمام ہائی کورٹس کے ججز بھی موجود ہوں ایسے مواقع پر ان ججوں کو آئینہ دکھانا ایک تاریخی موقع ہوتا ہے جسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے
مشہور لطیفہ ہے کہ کفن چور مر گیا کوئی اسے اچھے الفاظ میں یاد نہ کیا کرے۔ اس کے بیٹے کو یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی تھی کہ ابا جی گزر گئے کوئی انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا۔ کسی سیانے سے مشورہ کیا تو اس نے بڑے پتے کی بات بتائی۔ اب بیٹا کفن چور کفن چوری کرتا اور ساتھ میں مردے کی تشریف میں ایک کلہ بھی ٹھونک دیتا۔ لوگوں نے پھر کہنا شروع کردیا کہ اس کا باپ بھی اگرچہ کفن چور تھا لیکن بہرحال رحم دل تھا۔
اگرچہ مریم بی بی کے ابا جی بھی چور تھے لیکن رحم دل تھے۔
جن ججوں کو ہزاروں لاکھوں زیر التوا مقدمات سے فرق نہیں پڑتا، انہیں صحافیوں کے ساتھ کیے ظلم کی کوئی فکر نہیں، صحافی اپنا احتجاج جاری رکھیں، پریس روم لینے کی کسی بھی کوشش کا حصہ نہ بنیں، آپ کو ایک بار اندر بلا کر اگلے دن انہوں نے سمجھا صحافی ڈھیلے پڑ گئے ہیں، کل کانفرنس کے موقع پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے
پاکستان تحریک انصاف کا بیان
پشاور کے علاقے پستوانی میں مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون کی شہادت اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اس افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، شہید خاتون کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔
معصوم شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے واقعات عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کی جان اور عزت کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور کسی بھی بے گناہ شہری کے خون کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس ویڈیو میں وہ خود یہ کہہ رہا ہے کہ ایک نجی شخص بورڈ کے نام پر رقم وصول کرتا تھا بھلا ایک نجی شخص کے پاس یہ اختیار کب سے آگیا کہ وہ دکانیں سیل کرنے لگا
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر جہالت کے سینگ ہوتے تو پٹواری بارہ سنگا ہوتا
اس شخص کے پاس جوان اولاد کے لیے کفن نہیں تھا کوئی بات نہیں
اس ملک کی فوج کی 822 ارب روپے سالانہ کی پنشن تو تھی
فوجی افسران کے لیے تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ تو تھا
ہر جرنیل کے لیے پانچ ارب روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج تھا
فوجی افسران کے لیے ڈی ایچ اے تھے عسکری سوسائیٹیاں تھیں
سرسبز گالف کلبز تو تھے ٹورسٹ سپاٹس پر قبضے تو تھے
فائر وال پر لگانے کے لیے چالیس ارب روپے تو تھے
اس کے پاس کفن کے پیسے نہیں تھے تو کیا ہوا
اگر یہ تینوں بہنیں نہ اتی تو یہ جو یہاں پہ مجمع کھڑا ہے
یہ نہ ہوتا اور اگر یہ لوگ نا ہوتے
تو آج عمران خان شاید ہماری لیے ایک ماضی ہوتا
اللہ کے بعد ان تینوں بہنوں نے اور یہ جو لوگ یہاں پہ اتے ہیں انہی لوگوں نے عمران خان کو بچائے رکھا ہے ۔۔۔
شفقت ایاز
مریم اورنگزیب کہنا چاہ رہی ہیں میرے بارے میں سب نے کہا یہ فرنٹ وومین ہے لیکن مریم نواز نے میرا بازو پکڑا مجھے لے کر کافی شاپ میں گئی
ٹک ٹاک بنائی اور اس نے کرنل صاحب کو چیلنج کیا کرنل صاحب جو فائلیں بانٹتے تھے میرے خلاف ان کو شٹ اپ کال دی گئی ہے کہ حضور ہم نسل در نسل شریفوں کے خادم ہیں اور یہاں خادموں کو ہی نوازہ جاتا ہے
وہ کرنل بھی انتظار کر رہا ہے کس دن باس کہے گا اٹیک پھر میں بتاؤں گا مریم اورنگزیب کو تو کتنی بڑی بدمعاش ہے
شہزاد اکبر
شوکت نواز میر کو گرفتار کرنے کے لیے مبینہ طور پر اس مقام ہِل سرنگ کی ندی (جسے مقامی زبان میں کَس کہتے ہیں) کے قریبی جنگل میں آپریشن کیا گیا۔ یہ علاقہ ضلع مظفرآباد اور باغ کی درمیانی حدود میں آتا ہے اور قریبی علاقے کا نام سنگڑ پٹھارا ہے
سنئیر صحافی فرحان خان کی فیس بک وال سے
@TheFarhanAKhan
وزیر داخلہ فوج کا ، وزیر خزانہ فوج کا ، الیکشن فوج چرائے ، تنخواہوں میں اضافے فوج لے ، ملک فوج کے سیکٹر کمانڈرز چلائیں ، لیکن کفن کے پیسے نہ ہونے کی ذمہ دار کٹھ پتلی حکمران ہیں ؟ کوفی صرف خاموش تھے ہمارے والے بدبخت الٹا غلط سمت میں اشارے بھی کرتے ہیں۔
یہ ہے سسٹم جس سے ہر شہری کو شدید نفرت ہو چکی ہے، پہلے سسٹم گلا سڑا تھا مگر اب بدبودار ہو چکا ہے - یعنی ایک ہاتھ والا بزرگ ٹریفک بلاک کر سکتا ہے ، گالیاں دیتا ہے اور چوک میں کہتا ہے کہ میرا جو کرنا ہے کر لو مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔
عمران خان کی بہنیں جو مسلسل سڑکوں پر ہیں اور مزاحمت کررہی ہیں وہ غدار ہیں اور جو گفتار کے غازی راتوں کو حکومتی عہدیداروں کے ساتھ دعوتیں اڑاتے ہیں، محسن نقوی تک پر تنقید کرنے کی جرت نہیں کرتے وہ سب وفادار ہیں، یہ ٹیکنالوجی نہیں تو اور کیا ہے
امن آباد ماڈل بازار کے تقریباً چھ تاجروں سے میری گفتگو ہوئی جن میں سے متعدد افراد نے مجھے بتایا کہ ہم سے بھی 60 60 ہزار روپے وصول کیے گئے تھے ایک شخص رقم لینے آیا تھا اور جب ہم نے اس سے استفسار کیا تو اس نے کہا کہ تمہاری دکان سیل کر دی جائے گی
جب میں نے تاجروں سے گزارش کی کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں آپ اس معاملے پر مجھے انٹرویو دے دیں تو ایک بھی تاجر آمادہ نہ ہوا سب نے یہی کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں دھمکیاں دی گئی ہیں کہ تمہاری دکانیں مسمار کر دی جائیں گی
ایک تاجر نے کہا کہ میری دکان میٹرو لائن کے بالکل سامنے واقع ہے اگر میں نے زبان کھولی تو یہ لوگ میری دکان گرا دیں گے اور اس جگہ میٹرو کا پل تعمیر کر دیں گے
ایک اور دکاندار نے کہا کہ میری اس بازار میں دو دکانیں ہیں وہ لوگ اس قدر بااختیار ہیں کہ کسی بھی بہانے میری دکانیں ضبط کر سکتے ہیں یا مجھے بازار سے بے دخل کر سکتے ہیں
کوئی ایک بھی تاجر مجھے انٹرویو دینے پر رضامند نہ ہوا
البتہ اسی بازار کے صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ یہ بازار مریم نواز نے تعمیر کروایا تھا مگر اسی ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی نجی شخص رقم وصول کر رہا تھا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ واقعی ایک نجی شخص تھا تو اسے یہ اختیار کیسے حاصل تھا کہ وہ کسی کی دکان سیل کر سکتا تھا
اس حکومت کے خوف اور ہراس کے باعث صرف ایک ہی شخص لب کشا ہوا ہے
اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
مُذاکرات کے ذریعے خان صاحب سے ایک بہن کی ملاقات کوئی مان نہیں رہا، اب وہ راستہ بھی بند ہو گیا، عدالتیں خان صاحب سے ملاقاتوں کا کیس سن نہیں رہی اور کیس اگست تک لے گئی ہیں، مزاحمت ہم کر نہیں رہےتو کیا اب عمران خان کی قیدِ تنہائی قبول کر لیں؟؟
پورا پورا دن جیل میں پانی نہیں آتا ، اتنی شدید گرمی میں خواتین اور بچوں کا پانی کے بغیر بُرا خال ہو جاتا ہے ، طبیعت شدید خراب ہو جاتی ہے
قیدیوں کو انسان سمجھا جائے ، محرم الحرام کے مہینے میں ایسا سلوک کرنے والوں کو شرم آنی چاہیئے
فلک جاوید خان کا ATC میں افضال پاہٹ سے مکالمہ۔۔
فوج اور ن لیگ ایک بار پھر عوام کو گلیاں پکی کرنے کی سیاست کی طرف لے جانا چاہ رہے ہیں اس کی تشہیر کیلئے خرچہ کیا جارہا ہے تاکہ عوام اصل مسائل کے بجائے دوبارہ ان چیزوں پہ ووٹ دینا شروع کردے قانون انصاف حقوعق کی بات کوئی نہ کرے صحت تعلیم کی کوئی بات نہ کرے!