علی محمد خان جیسے لوگوں کو "پیرا سائیٹس" کہا جاتا ہے۔ یہ ژندہ رہنے کے لیے دوسرے جانداروں پر انحصار کرت�� ہیں، ان کا خون چوستے ہیں اور زندہ رہتے ہیں۔
سیاسی پہچان کے لیے عمران خان پر انحصار کیا، عمران خان کی بدولت یہ جونک اسمبلی اور سینیٹ پہنچا۔ عمران خان کا جب مشکل وقت شروع ہوا تو اس طفیلیے نے بھی زندہ رہنے کے لیے پارٹی بدل لی۔
سیاست کی یہ جونک آج عمران خان کے حق میں بولتے کبھی نظر نہیں آئے گی لیکن ہر وہ اقدام جس سے عمران خان کی رہائی کی امید ہو، یہ اس کی مخالفت میں پہلی صف میں ہو گا۔
مورل آف دا سٹوری: پیرا سائیٹس یعنی خون چوسنے والی جونکوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ ان کو صرف اور صرف اپنے سروائیول کی پرواہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کی پارٹی میں ایسے پیرا سائیٹس کی بہتات ہے جنہیں وقت نے بے نقاب کیا ہے
اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
The moment that defined Pakistan’s sporting history, led by the man who would later lead the nation.
Imran Ahmed Khan Niazi, a champion on the field and Pakistan's legitimate Prime Minister, inspired generations with one unwavering belief: never stop fighting.
آج باجوڑ میں ایک گھر پر ڈرون حملے نے ایک بار پھر بے گناہ جانوں کی قیمت پر ہونے والی خاموشیوں کو بے نقاب کر دیا۔ اس حملے میں تین معصوم بچے شہید ہو گئے جبکہ سات افراد شدید زخمی ہوئے۔ وہ ننھے بچے جو زندگی، خوابوں اور امیدوں کی علامت تھے، اب صرف ایک المناک خبر کا حصہ بن گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پشتون علاقوں میں معصوم شہریوں کا خون کب تک بہایا جاتا رہے گا اور اس پر خاموشی کب تک اختیار کی جاتی رہے گی؟
عالمی امن، انسانی حقوق اور انصاف کے دعویداروں سے گزارش ہے کہ وہ عالمی تنازعات کے ساتھ ساتھ مقامی سانحات پر بھی توجہ دیں۔ امن کا آغاز اپنے لوگوں کے تحفظ سے ہوتا ہے۔ ہر معصوم جان قیمتی ہے اور ہر بچے کی زندگی سیاست، طاقت اور مصلحتوں سے زیادہ اہم ہے۔ باجوڑ کے متاثرہ خاندان انصاف، جوابدہی اور انسانیت کے تقاضوں کے منتظر ہیں۔
یہ غزہ نہیں افغانستان ہے، جہاں اسرائیلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور ائیرفورس نے اندھا دھند بمباری کرکے معصوموں کا خون بہایا ہے۔
زندہ ہے، یزید آج بھی زندہ ہے!
یہ غزہ نہیں خیبر پختونخواہ پاکستان ہے، جہاں اسرائیلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج نے یہ ظلم کیا ہے۔ کدھر ہے خیبر پختونخواہ حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کی مذمت؟
🚨🚨ٹرمپ پھر بہت بڑی miscalculation کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز فوجی طاقت کے زور پر ایران سے چھیننا چاہتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔
اس سے جنگ کا خوفناک دوسرا راؤنڈ وقت سے پہلے شروع ہوجائے گا جو اگست یا ستمبر میں شروع ہونا تھا۔
آبنائے ہرمز پر امریکہ اب کبھی بھی مکمل کنٹرول حاصل نہيں کر سکتا۔ ایران کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن لیکن اس آبی گزرگاہ کو قبل از جنگ کی کیفیت میں نہيں لوٹا سکتا۔
جنگ میں ایران کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ مثلا ایران کی دونوں سٹیل ملز
امریکہ اور اسرائیل نے تباہ کر دی ہیں۔ ان کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔
ایک کھرب ڈالرز سے بھی زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ 300 ارب ڈالرز کا مجوزہ فنڈ اس نقصان کو پورا نہيں کرسکتا۔ اس لئیے ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز سے transit fee چارج کر گا تب تک جب تک ایران کا نقصان پورا نہيں ہوجاتا۔ اگلے کم از کم دس سالوں تک۔
ماہرین کا خیا�� ہے کہ ایران اس معمولی transit fee سے سالانہ 40 سے 50 ارب ڈالرز اکٹھے کر سکتا ہے۔
ایران یہی کام کرے گا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے ایک کھرب ڈالرز کا جنگی تاوان ادا نہيں کریں گے۔
(جمی ورک)
ہو سکتا ہے مجھے جیل میں موت آ جائے، حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھ��ڑنا۔ 😢
اس وصیت میں انہوں نے کسی بڑے رہنما یا عہدیدار کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر ��اسمین راشد 😢
ڈاکٹر یاسمین راشد کی دل دکھا
دینے والی وصیت💔
ہو سکتا ہے مجھے جیل میں موت آ جائے، حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔ 😢
حیرت کی بات ہے عمران خان نے اپنی بہنوں سے ، اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ اپنے نامزد کردہ وزیراعلی سہیل آفریدی سے ملاقات کا اظہار نہیں کیا لیکن بیرسٹر سیف سے ملاقات کا اظہار کر دیا ہے جو شُد گیٹ نمبر چار پیداوار ہے۔اور اس بات کی خبر کسی اور کو نہیں ہوئی اے آر وائی کے نعیم اشرف کو سب سے پہلے ہو گئی ہے
مصطفیٰ کھر کے بارے میں کئی تحریرین میری نظر سے گزری، جن میں میرا ذکر بھی تھا۔
میں 21-22 کا طالب علم تھا، مجھے مصطفیٰ کھر نے زنجیروں میں بندھوا کر جنوری کی سرد راتوں میں برف کی سلوں پر لٹایا۔ آج تک نہیں سمجھ سکا کے انکی کون سی ego satisfy ہوگئ۔