میرے اہلِ وطن، اہلِ پاکستان کو عید مبارک!
میرے لئے یہ سب سے کربناک اور تکلیف دہ عید ہے۔ ہمارے تقریباً دس ہزار کارکنان اور سپورٹرز کو جیلوں میں بھر دیا گیا ہے جبکہ پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر ان سے مجرموں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔
ہمارے بہادر قائدین، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ وغیرہ جیسی خواتین رہنما بھی شامل ہیں، جیل میں قید اور تحریک انصا�� سے علیحدگی اختیار کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔
ہمارے 16 کارکنان کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا جبکہ دیگر 8 کے بارے میں بھی شبہ یہی ہے کہ انہیں بھی قتل کیا گیا تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ ان کے اعزّا و احباب پولیس کے خوف سے زیرِ زمین ہیں۔ 50 دیگر کو بھی گولیاں ماری گئیں۔
تاہم سیکورٹی اہلکاروں کیجانب سے نہتّے مظاہرین پر طاقت کے اس بے جا استعمال کا نہایت حیران کن طور پر (ریاستی و سرکاری سطح پر) ذکر تک سنائی نہیں دے رہا۔ پھر اس امر کا سراغ لگانے کیلئے کہ 9 مئی کو اصل میں ہوا کیا، کسی آزاد تحقیق کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس سرکاری سطح پر تحریک انصاف کیخلا�� یکطرفہ پراپیگنڈے کے ذریعے ہر اس شخص کو، جس کی تحریک انصاف سے ذرا سی بھی نسبت ہے، کو محض اس یک نکاتی ہدف کے تحت کہ انتخابات سے قب�� کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کچل دیا جائے، پر جبر و دہشت کے پہاڑ توڑے گئے۔
تحریک انصاف اور (پاکستانی) قوم اس تاریک دور سے پہلے سے نہایت مضبوط ہو کر ابھریں گے، انشاءاللہ۔
اسی طرح میڈیا پر بھی کڑے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور اس فسطائی سرکار کے ناقدین اس (ریاستی) غیض و غضب کے نشانے پر ہیں۔
عمران ریاض خان کو اغواء کیا گیا اور 40 روز سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے کہ کسی کو اس کی سلامتی و مقام کے بارے میں خبر نہیں۔ اس طرح ہمارے 5 معتبر صحافی جنہیں مجبوراً ملک چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینا پڑی۔اس عید پر ہم انہیں بھی اپنی یادوں کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔
مجرموں کے ٹولے کیجانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان پر حملے، اس کے اختیارات کو کم کرنے اور اسے نیچا دکھانے کی کوششوں کی عوام بھرپور مزاحمت کررہے ہیں اور یہ مزاحمت جاری رہے گی۔