یہ وادی سون کا وہ چالیس فیصد حصہ ہے جو میں نے دیکھا ہے اور ساٹھ فیصد حصہ ایسا ہے جسے ابھی تک نہیں دیکھ سکا ، لیکن مجھے یقین ہے کہ جب میں یا کوئی بھی اس ساٹھ فیصد حصے کو دیکھے گا تو وہ اس بات سے اتفاق کرے گا کہ وادی سون ایک حیرت انگیز وادی ہے جس کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں، مگر اس خوبصورتی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آج وادی سون ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے، جھیلیں آہستہ آہستہ خشک ہو رہی ہیں، پہاڑ سنسان ہوتے جا رہے ہیں، جنگل ختم ہو رہے ہیں اور وہ احساس جو کبھی ان پہاڑوں اور جھیلوں کو دیکھ کر دل کو سکون دیتا تھا وہ اب ویسا نہیں رہا، دل میں ایک عجیب سا خوف ہے کہ کہیں ہماری وادی کا حُسن ماند نہ پڑ جائے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں ہی وادی سون کو دیکھ سکیں، کیونکہ وادی سون صرف ایک خوبصورت جگہ نہیں بلکہ ایک احساس ہے، ہماری پہچان ہے اور ہماری ذمہ داری ہے، اس کی خوبصورتی اور اس کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا ہوگا،
وادی سون کو درختوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہر گاؤں میں جیسے درخت پہلے تھے وہ اب تقریبابہت کم ہو چکے ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں، وادی سون کے
وہ پہاڑ جو آگ کی لپیٹ میں آ کر جل چکے
ہیں آج بالکل خالی ہو چکے ہیں اور سنسان نظر آتے ہیں، اسی لیے میں ان تمام لوگوں سے جو میری وال کے ساتھ جڑے ہیں اور جن کا تعلق وادی سون سے ہے ان سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور یہ سوچیں کہ وادی سون میں درخت کیسے لگائے جا سکتے ہیں اور وہ کون سے پودے یا درخت ہیں جو ان پہاڑوں پر دوبارہ اگ سکتے ہیں جو آگ کی نظر ہو چکے ہیں، اس بارے میں رہنمائی بھی کریں اور عملی طور پر بھی اس کام میں حصہ لیں، درخت اپنے طور پر بھی لگائے جا سکتے ہیں لیکن اگر یہ کام سرکاری سطح پر کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ ان درختوں کی باقاعدہ حفاظت کی جا سکے، کیونکہ اگر آج ہم نے وادی سون کو بچانے کی کوشش نہ کی تو کل شاید بہت دیر ہو جائے
حسن نواز
#soonvalley #wadisoonsakesar
@rizwanghilzai یہ جو بھونک رہا ہے کنڈی ؟
یہ خود کنڈی لگا کر سو رہا تھا ؟
یہ بھی تو گورنر ہے صوبے کا یہ کہاں تھا ؟
کیا اسنے کوئی قدم اٹھایا ؟
پی ٹی آئی کو پھانسی دے دو لیکن یہ بیخیرت صرف بھونکنے کے لیے ہیں؟
شدید یدھ - میں نے جناب وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعظم مودی جی، دونوں کی براہ راست تقریریں سنیں اور میں ابھی تک پریشانی کا شکار ہوں کہ ان دونوں میں سے بدترین مقرر کون ہے؟
#Pakistan#India#Modi#ShehbazSharif
Imran Khan: Pakistan will not think about retaliating, Pakistan WILL retaliate.after trees were bombed in balakot.
Shehbaz Sharif: Pakistan will only retaliate if India attacks again after 26 were killed a dam damaged & a mosque was bombed.
#FreeImranKhan#IndiaPakistanWar
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://t.co/M1oq2ClrtQ and use my username (Msawan92) as your invitation code.
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://t.co/ZDsKSXP9ao and use my username (gmawan92) as your invitation code.
لاہور پنجاب کالج کے طلباء نے تو حق ادا کر دیا ہے اپنی کالج فیلو کا ۔ اور جس طرح لڑ رہے ﷲ انکو کامیاب کرے۔
لیکن سوال اٹھتا ہے باقی پاکستان کی کالج یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباء پر کہ آپ کیوں چپ ہو کل کو یہی آپکے ساتھ بھی ہو سکتا کس بات کا تماشا دیکھ رہے
#JusticeForPGCstudent
پی ٹی آئی پر ایک اور ٹیسٹر کامیاب ہوگیا ہے۔
خان کو بند کر کے لیڈرشپ کنٹرول ہو چکی اور عوام تو ہے ہی ۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ ٹیسٹر ایک روٹین ورک بن جائے گا اور پھر وہ خبر آئی گی جس کے لیے یہ سب تماشا کیا جا رہا۔
خاموش رہو۔۔ بولنامت۔ ۔
حق پر بولنا موت کو دعوت.
#ImranKhanLifeAtHighRisk
In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.
سیاست شطرنج کی بساط ہے۔ پیادے کی پہلی چال سے بادشاہ کی آخری چال سمجھنی پڑتی ہے۔ کم کہے کو زیادہ پڑھنا ہوتا ہے۔ ہونٹوں کی جنبش میں داستان اور آنکھ کے اشارے میں راستہ کھوجنا ہوتا ہے۔ یونہی ایک دن ایک اشارے کا سرا پکڑے پی آئی ڈی گیا اور چند سوال چھوڑ آیا۔ گھر پر احباب کو کہہ کر آیا تھا کہ بس چند لمحوں میں حاضر ہوا مگر ابھی پی آئی ڈی سے نکلا ہی تھا کہ بادشاہ کے ایک پیادے نے راستہ کھوٹا کردیا۔ عذر پیش کیا کہ بہت ضروری ہے آپ آجائیں یا ہم ”نازل“ ہوتے ہیں کہ انہیں ابھی کے ابھی ملنے کا آرڈر ہے۔ چھوٹتے ہی پوچھا ”سر پریس کانفرنس خدشات پر کی ہے یا معلومات پر؟“ کہا آپ بتائیں تصدیق کا فریضہ تو آپ کو تفویض ہے۔ خدشے میں صداقت ہو تو معلومات تصور ہوتی ہیں۔ بولے اور آپ سے کس نے بُلوایا؟ میں نے کہا کسی نے نہیں۔ یونہی بیٹھے بیٹھے دو اور دو چار کر رہا تھا اور جواب پانچ آرہا تھا تو سرا ڈھونڈنے چل پڑا۔ سوالی جھنجھلا کے چل پڑا۔
اگلے دن پھر گھنٹی بجی بولائے بولائے افسر حاضر ہوئے؛ ”سر آپ کو وزیراعظم نے کہا تھا پریس کانفرنس کے لیے؟“ پوچھا وہ کیوں کہیں گے؟ جواباً بھی سوال آیا، چند دن پہلے ارشد شریف کے پروگرام میں بھی مسکراتے ہوئے ایسا ہی کچھ تذکرہ کیا تھا آپ نے۔ آپ کیا جانتے ہیں؟
اب تو مجھے بھی تجسس ہوا کہ میں کیا جانتا ہوں، ارشد سے تذکرہ کیا کہ اشارہ کہیں اور کو کیا تھا تشویش کہیں اور اٹھ رہی ہے تو وہ بھی مسکرا دیے۔
چند دن بعد وزیراعظم کے ساتھ مہمند کا سفر درپیش تھا۔ پوچھا سر کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے کہ حوالے سے صرف بیرونی دباؤ ہے یا اندرونی بھی؟ خان صاحب بھی مسکرا دیے، بولے پریس کانفرنس کی ٹائمنگ اچھی تھی۔ اب تو میرا مسکرانا بھی بنتا تھا۔
لندن میں ہونے والی ایک ملاقات کا تذکرہ کیا تھا میں نے اپنی پریس کانفرنس میں۔ اسرائیل کے حوالے سے عمران خان کی تقریر کا کلپ چلایا تھا اور سازشوں کا ذکر کیا تھا۔ جو دو اور دو چار میں کررہا تھا اس میں پانچواں فریق کون تھا اس کا جواب پی آئی ڈی سے منسٹر انکلیو کے راستے میں مل گیا تھا۔ اسرائیل پر عمران خان کا موقف کیا تھا، کیا ہے اور کیا رہیگا اس کا جواب مجھے تو عمران خان کے ساتھ سفر میں ہی مل گیا تھا (”مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الہ الا للہ”) آپ کو اس کی اسیری میں نہ ملے تو دنیاوی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی گئی اس کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں ڈھونڈ لیں۔ باقی گتھیاں سلجھانے کے لیے یوکرائن جنگ میں ہمارے کرم فرماؤں کے کردار۔ رجیم چینج کے فوراً بعد اسرائیل بھیجے گئے وفد کے نمائندگان اور اگر گذشتہ برس اکتوبر میں حماس کا حملہ نہ ہوتا تو ہمارے ہاں کیا ورکنگ ہوچکی تھی کا جواب ڈھونڈ لیں میں کچھ زیادہ کہونگا تو حساس معاملات چھیڑنے کا ایک اور الزام لگ جائیگا اور پھر کوئی منہ سے جھاگ اڑاتا، ہذیانی ٹاؤٹ ہماری مسکراہٹوں میں خنجر تلاشنے لگے کا۔
وللہ خیرا الماکرین۔