شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
آج خلیل الرحمان قمر صاحب نے مجھے روتے ہوئے کال کی۔کہنے لگے میں اور میری بیگم رات سے یوں رو رہے ہیں جیسے ہمارے اپنے بچے مر گئے ہوں۔ہم نے سروس کے دوران 6 برس آزادکشمیر میں گزارے۔ کوٹلی میں شہید ہونے والا احسن سلیم میرے دوست کا بیٹا تھا جو آزادکشمیر میں 6 سالہ ملازمت کے دوران بینکنگ سیکٹر میں میرا کولیگ تھا۔جب میں نے تعزیت کے لیے اپنے دوست سلیم کو فون کیا تو اس 66 سالہ بوڑھے نے رو کر مجھے کہا کہ خلیل الرحمان قمر تو نے میرا بیٹا مار دیا ہے۔میں نے بطور پاکستانی اسے کہا کہ ہاں دوست میں بھی تیرے بیٹے کا قاتل ہوں۔میں بطور پاکستانی آپ سب کشمیریوں سے معافی مانگتا ہوں۔
کل منڈی بہالدین سے ایسی ہی دل دہلا دینے والی خبر ملی۔طلاق یافتہ بیوی اور اس کے بھائیوں نے نو عمر بیٹی سے باپ پر جنسی زیادتی کا الزام لگوایا جو باپ کے ساتھ رہتی تھی۔پولیس نے بندے کو اٹھایا تھانے لے گئے۔گاوں والے تھانے پہنچے قسمیں دیں کہ انتہائی شریف آدمی ہے اور اس کی سابق بیوی اور سالے چالباز ہیں۔پولیس نے کہا آپ لوگ جائیں کچھ دیر میں بھیج دیتے ہیں۔بندے کو سی سی ڈی کے ذریعے مروا کر گھر لایا اور کہا کہ جب ہم گرفتار کرنے آئے تو بندے نے خودکشی کر لی۔لڑکی کی میڈیکل رپورٹ آئی تو اس میں کوئی جنسی زیادتی سامنے نہیں آئی۔پنجاب اس وقت ایک جنگل ہے جہاں پولیس اور سی سی ڈی والے عام لوگوں کا شکار کرتے پھر رہے ہیں۔مخالفین سے پیسے پکڑتے ہیں اور کوئی بھی الزام لگا کر بندہ مار دیتے ہیں۔ایک مکمل "لا لیس " اسٹیٹ بن چکا پنجاب۔
Before Imran Khan's arrest, Azaz Syed and Umar Cheema kept insinuating that Imran Khan used drugs and that’s why he was terrified of going to jail. Honestly, even a drug dealer like Pinky has more integrity than these two shameless touts.
🚨 انمول پنکی کا انکشاف
مجھ سے زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ آپ کہیں کہ آپ بنی گالا میں سامان دے کر آتی رہی ہو
یہ بے شرم فیصلہ ساز اس قدر گر چکے ہیں کہ اب دوبارہ سے عمران خان کے خلاف اس قسم کی گھناؤنی سازشیں کررہے ہیں
ایک سال پہلے گریڈ 18 میں ترقی پانے والی انعم فاطمہ کے پاس ایک تیسرا عہدہ بھی ہے، وہ گریڈ 20 کی پوسٹ پر چیف آفیسر میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد بھی ہیں۔ 2024 میں چوہدری مونس الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنا ان کا ایسا کارنامہ تھا جو مخصوص حلقوں میں سالوں تک یاد رکھا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے یہ تمام ورکرز جیل میں قید کے دوران یا رہائی کے فورا بعد کیوں وفات پا گئے۔ ؟ ایسا کیوں ہوا؟ زیادہ تر کی آنکھیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان سب کی تحقیقات کون کرے گا؟ کیا اس ملک کے شہری لاوارث ہیں؟
اگر اقبال آفریدی کے بیٹے نے سفارتی پاسپورٹ لیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف کے باقی اراکین پارلیمنٹ کے بچوں کے پاس بھی سفارتی پاسپورٹس موجود ہیں۔ یہ ان مراعات کی جھلک ہے جو ان لوگوں کو نا اسمبلیاں چھوڑنے دیتی ہیں نا اسمبلی میں بولنے دیتی ہیں۔
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
یہ ایک شدید قسم کا اسسٹنٹ کمشنر بوریوالہ ، اپنے گھر سے ہی کوٹ پر مائیک لگا کر کیمرے کے ساتھ ہاسپٹل میں آیا ہی ٹک ٹاک بنانے کے لئے تھا ۔
یہ سستا مولا جٹ، انتہائ فلمی انداز میں ہاسپٹل (THQ) میں داخل ہوا اور ایک لیڈی ڈاکٹر سے بدتمیزی کرنا شروع کر دی ۔ اس دوران مسلسل ریکارڈنگ ہوتی رہی ۔
ایک سے بڑھ کر ایک کم ظرف ہے !!!
یہ ہے css کی پیداوار
اس جاہل نے انگریزی کے دو پیپر کیا پاس کرلیے یہ اب ڈاکٹرز کی توہین کررہا ہے
انکی اوقات انگریزوں کے کتے نہلانے والی ہوتی ہے اور یہاں یہ فرعون بنا ہوا ہے۔
انکو ہسپتال میں گھسنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہیے
ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی کے خلاف ریلی میں پی ٹی آئی کے جھنڈے لہرانے پر پی ٹی آئی کی خاتون کارکن فضا عالم سمیت ریلی کے دیگر شرکاء پر ایف آئی آر درج، رات گئے مرد پولیس اہلکار فضا عالم کی چادر چاردیواری کا تقدس پامال کرتے اسے گھر سے اٹھا کر لے گئے ۔
عوام کی سب سے مقبول ، سب سے بڑی نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعت جس کا مینڈیٹ چرا کر یہ مافیا ملک پر قابض ہے اس جماعت کا جھنڈا اٹھانے پر ایف آئی آرز دی جارہی ہیں اس سے بڑھ کا لاقانونیت کیا ہوگی۔
1971 میں ترانوے ہزار پاکستانی فوجیوں کی پتلونیں اتار کر اور کارگل فتح کر کے بھی انڈین فوج نے کبھی اس طرح کے کنجر خانے والا جشن نہیں منایا ۔
پاکستان آرمی شکست خوردہ تو ھے مگر کنجر اور بےغیرت بھی ھے
@OfficialDGISPR@adgpi