کبھی کبھی صرف ایک جہد مسلسل کی تھکن ہر احساس پر حاوی ہو جاتی ہے، افسردگی، اداسی، حزن، ملال، رنج، اکیلا پن، تنہائی، تہی دامنی اور ہر احساسِ زیاں محض بے نام سی کیفیتیں بن کے رہ جاتی ہیں۔
سدا بادشاہی صرف سوہنے رب کی ہے جو زمین و آسمان اور سمندروں کا مالک ہے، ہر فتح و کامیابی اسی کی دین ہے، سجدہ شکر بجا لائیں نا کہ شیخیاں بگھاریں اور تکبر سے کام لیں۔
پچھلی دفعہ اخلاق کا مظاہرہ کرکے ان کے پائلٹ کو چائے پلا کر رخصت کیا تھا، لیکن اس دفعہ چائے یہاں نہیں وہیں پلائیں گے!.
(خطابِ جمعہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
پچھلی دفعہ اخلاق کا مظاہرہ کرکے ان کے پائلٹ کو چائے پلا کر رخصت کیا تھا، لیکن اس دفعہ چائے یہاں نہیں وہیں پلائیں گے!
(خطابِ جمعہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
بھارت نے اس دفعہ براہ راست مساجد مدارس اور قرآن کریم کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے جو اسکی اسلام دشمنی کا کھلا مظاہرہ ہے مساجد کے ائمہ اور خطباء سے گذارش ہے کہ وہ جمعہ کے خطبوں میں بھارت کی شرانگیزی کے خلاف پوری قوم کو متحد کرکے ان میں جذبہ جہاد کو فروغ دیں اور باھمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ھونے کی اپیل کریں اور فتح ونصرت کی دعائیں کریں آیت کریمہ اذالقیتم فئة فاثبتوا واذكرواالله كثيرا اور ولا تنازعوا فتفشلوا كو خطبات كا موضوع بنائیں
یہ گزشتہ کل مدینہ منورہ کا منظر ہے، جہاں گورنر مدینہ، عرب و عجم کے علماء اور اصحاب فضل وقت کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو مؤدب ہو کر سن رہے ہیں،
اور ایک ہمارا بد نصیب ملک ہے جہاں ہر جاہل، چھچورا اور بدکردار ان پر اپنی گندی زبان دراز کرنا قابل فخر سمجھتا ہے
یہ گزشتہ کل مدینہ منورہ کا منظر ہے، جہاں گورنر مدینہ، عرب و عجم کے علماء اور اصحاب فضل وقت کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو مؤدب ہو کر سن رہے ہیں،
اور ایک ہمارا بد نصیب ملک ہے جہاں ہر جاہل، چھچورا اور بدکردار ان پر اپنی گندی زبان دراز کرنا قابل فخر سمجھتا ہے
یہ گزشتہ کل مدینہ منورہ کا منظر ہے، جہاں گورنر مدینہ، عرب و عجم کے علماء اور اصحاب فضل وقت کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو مؤدب ہو کر سن رہے ہیں،
اور ایک ہمارا بد نصیب ملک ہے جہاں ہر جاہل، چھچورا اور بدکردار ان پر اپنی گندی زبان دراز کرنا قابل فخر سمجھتا ہے
یہ گزشتہ کل مدینہ منورہ کا منظر ہے، جہاں گورنر مدینہ، عرب و عجم کے علماء اور اصحاب فضل وقت کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو مؤدب ہو کر سن رہے ہیں،
اور ایک ہمارا بد نصیب ملک ہے جہاں ہر جاہل، چھچورا اور بدکردار ان پر اپنی گندی زبان دراز کرنا قابل فخر سمجھتا ہے