گڈ گورننس - اوپن ڈور پالیسی!
ڈی سی ہری پور اصلاح الدین نے "اوپن ڈور پالیسی" کے تحت شہریوں سے ملاقات کی اور ان کی شکایات بلا واسطہ سنیں۔
متعلقہ افسران کو عوامی مسائل میرٹ پر اور فوری حل کرنے کی سخت ہدایت
شہریوں کو آسان رسائی اور انتظامی سہولیات کی بروقت فراہمی کا عزم
بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو لینے والی پولیس پارٹی پر تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر حملہ کیا گیا
حملہ آوروں کی فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ حملے کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہوگئے۔
حملے میں اشتہاری مجرم ممتاز بھی مارا گیا
پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران دو حملہ آور بھی ہلاک
طاہر اورکزئی پراونشل سول سروسز ( سیکرٹریٹ گروپ) گریڈ 20 کے آفیسر ہیں جو اہم ترین محکموں میں سیکرٹری عہدوں پر تعینات رہے ہیں گَزشتہ تقریبا ایک سال سے او ایس ڈی ہیں وہ لکھتے ہیں کہ
عہدے کی طاقت کا فریب
The Illusion of Positional Power
“اپنے سول سروس کے ساتھیوں کے نام—احترام، عاجزی اور تین دہائیوں کی خدمت سے حاصل ہونے والے اسباق کے ساتھ۔”
سول سروس میں سب سے باریک خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان عہدے کی طاقت کو اپنی ذاتی طاقت سمجھنے لگے۔
جیسے ہی آپ کسی اہم کرسی پر بیٹھتے ہیں، مبارک باد کے پیغامات آنے لگتے ہیں—ایسے لوگوں کی طرف سے بھی جنہیں آپ شاید ہی جانتے ہوں۔ لوگ ملنے آتے ہیں، گلدستے پیش کرتے ہیں، گرمجوشی سے ملتے ہیں، تعریف کرتے ہیں اور ایسی اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں جو شاید اس سے پہلے نظر نہیں آئی تھی۔ اچانک آپ خود کو توجہ کے ایک حصار میں گھرا ہوا پاتے ہیں۔
دانائی یہ ہے کہ اس توجہ کو بے نیازی کے ساتھ قبول کیا جائے اور یہ یاد رکھا جائے کہ اس میں سے کیا عہدے کا حصہ ہے اور کیا واقعی ہمارا اپنا ہے۔
تیس سالہ سول سروس میں، میں نے اس رویے کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ انسان کتنی آسانی سے ایسی توجہ کا عادی ہو جاتا ہے جو مکمل طور پر اس کی اپنی نہیں ہوتی۔ اس کا بڑا حصہ اس عہدے کا ہوتا ہے جس پر وہ فائز ہے۔
اور ہم میں سے کوئی بھی اس فریب سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
مسلسل ملنے والا احترام ذاتی محبت محسوس ہونے لگتا ہے۔ ہر وقت لوگوں کی رسائی ذاتی اہمیت کا گمان پیدا کر سکتی ہے۔ اختیار آہستہ آہستہ یہ یقین پیدا کر سکتا ہے کہ دفتر کا اثر و رسوخ ہماری اپنی شخصیت کا وصف ہے۔
عہدہ اختیار دیتا ہے۔
کرسی نمایاں کرتی ہے۔
دفتر اثر و رسوخ دیتا ہے۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے ہماری نہیں ہوتی۔
ایک دن تعیناتی بدل جاتی ہے۔ انسان کسی کم بااختیار عہدے پر آ جاتا ہے، منصب سے الگ ہو جاتا ہے یا ریٹائر ہو جاتا ہے۔ فون کم ہو جاتے ہیں۔ ملاقاتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ کوئی اور اس کرسی پر بیٹھ جاتا ہے—اور زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔
اس میں کوئی ناانصافی نہیں؛ یہ محض حقیقت اور انسانی فطرت ہے۔
اصل خطرہ توجہ حاصل کرنا نہیں؛
اصل خطرہ اس کا محتاج ہو جانا ہے۔
اختیار رکھنے والے انسان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ جب ہر شخص اس تک رسائی چاہتا ہو تو وہ کیسا برتاؤ کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب کسی کو اس سے کوئی کام نہ ہو تو وہ کون سا انسان رہتا ہے۔
کیونکہ ایک دن ہر کرسی خالی ہو جاتی ہے—اور حالات بدل جاتے ہیں۔
عہدہ عارضی ہے۔ کردار باقی رہتا ہے۔
شاید سول سروس کا سب سے گہرا سبق یہی ہے:
کرسی پر عاجزی کے ساتھ بیٹھیں—مگر کرسی کو اپنے اندر جگہ نہ بنانے دیں۔
Sir I will also request that Peshawar Police Chief @DrMianSaeedPSP deserves the highest recognition for his extraordinary performance and dedicated efforts in restoring and maintaining peace in Peshawar.
Some people have rightly pointed out that there are not enough gallantry awards recognising the extraordinary courage and sacrifices of the KP and Balochistan Police, who are fighting terrorism on the frontlines. Since nominations for these awards are submitted by the respective provincial governments, I have asked the Cabinet Secretary to seek additional nominations from the KP and Balochistan governments so that deserving police officers and personnel receive the national recognition their bravery and sacrifice merit.