میرا دعوی تو اپنی جگہ پرکھڑا ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کی ہے اور حکمران جو بھی بنے گا دھاندلی سے بنے گا، آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلیوں سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں ہے، تم کس بات پر لوگوں کو الجھا رہے ہو، مولانا فضل الرحمن
میں اس گھوڑے پر سوار ہونے کیلئے تیار نہیں ہوں جس کی لگام میرے ہاتھ میں نہ ہو۔
ہمیں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنائیں، یعنی پی ٹی آئی کی حکومت ختم کریں اور دوسری حکومت بنائیں، میں نے کہا بنتی نہیں ہے، اپوزیشن میں کل 53 اراکین ہیں ، آپ ہمیں مہیا کرکے دیں گے تو ان مہیا ممبروں کے سہارے میں حکومت بناوں گا لوٹوں کے ذریعے میں حکومت بناوں گا؟ میں اس گھوڑے پر سوار ہونے کیلئے تیار نہیں ہوں جس کی لگام میرے ہاتھ میں نہ ہو ، مولانا فضل الرحمن
سردار امان نے اپنی تقریر میں کہا کہ جو “ بلوچ “ میں ہوا وہ ہم یہاں بھی کر سکتے ہیں ،
یاد رہے کہ “بلوچ” آزاد کشمیر کا ایک علاقہ ہے ،
انہوں نے آزاد کشمیر کے علاقے بلوچ کا حوالہ دیا ہے ناں کہ بلوچستان کا
اور اس بیان کو محترمہ سعدیہ خالد صاحبہ نے بلوچستان سے ملا کر نتیجہ اخذ کر دیا کہ سردار امان کہہ رہے ہیں کہ جیسے بی ایل اے بلوچستان میں فوج پر حملے کر سکتی ہے ، ویسے ہم بھی یہاں کر سکتے ہیں
سعدیہ خالد صاحبہ ان محب وطن پاکستانیوں کے دستے کی فرنٹ لائن سولجر ہیں جن کا کام بیانیہ بنانا ہے اور اس نظام کے ناقدین کو غدار بنانا ہے
سعدیہ خالد صاحبہ اب وہ دور گزر گیا جب سرٹیفائیڈ محب وطن پاکستانیوں کا پیڈ دستہ سوشل میڈیا پر جس کو غداری کا ریڈ کارڈ دکھاتا تھا ، وہ عوامی نظروں سے باہر ہو جاتا تھا
عمران خان نے پاکستانی قوم کی آنکھوں کا آپریشن کردیا ہے ، اب قوم کو وہ سب دکھائی دیتا ہے جو پہلے نظر نہیں آتا تھا
مولانا صاحب کو فوراً اسٹیبلشمنٹ سے بھیک میں ملی قومی صوبائی و اسمبلیوں، سینیٹ اور مخصوص جعلی نشستوں سے استعفیٰ دے کر اسلام کی خاطر انقلاب کا نعرہ بلند کرنا چاہیے۔