2014 میں، تین اسرائیلیوں نے فلسطینی بچے ابو خضیر کو اغوا کیا۔وہ اسے ایک جنگل میں لے گئے اسے باندھا اس پر پیٹرول چھڑکا اور اسے زندہ جلا دیا۔یہ حملہ کیمرے میں محفوظ ہو گیا تھا۔
اسے نظر انداز نہ کریں، ان کے درد میں برابر کے شریک بنیں!" 🚨غزہ کے بچے نہ صرف بموں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں بلکہ وہ شدید سردی اور کیچڑ کے سمندر سے بھی لڑ رہے ہیں۔اس تصویر کو اپنے اسٹوری یا پیج پر شیئر کر کے، آپ مزید لوگوں تک امداد کی فوری اپیلیں پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اب عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے! #GazaFlood #SaveGazaChildren
غزہ کے شیر خوار بچے رو بھی نہیں سکتے کیونکہ اتنی بھی سکت ان میں نہیں رہی، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سنبھال کر پھیلائی جانے والی بھوک ان کی جانیں لے رہی ہے۔
جو لوگ غزہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ ان مناظر کو شیئر کریں۔
دنیا کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہو رہا ہے، نہ کہ لوگ اس کے عادی ہو جائیں ۔
"ظالموں اور ظلم کے سامنے خاموش رہنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو! ہلاکت و بربادی ہے ظالموں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان کے لیے جو اس ظلم پر خاموش رہے! مظلوموں کی چیخیں اور بچوں کے آنسو بے اثر نہیں جائیں گے۔ یاد رکھو، تاریخ نہ تو ظالموں کو بھولے گی اور نہ ہی ظلم کے سامنے خاموش رہنے والوں کو!"
ایک رضاکار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ
”آگ کے اندر بچے رو رہے ہیں۔“
غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور تین بچے بری طرح جھلس گئے۔۔
یہ صہیونی فلسطینی بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ، اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ہر صاحب اولاد پر فرض ہے کہ اس روئے زمین کی سب سے بڑی برائی کے لیے اللہ پاک سے شکایت کریں ، خدا ان کو نیست و نابود کرے 🤲