“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو؛
ملک میں جمہوریت برائے نام رہ گئی ہے ۔ عدلیہ ایک جمہوری ملک میں آزادی کی ضمانت ہوتی ہے جو اب نہیں ہے۔ ملک میں صرف انتخابات سے جمہوریت نہیں آتی، حقیقی جمہوریت کے لیے صاف شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، قانون کی بالادستی اور احتساب کا ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ انتخابات کا ڈھونگ تو ڈکٹیٹر بھی رچاتے ہیں۔
ملک کے میڈیا پر اس وقت مکمل سنسر شپ ہے۔ میں نے اخبار دیکھے ہیں ان میں میرا کوئی بیان نہیں چھپتا۔
اس وقت حکومت نے آئین میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے- یہ جو مرضی اب ناانصافیاں اور ظلم کریں اب ان سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ تحریک انصاف جو ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو ہرانے کے لیے قاضی فائز عیسی اور چیف الیکشن کمشنر نے ان کے ساتھ مل کر مینڈیٹ چوری میں ان کی مدد کی ۔ انہوں نے جو پاکستان کی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا ہے اس کو بچانے کے لیے انہوں نے یہ ساری قانون سازی اس غیر آئینی پارلیمنٹ ، غیر آئینی صدر، غیر آئینی وزیراعظم اور اس فارم 47 کی پیداوار نظام کو استعمال کر کے آئینی ترامیم کروائی ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد صرف پاکستان کی عوام کے حقوق کو سلب کرنا ہے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع فوج کا اندرونی معاملہ تب ہوتا اگر آرمی چیف نیوٹرل ہوتا موجودہ آرمی چیف اس ناجائز حکومت کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔ حکومت نے مینڈیٹ پر مارے گئے ڈاکے کو تحفظ دینے کے لیے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی ہے۔ اس پر پارلیمنٹ میں قانونی بحث ہونی چاہیے تھی۔ یہ انتہائی اہم معاملہ تھا اور اس پر کوئی قانونی بحث کیے بغیر قانونی سازی کر دی گئی۔
میں اپنی ساری پارٹی بالخصوص قیادت کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ احتجاجی تحریک کی تیاری کریں ۔احتجاج کی قیادت تحریک انصاف کی جوائنٹ لیڈرشپ کرے گی ۔ جو ٹکٹ ہولڈر یا عہدیدار احتجاج میں شرکت نہیں کرے گا اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہم اس کو اگلے الیکشن میں ٹکٹ دیں گے۔
میرا اپنی قوم کو یہ پیغام ہے کہ اپنے حقوق اور آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ آپ سب کو حقیقی آزادی اور آزاد عدلیہ کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا ۔ ڈنڈے کے زور پر یہ حکومت نہیں چلائی جا سکتی ۔ میں پچھلے سولہ ماہ سے جیل میں ناحق قید ہوں۔ اگر ہم آج ان کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے تو پاکستان میں جمہوریت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ غلامی سے موت بہتر ہے ۔ یہ مجھے ملٹری کورٹس میں لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں میں اس کے لیے بھی تیار ہوں لیکن ان کی غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میری دو بہنوں کو بھی جیل میں ڈالا گیا اور ایک بہن کا بیٹا ڈیڑھ سال سے ملٹری جیل میں ہے ۔ میں خود ہر قربانی کے لیے تیار ہوں۔
میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 47واں امریکی صدارتی انتخاب جیتنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پاکستان کے لیے خوش آئیند ہے۔ مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ کم از کم نیوٹرل ہوں گے اور جو بائیڈن کی طرح نہیں ہوں گے جنہوں نے باجوہ کی طرف حسین حقانی کو استعمال کر کے جو میرے خلاف لابی کی گئی اس پر یقین کیا۔ میری رہائی کا معاملہ امریکہ سے نہیں بلکہ پاکستان میں ہی مکمل ہوگا۔
اپنی دو غلطیاں تسلیم کرتا ہوں کہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی اور کمزور اتحادی حکومت لینے کی بجائے مجھے دوبارہ انتخابات کروانے چاہیئے تھے۔
میں ملک سے کسی صورت نہیں بھاگوں گا ۔ میرا نام مستقل طور پر ای سی ایل پر ڈال دیں میں نے باہر نہیں جانا۔ پہلے نواز شریف باہر گیا اب اس کی بیٹی بھی باہر چلی گئی بیرون ملک علاج انتہائی مہنگا ہے اور ان کا سارا ٹبر باہر بیٹھا ہوا ہے ۔ ان کی جائیدادیں اور ان کے پیسے ملک سے باہر ہیں۔ اگر میں نے نواز شریف اور زرداری کی طرح چوری کی ہوتی تو ڈیل کر کے ملک سے بھاگ گیا ہوتا-
پاکستانیو، آپ کو آج یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے چونٹیوں کی طرح زندگی گزارنی ہے یا دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین لیڈر حضرت محمدﷺ کے نقش قدم پر چل کر پاکستان کو ایک مملکت عظیم بنانا ہے-@ImranKhanPTI#کپتان_کو_رہا_کرو#قیدی_نمبر_804