یوتھیوں کیساتھ سب سے بڑا پرینک صدیق جان نے کیا ہے،پہلے عمران خان کو لنڈے کا نیلسن منڈیلا بنایا،خبر غلط ثابت ہونے پر پھر اُسی گدھے پر لکیرے لگاکر زیبرا بنانے کی کوشش کررہا ہے
حقائق نے بیانیہ دفن کر دیا !!!
سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ہوا ماہر ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا۔ شفا ہسپتال کے باہر سیاسی ہجوم، میڈیا سرکس اور سکیورٹی خدشات کے باعث پمز منتقلی ناگزیر تھی علاج سے انکار نہیں۔
میڈیکل بورڈ موجود، معائنہ مکمل، بہن عظمیٰ خان موقع پر موجود، شفافیت بھی یقینی۔ نتیجہ؟ صحت بگڑنے کے شور، بین الاقوامی پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کی سنسنی خیزی کا غبار بیٹھ گیا۔
اب بھی اگر کچھ لوگ بیماری کی کہانیاں بیچ رہے ہیں تو مسئلہ صحت نہیں، سیاست اور شہرت کی دکان ہے۔
Honoured to sign the Makkah Joint Defence Agreement alongside my dear brothers, HRH Crown Prince Mohammed bin Salman and H.E. President Recep Tayyip Erdoğan.
Three brotherly nations, united by faith, friendship and a shared resolve for peace and security.
May this historic pact, signed in the shadow of the Haramain, remain a shield of peace for generations to come and may it bring prosperity for our three brotherly countries as well as for the Ummah.
I would especially like to express my deep appreciation for Field Marshal Syed Asim Munir whose untiring efforts and utmost dedication contributed immensely towards this great cause.
BREAKING
Pakistan has issued one of its strongest statements since the Iran-US conflict began, warning that any hostile act against Pakistani-flagged vessels or Pakistan's maritime interests will be treated as a grave threat to its national security.
Islamabad said it reserves the right to take "all necessary measures, including lawful use of force" in self-defence, while condemning Houthi threats against Saudi Arabia and commercial shipping in the Red Sea. It also reaffirmed its unwavering support for the Kingdom's security and sovereignty.
جو شہداء وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرتے ہیں، پوری قوم ان کی قرض دار ہے۔ ان کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔ انکے حوالے سے کی جانے والی کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس فوج کا سپہ سالار اور اس کا ایک ایک جوان دہشتگردوں اور دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہماری حفاظت اور ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا مولانا فضل الرحمان کو سخت جواب
مولانا فضل الرحمان صاحب
"شہید کی قیمت تنخواہ نہیں ہوتی!"
جب کوئی یہ کہتا ہے کہ "فوجی تنخواہ لیتا ہے، اس لیے جان دینا اس کا کام ہے" تو وہ شاید یہ بھول جاتا ہے کہ تنخواہ کسی انسان کی جان، اس کے بچوں کی مسکراہٹ، بوڑھے والدین کے سہارے اور ایک ماں کی دعاؤں کی قیمت کبھی نہیں ہو سکتی۔
اگر واقعی تنخواہ ہی جان کی قیمت ہے، تو پھر کوئی بھی شخص اپنے بیٹے کو صرف تنخواہ کے بدلے دہشت گردوں کی گولیوں، بارودی سرنگوں اور دشمن کی آگ کے سامنے بھیجنے پر آمادہ کیوں نہیں ہوتا؟
سپاہی صرف نوکری نہیں کرتا، وہ ایک عہد نبھاتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس لیے تیار رہتا ہے کہ اگر وطن پکارے تو اپنی جان بھی قربان کر دے۔ اس کی تنخواہ اس کی شہادت کی قیمت نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری، مسلسل تربیت، سخت حالات میں خدمت اور ہر وقت تیار رہنے کا معاوضہ ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کی قربانیوں کو صرف تنخواہ تک محدود کر دینا ان خاندانوں کے دکھ کو کم نہیں کرتا بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں!
وطن صرف نعروں سے محفوظ نہیں رہتے، بلکہ اُن لوگوں کی قربانیوں سے محفوظ رہتے ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں اور عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔
سلام ہے پاکستان کے ہر شہید کو۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰
میرے کل کی ٹویٹ پر مجھے آج سے 20سال قبل کی تقریر یاد دلائ جا رہی ھے۔ وہ تقریر جس ماحول میں ھوئ اور اسکا جو پس منظر تھا وہ نکتہ چینوں کو شاید یاد نہیں کیونکہ وہ MMA کی صورت میں ایک آمر کے حلیف اور کاسہ لیس تھے ۔۔ آمر کا دور تھاجس نے اپنا عہدہ بچانے کے لئے آئین منسوخ کیا آئینی حکومت کا تختہ الٹا ۔ خود ساختہ حکمران بنا، وطن عزیز کو ایک ایسی جنگ میں امریکہ کا حلیف بنایا جس کے نتائج ھم آج بھی دھشت گردی کی صورت میں بھگت رہےھیں۔
آج فوج کی قیادت نے وطن کو دشمن پہ تاریخی فتح سے ھمکنار کیا۔ سفارتکاری کے محاذ پہ قوم و ملت کا سربلند کیا۔ دنیا پاکستان کا لوہا مان رہی ھے۔ اور فوج کا ادارہ آئینی سویلین حکومت کے ساتھ مل کر اندرونی خطرات سے بھی نبرد آزما ھے ایک ہائبرڈ صورت میں آئینی حدود میں رہ کر نظام کو مستحکم کیا جارہا ھے۔
میری تقریر یاد دلانے والے یاد رکھیں وطن کی آزادی کی جنگ میں جمعیت علماء ھند کہا ں اور کس کے ساتھ کھڑی تھی۔ ارتقائی سفر میں پھر جمیعت نے 1970 کی دھائی میں پاکستان میں آئین کی سر بلندی اور جمہوریت کی جنگ میں قومی اسمبلی میں قیادت کی۔ سیاست ایک ارتقائی سفر ھے جسمیں سیاسی کارکن اور قیادت حالات کے مطابق اصولوں پہ سمجھوتہ کیے بغیر منزلیں طے کرتے ھیں۔
آج جب ھم دھشت گردی کے خلاف نبرد آزما ھیں اسوقت سیاسی قوتوں کو متحد ھو کر اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑا ھونا ھو گا۔ شہداء اور انکے ورثا ء کے احسان عظیم کا احترام کرنا ھو گا۔
میں مولانا فضل الرحمٰن کی دل سے قدر کرتا ہوں، لیکن مولانا نے آج پوری قوم کا دل دکھایا ہے۔ آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
کیا ہمارے شہداء کی قربانی کی قیمت صرف ایک تنخواہ یا کوئی ٹیکس ہے؟ آپ اپنے تمام ٹیکس واپس لے لیں اور مجھ سے کئی گنا زیادہ تنخواہیں بھی لے لیں، لیکن کیا آپ اس دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے جو ہر لحاظ سے آپ سے دو سو گنا بڑا تھا؟ وفاقی وزیر حنیف عباسی
مولانا! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ افغانستان میں اسرائیل اپنی انٹیلی جنس معلومات اور ڈرونز فراہم کر رہا ہے، جبکہ بھارت ان کی مالی معاونت کر رہا ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے چار دہشت گردوں میں سے تین افغان تھے؟
افواجِ پاکستان کے جوانوں کی شہادتوں کی بدولت ہی پاکستان قائم ہے، ورنہ آپ، مولانا فضل الرحمٰن، اسلام آباد میں اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تھے۔ وفاقی وزیر حنیف عباسی
Pakistan strongly condemns the blatant attacks carried out against the brotherly Kingdom of Saudi Arabia last night.
Such reprehensible actions constitute a violation of the sovereignty and territorial integrity of the Kingdom of Saudi Arabia and have the potential to further undermine regional peace and stability.
Pakistan reaffirms its unwavering support for the Kingdom’s security and stands in complete solidarity with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia at this critical time.
On its part, Pakistan will continue to support all sincere efforts aimed at promoting peace, stability, security, and mutual understanding across the region.
مورخ لکھے گا کہ نصراللہ ملک کی راتی کوئی نہیں جمیا
اقتدار میں انے کے بعد اثاثے بڑھ گئے لیکن بندہ شریف
حکومت باجوہ نے دی گاڑی ترین نے دی کچن علیم نے چلایا بیوی مانیکا نے دی اور بچے گولڈ سمتھ پال رہے اور ایسا پھدو انسانی تاریخ میں کسی اور کا نہیں لگا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی اپنی ہی حکومت پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ جمہوری جماعتوں میں یہی ہوتا ہے، اور یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔
یہی فرق ہے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں میں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی تھیں تو ان کے کارکن کہتے تھے پٹرول 500 روپے فی لیٹر بھی ہو جائے ووٹ پھر بھی عمران خان کو دیں گے
آج تقریباً 310 روپے فی لیٹر پٹرول پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن اپنی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت ضروری نہیں، بلکہ وہ اپنی رائے اور اختلافِ نظر کا بھی کھل کر اظہار کرتے ہیں
#Petrolprice
دریائے سندھ کے پانی کا معاہدہ پاکستان پر کوئی احسان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سنجیدہ بین الاقوامی تصفیہ تھا۔ یہ معاہدہ تقسیمِ ہند کے پس منظر میں اس لیے طے پایا تھا کہ پنجاب اور سندھ کے دریاؤں کو غصے اور دشمنی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق مغربی دریا، یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب، پاکستان کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آئے۔ اس کے ساتھ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے حصے میں آنے والے دریاؤں کے محدود استعمال کی بھی اجازت دی گئی تھی، بلاول بھٹو
آج یوم عاشور کے دوران ایسی بہت ساری پوسٹ اور ہیش ٹیگ دیکھنے کو ملے جہاں عمران خان کو امام حسین سے ملانے کے کوشش کی گئ یہ تو خیر ایک جہالت ہے مگر آئیں آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں سادہ الفاظ میں ۔
حسین ابن علی حسین صرف اس لیے نہیں بنا کہ اُس نے قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا تھا بلکہ اس لیے بنا کہ اُس نے اپنے ساتھیوں میں سے جس جس پر اعتبار کیا وہ سب بھی حسین ہی کی طرح ڈٹے رہے قربانی دینے میں ، چاہے کوئ مرد ہو چاہے عورت کسی نے نہ دھوکہ دیا نہ بہانے بازی کی نہ کمزوری دکھائ نہ ہی کوئ میدان سے بھاگا بھانے کرکے ، سب نے مل کر اپنی قربانی سے حسین کو حسین بنایا کسی نے طاقتور ترین دشمن سے خوف نہ کھایا اگر حسین نے جن ساتھیوں پر اعتبار کیا وہ دھوکہ باز ہوتے تو آج حسین حسین نہ ہوتا ۔ حسین کو دھوکہ باز ساتھی اس لیے نہیں ملے کیوں کہ حسین خود دھوکے باز نہیں تھا ۔ حسین بہادر تھا وفادار تھا اعلی کردار تھا جب ہی اُس کا ایک ایک ساتھی اُس جیسا تھا۔