محبت کیا ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ محبت روشنی کی ایک کرن ہے جو اپنے اندر بے شمار رنگ سمیٹے ہوتی ہے لیکن جب اس کو جذبوں کے شیشے کی منشور میں سے گزارا جائے تو بے شمار حسین رنگ پھوٹ پڑتے ہیں اور ان رنگوں میں بے شمار جذبے پروان چڑھتے ہیں وطن سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے
کویت کے وزیراعظم شیخ احمد نواف الاحمد الصباح نے سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ترجمے والے ایک لاکھ نسخوں کی اشاعت کا اعلان کردیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کویتی وزیراعظم نے متعلقہ اتھارٹی کو نسخوں کی اشاعت کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اسلام کی رواداری اور تمام لوگوں کے درمیان اسلامی اقدار اور بقائے باہمی کو پھیلانے کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 28 جون کو سویڈن میں ایک گستاخ نے قرآن کریم کے نسخے کی بے حرمتی کی تھی۔ جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا
ایک صاحب نے ساری زندگی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث گروہوں خلاف پروگرام کرکے دولت و شہرت کمائی، مگر پچھلے ایک سال میں تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور فاشزم کے باوجود بھی انکو دنیا کا ہر عیب عمران خان اور انکے سپورٹرز میں نظر آتا ہے۔
دوسرے صاحب جن کی وجہ شہرت دو، تین Podcasts ہیں جن میں موصوف پاکستان کے 75 سالا ہر مسئلے کی جڑ اسٹیبلشمنٹ کو کرار دیتے ہیں اور عائشہ صدیقہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔
مگر دوسری جانب پاکستان کے نوجوان جو آبادی کا 70 فیصد ہیں، جو پچھلے ایک سال سے اسی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ہر طرح کی زیادتیوں اور انہیں پالیسیوں کے مخالف عملی سیاسی جدوجہد کررہے ہیں۔۔ان نوجوانوں کے بارے میں موصوف فرماتے ہیں کہ یہ صرف عمران کی خوبصورتی اور شخصیت سے متاثر ہو کر ووٹ دیتے ہیں اور عمران خان ایک "cult" ہے۔
مزید یہ کہ عمران خان صدارتی نظام مسلط کرنا چاہتا تھا۔ یعنی جو کام ابھی کیا بھی نہیں اسکو بنیاد بنا کر ان لوگوں کی صف میں کھڑا کر دینا جو پچھلے 75 سال سے اس ملک پر حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس نظام کے بینیفشری ہیں۔ وہی باریک واردات جو اس ملک کا دانشور طبقہ، صحافی اور اینکرز 2018 سے اب تک ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔
آپ کو عمران خان اچھا نہیں ��گتا سو بسم اللہ، لیکن آپ کو کس نے حق دیا کہ خود کو تو آپ فیثا غورث سمجھیں لیکن دوسری جانب کروڑوں نوجوانوں کے سیاسی شعور کے متعلق فتوے جاری کریں؟؟
یاد رہے کہ یہ سب وہ نوجوان ہیں جو،
◀️ دس سال تک کے بچوں گرفتار کیے جانے کے باوجود
◀️ بدترین تشدد و جیل کے باوجود
◀️ درجنوں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کے اغواء کے باوجود
◀️ دس ماہ کی بچی تک کو اٹھائے جانے کے باوجود
◀️ اسلام آباد میں چار ہزار نوجوانوں کی گرفتاریوں کے باوجود
◀️ ظل شاہ کے قتل کے باوجود
◀️ ماوں، بہنوں پر کیمیکل سپرے، شیلنگ اور سیدھی فائرنگ کے باوجود
◀️ 25 مئی کے ظلم و بربریت کے باوجود
◀️ 8 مارچ کے ظلم و بربریت کے باوجود
◀️ 15 مارچ کے ظلم و بربریت کے باوجود
◀️ 18 مارچ کے ظلم و بربریت کے باوجود
ان سب ظلم و بدترین فاشزم کے باوجود یہی نوجوان آج بھی اپنے بنیادی آئینی حق کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں ناں کہ موصوف کی طرح مائیک کے آگے بیٹھ کر چار کتابوں کے ریفرینس لیے خود کو طلعت حسین کا نیا Upgraded Version، اور ریما عمر کا Male Version ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ان موصوف کا تعلق PTM سے رہا ہے۔ وہی PTM جو عمران خان کا کندھا استعمال کرکے پہلے اسمبلی میں آئی اور پھر عمران خان کی حکومت ہٹانے میں اسی اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کا حصہ بنی جس کے خلاف موصوف بول رہے ہوتے ہی��۔
چند تاریخی حقائق کی مثالیں دیکر اپنے ذاتی بغض و عناد کے مطابق کسی کے بارے میں نتیجے اخز کرنا۔ یہ وہی منافقت اور تضادات ہیں جن کا رونا ہم پاکستان میں بیشتر صحافیوں، نام نہاد دانشوروں، مذہبی جماعتوں اور عورت مارچ جیسی تنظیموں کے بارے میں ابتک کرتے چلے آئے ہیں۔
نور جہاں کے مزار سے متعلق نظم ونثر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن وہ سب ان کے ایک شعر کے آگے مات ہے
برمزارِ ما غریباں نے چراغے نہ گلے
نے پرِ پروانہ یابی نے سراید بلبلے
اجالوں کی ملکہ۔۔ملکہ نورجہاں مہرالنساء کا مقبرہ خستگی اور ویرانیاں جس کا مقدر۔😞
لاہور میں آج بھی نور جہاں کا مقبرہ موجود ہے لیکن عام افراد کو صرف اس کے سنگ مر مر سے بنے تعویز تک ہی رسائ ہے۔ اصل قبر اس سنگ مر مر کے خوبصورت تعویز کے نیچے موجود تہہ خانے نما سرنگ میں موجود ہے۔ جس شہر کو نور جہاں جنت نظیر کہتی تھی اور جس نے اپنی زندگی کے آخری ایام لاہور میں گزارنے پسند کئے اسی جنت نظیر شہر میں اس کے ساتھ انتہائ ناروا سلوک کیا گیا۔ سکھوں کے دور حکومت میں اس کے مقبرے کو کھود ڈالا گیا۔ اگر آپ کو اس سنگ مر مر کے بنے تعویز کے نیچے سرنگ میں جانے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے کہ نیچے تاریک کمرے میں چھت سے دو آہنی حلقے لٹکے ہوئے ہیں۔ جن کے نیچے سپاٹ کچی مستطیل نما دو قبروں کے محض نشانات باقی ہیں جن کو زنجیروں کے احاطے سے واضح کیا گیا ہے۔ دوسری قبر کہا جاتا ہے کہ نور جہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم کی ہے جس کا حشر بھی نور جہاں کی قبر جیسا ہی کیا گیا۔ بد بخت راجہ رنجیت سنگھ کا مسلمانوں اور مغلوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ اس نے نورجہاں کی قبر کھدوا کر اس کے تابوت میں موجود ڈھانچے کو باہر نکلوا کر اس کا معائنہ کیا۔ وہ متجسس تھا کہ ایسی نابغہ روزگار ملکہ کا ڈھانچہ کیسا ہوگا؟ یہ نامعقول شخص جانے کیا توقع کر رہا تھا کہ اسے نورجہاں کی قبر سے کیا ملے گا!! لیکن محض بوسیدہ ہڈیوں ��ا ڈھانچہ دیکھ کر وہ سخت بد دل ہوا اور طیش میں آکر ان ہڈیوں کو کتوں کے آگے ڈالنے کا حکم دیا۔ یہ بدبخت اپنی نفرت میں اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ اس نے ایک میت کی حرمت تک کا خیال نہ کیا اور اسے دوبارہ تابوت میں رکھ کر دفنا��ے کے بجائے کتوں کے آگے پھنکوا دیا۔
بعد میں حکیم اجمل خان کی کوششوں سے مزار کا کتبہ تو دستیاب ہوگیا تھا جسے سن 1912 میں حکیم صاحب نے مقبرہ دوبارہ تعمیر کروا کر نصب کروادیا تھا۔ لیکن ہڈیاں بھلا کیسے دستیاب ہوتیں؟ سو اب بس نور جہاں کی قبر کا ایک نشان ہی باقی ہےجو یاد رفتگاں پر ماتم کرتا نظر آتا ہے۔
اجالوں کی ملکہ۔۔ملکہ نورجہاں مہرالنساء کا مقبرہ خستگی اور ویرانیاں جس کا مقدر۔😞
لاہور میں آج بھی نور جہاں کا مقبرہ موجود ہے لیکن عام افراد کو صرف اس کے سنگ مر مر سے بنے تعویز تک ہی رسائ ہے۔ اصل قب�� اس سنگ مر مر کے خوبصورت تعویز کے نیچے موجود تہہ خانے نما سرنگ میں موجود ہے۔ جس شہر کو نور جہاں جنت نظیر کہتی تھی اور جس نے اپنی زندگی کے آخری ایام لاہور میں گزارنے پسند کئے اسی جنت نظیر شہر میں اس کے ساتھ انتہائ ناروا سلوک کیا گیا۔ سکھوں کے دور حکومت میں اس کے مقبرے کو کھود ڈالا گیا۔ اگر آپ کو اس سنگ مر مر کے بنے تعویز کے نیچے سرنگ میں جانے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے کہ نیچے تاریک کمرے میں چھت سے دو آہنی حلقے لٹکے ہوئے ہیں۔ جن کے نیچے سپاٹ کچی مستطیل نما دو قبروں کے محض نشانات باقی ہیں جن کو زنجیروں کے احاطے سے واضح کیا گیا ہے۔ دوسری قبر کہا جاتا ہے کہ نور جہاں کی بیٹی ��اڈلی بیگم کی ہے جس کا حشر بھی نور جہاں کی قبر جیسا ہی کیا گیا۔ بد بخت راجہ رنجیت سنگھ کا مسلمانوں اور مغلوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ اس نے نورجہاں کی قبر کھدوا کر اس کے تابوت میں موجود ڈھانچے کو باہر نکلوا کر اس کا معائنہ کیا۔ وہ متجسس تھا کہ ایسی نابغہ روزگار ملکہ کا ڈھانچہ کیسا ہوگا؟ یہ نامعقول شخص جانے کیا توقع کر رہا تھا کہ اسے نورجہاں کی قبر سے کیا ملے گا!! لیکن محض بوسیدہ ہڈیوں کا ڈھانچہ دیکھ کر وہ سخت بد دل ہوا اور طیش میں آکر ان ہڈیوں کو کتوں کے آگے ڈالنے کا حکم دیا۔ یہ بدبخت اپنی نفرت میں اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ اس نے ایک میت کی حرمت تک کا خیال نہ کیا اور اسے دوب��رہ تابوت میں رکھ کر دفنانے کے بجائے کتوں کے آگے پھنکوا دیا۔
بعد میں حکیم اجمل خان کی کوششوں سے مزار کا کتبہ تو دستیاب ہوگیا تھا جسے سن 1912 میں حکیم صاحب نے مقبرہ دوبارہ تعمیر کروا کر نصب کروادیا تھا۔ لیکن ہڈیاں بھلا کیسے دستیاب ہوتیں؟ سو اب بس نور جہاں کی قبر کا ایک نشان ہی باقی ہےجو یاد رفتگاں پر ماتم کرتا نظر آتا ہے۔