All efforts are somehow to divert Imran Khan from the path. I stand, I am also ready for jail, God willing, I will sit in this country and prove that they made against me,every case is fake, the purpose of this is to dig the grave of justice in this country
#سائفر_ایک_حقیقت
سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین
لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حسین ہے نبی کانورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محو کارزار ہے
یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جسکے دبدے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیبِ مصطفی ہے مجاہدِ خدا ہے یہ
جبھی تو اس کے سامنے، یہ فوج گرد گرد ہے
یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
اُدھر ہیں دشمنانِ دیں ادھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
تم یزیدیت کے وارث ہو،
تمہیں تخت مبارک...
ہم حسینیت کے وارث ہیں، ہمیں سچ مبارک۔
میری پہچان بھی حسینؑ ہے، میری جان بھی حسینؑ ہے...
میری شامِ غریباں بھی
حسینؑ ہے، میرا صبحِ عاشور بھی حسینؑ ہے...
اور مرتے دم تک میری آخری سانس بھی...
حسینؑ، حسینؑ، حسینؑ ہے
تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا سانحہ، واقعہ کربلا جہاں خوف کے آگے گھٹنے ٹیکنے والوں نے ہمیشہ کا پچھتاوا خریدا۔ اللہ کے تمام انبیاء اور صالحین نے ہمیشہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ یاد رکھیے جو معاشرہ ظلم کے سامنے خاموش ہو جائے وہ اپنی پہچان کھو دیتا ہے
#KhansIsolationIsACrime
یہ شیر ہے ہمیں یہ اس لیے پسند ہے کیونکہ اس نے عمران خان کے لیے اپنا سینا حاضر کیا تھا اور گولی کھائی تھی، سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کے سکیورٹی گارڈ عارف خٹک کو اسمبلی کے فلور پر زبردست خراج تحسین
9 محرم الحرام
کربلا کے میدان میں دن گزرتے جا رہے تھے۔
پیاس شدت اختیار کر رہی تھی۔
آزمائش اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اور حق و باطل کے درمیان حدیں پہلے سے زیادہ واضح ہوتی جا رہی تھیں۔
یہ وہ دن تھے جب بہت سے لوگوں کے سامنے سچ موجود تھا۔
وہ جانتے تھے کہ حق کیا ہے۔
وہ جانتے تھے کہ کون سچ پر ہے۔
مگر ہر انسان صرف سچ جان لینے سے سچا نہیں بن جاتا۔
کیونکہ بعض اوقات مسئلہ حق کو پہچاننے کا نہیں ہوتا،
بلکہ حق کو اختیار کرنے کا ہوتا ہے۔
واقعہ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب اسے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
ایک راستہ وہ جو درست ہوتا ہے۔
اور دوسرا وہ جو فائدہ مند دکھائی دیتا ہے۔
ایک راستہ ضمیر کا ہوتا ہے۔
اور دوسرا خواہشات کا۔
ایک راستہ اصولوں کا ہوتا ہے۔
اور دوسرا مفادات کا۔
بدقسمتی سے اکثر لوگ حق کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ اسے پہچان نہیں پاتے۔
بلکہ اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ اس ��ی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے۔
ذرا سوچیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی میں کتنی بار ایسا ہوتا ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے،
مگر خاموش رہتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ کون سی عادت ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے،
مگر اسے چھوڑتے نہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ کس بات پر اللہ ناراض ہوتا ہے،
مگر خود کو یہ کہہ کر تسلی دے دیتے ہیں کہ سب ہی تو ایسا کر��ے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ معافی مانگ لینی چاہیے،
مگر انا آڑے آ جاتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ کسی کا حق ادا کرنا چاہیے،
مگر اپنا فائدہ زیادہ عزیز لگتا ہے۔
مسئلہ علم کی کمی نہیں ہوتا۔
مسئلہ اکثر ہمت کی کمی ہوتی ہے۔
محرم الحرام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق مشکل نظر آ سکتا ہے،
مگر اس کا انجام عزت ہوتا ہے۔
اور باطل کبھی کبھی آسان اور فائدہ مند محسوس ہو سکتا ہے،
مگر اس کا انجام پچھتاوا ہوتا ہے۔
آج خود سے سوال کیجیے۔۔۔۔۔
خود سے سچ بولنے کا دن ہے۔
اور اپنے رب کے سامنے یہ اقرار کرنے کا دن ہے کہ ہم کمزور ضرور ہیں،
مگر حق کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ اسے اختیار کرنے کی ہمت بھی عطا فرمائے۔
ہمیں دنیاوی مفاد کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز سننے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمیں سچائی، دیانت اور اخلاص کے راستے پر قائم رکھے۔
اور جب کبھی حق اور فائدے میں انتخاب کا وقت آئے،
تو ہمیں حق کا ساتھ دینے والوں میں شامل فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
“During a visit to Peshawar, a Russian tourist purchased a ‘Release Imran Khan’ sticker as a souvenir to take back to Russia. The act highlights the enduring goodwill and positive sentiment that many Russians still hold toward @ImranKhanPTI and the ties strengthened during his leadership.”
عمران خان کو جیل میں تنہا کر کے یہ سمجھا گیا کہ تحریک ختم ہو جائے گی، لیکن انہیں معلوم نہیں کہ کپتان کا ہر سپاہی اب خود ایک تحریک بن چکا ہے قیدِ تنہائی کے ذریعے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیےہم اپنے قائد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں
#KhansIsolationIsACrime
#استقبالِِ محرم 1448ھ | 2026ء😭
سلام
لہو سے دشت کی قسمت جگا رہے ہیں حسین۴
زمیں کو عرشِ مُعلی بنا رہے ہیں حسین۴
یہ کیا کہ قبر میں اصغر سُلا رہے ہیں حسین۴
کہ زیرِ خاک نگینہ چُھپا رہے ہیں حسین۴
سجا کے پھول بہتر (72) خزاں کے دامن میں
عجب بہار کا منظر دکھا رہے ہیں حسین۴
کچھ ایسے موت کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
رُخ حیات سے پردہ اُٹھا رہے ہیں حسین۴
سجا کے گوہرِ اشکِ عزا رگ و پے میں
نصیبِ اُمتِ عاصی جگا رہے ہیں حسین۴
قدم قدم پہ ضعیفی جھکانے لگتی ہے
جوان بیٹے کا لاشہ اُٹھا رہے ہیں حسین۴
اسے آرام سے رکھنا زمینِ کرب و بلا
تمہاری گود میں اصغر۴ سُلا رہے ہیں حسین۴
یہ انقلاب ہے کیسا یہ معجزہ کیسا
ہمیں تو مر کے بھی جینا سکھا رہے ہیں حسین۴
جلا کے اپنے لہو سے چراغِ مصطفوی ﷺ
حسین۴ و منی کا جلواہ دکھا رہے ہیں حسین۴
کہ میں حسین۴سے ہوں اورحسین۴مجھ سے ہے
نبی ﷺکا قول ہےجس کو نبھا رہے ہیں حسین۴
اُنہیں خبر تھی کہ خنج�� نے ہار جانا ہے
اسی یقین پہ سر کو کٹا رہے ہیں حسین۴
خزاں گُزیدہ شبوں میں بُجھا کے اپنا چراغ
نویدِ صبحِ بہاراں سُنا رہے ہیں حسین۴
سُلا کے گلشنِ زہرا۴ کے پھول صحرا میں
نصیب سوئے ہوؤں کے جگا رہے ہیں حسین۴
صدف میں جس طرح گوہر چمکنے لگتا ہے
دلوں میں درد کا جوہر جگا رہے ہیں حسین۴
جو تشنگی کے سمندر پہ حکمرانی کرے
اک ایسی پیاس کے دریا بہا رہے ہیں حسین۴
کمالِ صبر میں تکمیلِ بندگی یہ ہے
سناں کی نوک پہ قرآں سُنا رہے ہیں حسین۴
"محرم الحرام ہمیں حق اور سچ کی راہ پر ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔"
عمران خان کا پیغام: حقیقی آزادی، انصاف اور اپنے حقوق کے لیے ظالم کے سامنے کھڑے ہونا ہی زندہ قوموں کی نشانی ہے
#HappyFathersDayImranKhan
ہماری آنکھ سے ہر بار خوں ٹپکتا ہے
کہ خواب میں بھی لگاتار خوں ٹپکتا ہے
سنائی دیتی ہے آواز خیمے جلنے کی
دکھائی دیتی ہے تلوار خوں ٹپکتا ہے
کہیں پہ مشکِ سکینہ سے ریت گرتی ہے
وہ ریت جس سے کہ ہر بار خوں ٹپکتا ہے
میرے حسین کے کوچے برستی ہے رحمت
تیرے یزید کے دربار خوں ٹپکتا ہے
وہی ہے مجلسِ گریہ وہی ہے ماتمِ آل
وہی ہے دیدہ خونبار خوں ٹپکتا ہے
ہوا ہی ہو گا علی پر وہاں پر آخری وار
خدا ہی ہو گا مددگار خوں ٹپکتا ہے
پڑے ہیں خون سے لت پت وہ جبہ و دستار
پڑے ہیں جبہ و دستار خوں ٹپکتا ہے
یزیدی فوج کا لشکر لرزتا ہے آرب
حسین کرتے ہیں جب وار خوں ٹپکتا ہے
1035 دن سے قید، نہ فیملی سے ملاقات، نہ ڈاکٹر تک رسائی، نہ مناسب طبی سہولت!
یہ معاملہ بنیادی انسانی اور طبی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کب تک؟ اور کس قانون کے تحت؟
#EndKhansIsolationNow#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو