ذرائع
حکومتی وفد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں کچھ دیر میں حکومتی وفد دھرنے کے مقام پر جا کر سیاسی جماعتوں کے حوالے دستخط شدہ مطالبات کی دستاویزات کرے گا۔
PTM NEWS.
#BreakingNews#Pakistan#Negotiations#Dialogue#PoliticalTalks
علی وزیر صمد خان حنیف پشتین نورالله ترین فرید آفریدی ماه رنگ بلوچ ایمان مزاری کی رهاٸی کیلٸے آواز بلند کریں یہ سب ضمیر کے قیدی هے ان سب کی مزاحمتی جدوجهد کو لال سلام
پی ٹی ایم شیرانی ضلعی کمیٹی ممبر سردار افغان کی غیر قانونی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں جوکہ شیرانی کے Dsp کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔
سردار افغان کے دل کے دو آپریشن ہو چکے ہیں اور وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔
خدا نہ کرے کہ انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے، تو اس کی تمام تر ذمہ داری شیرانی کے ڈی ایس پی، شیرانی کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اور پوری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
سردار افغان کی گرفتاری اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ انہوں نے تین رنگوں والے افغانستان کے پرچم کے ساتھ اپنی تصاویر شائع کی تھیں۔
اگر افغانستان کے پرچم کے ساتھ تصویر بنوانا جرم ہے تو اس حوالے سے متعلقہ آئینی یا قانونی شق پیش کی جائے کیونکہ افغانستان کے پرچم کے بارے میں ایسی کوئی آئینی شق موجود نہیں ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈوں پر کوئی پابندی نہیں، لیکن افغانستان کے پرچم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
#PashtunLivesMatter
#FreePTMActivists
اس سے پہلے سات بار ریاستی جبر سیاہ ترین گھڑی میں ہوا!
اس وقت جب استعماری فوج چادر اور چار دیواری کی بے حرمتی کر رہی تھی، وہ اپنے کالے ہاتھ اٹھائے پشتونوں کے گھروں میں گھس رہے تھے۔ پشتون علاقوں میں پشتونوں کے گھروں میں گھسنا اور پھر سیاہ ہاتھ اٹھانا پشتون روایات، رسم و رواج اور اسلام تینوں میں سزائے موت ہے۔ ایسے وقت میں خار قمر کے مکینوں نے اپنی سرزمین کے غرور اور کالے ہاتھوں کے غرور کے ساتھ احتجاج کیا۔ ایسے معاملات میں پشتون بھکاریوں کو بے شرم اور بے شرم سمجھتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے تمام مطالبات پرامن طریقے سے تسلیم کر لیے۔ احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے علی وزیر، محسن داوڑ، ڈاکٹر گل عالم اور دیگر احباب نے مظاہرین کا استقبال کیا۔ اسی لمحے نوآبادیاتی فوج نے ان پر گولی چلا دی جس سے ان میں سے 16 ہلاک اور 46 سے زائد زخمی ہو گئے۔ انصاف ملنے کے باوجود انتظامیہ نے اپنا پورا مشن بے بس اور مظلوم کی تحریک کے خلاف کارروائی کے لیے بھیج دیا۔ گزشتہ سو مہینوں سے ایسی تحریک کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ اس کے ڈیڑھ سو ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹرینز، پولیس، سپاہیوں اور ہمارے اپنے پشتون دانشوروں کی زبان سے خار قمر کے شہداء کے خلاف پروپیگنڈا تیز کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی ان شہیدوں کے خون کو حقیر سمجھتی رہی ہیں۔ مختصر یہ کہ پی ٹی ایم ایک طرف تنہا کھڑی تھی اور باقی ریاست دوسری طرف کھڑی تھی۔ لیکن ایسے مشکل حالات میں صرف پی ٹی ایم اپنے بے بس پشتونوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ آج تک کھڑا ہے۔ شہدائے خار قمر کی آج چھٹی برسی ہے، یعنی چھ سال گزر گئے لیکن ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔
آج 26 مئی خڑکمر واقعے کی 7ویں برسی ہے۔
7 سال قبل، 2019 میں شمالی وزیرستان کے خڑکمر میں مقامی لوگوں نے فوج کے غیرقانونی تلاشی آپریشن کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
پاکستانی فوج نے براہِ راست مظاہرین پر فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور46 زخمی ہوئے
#RememberingKharKamarMartyrs
When even innocent Pashtun children returning home from school are no longer safe, then who are these claims meant for that “everything is under control”?
A Pakistan-operated quadcopter drone strike resulted in the death of a Pashtun child student, while another Pashtun child was left critically injured. This is a failure of a policy and system of governance in which the sanctity of human life has been pushed aside.
Do these innocent Pashtun children have no value?
Have the lives of Pashtuns in these regions become so cheap?
#StopStateTerrorism
@HRCP87
پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن نے فرید آفریدی کی جبری گمشدگی پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی ایم کے گرفتار اور لاپتہ کیے گئے کارکنان کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
1/1
@HRCP87
افسوسناک خبر
باجوڑ کے علاقے ماموند شاہی تنگی میں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں سکول سے گھر جاتے ہوئے یہ خوبصورت کمسن طالب علم (بچہ)ش ہید جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا
آگر ٹی ٹی پی کی وجہ سے ریاست ہم پشتونوں پر غداری اور دہشتگردوں کو پناہ دینے جیسے الزامات لگا رہے ہیں تو پھر کچے کے ڈاکوؤں کا الزام تو ریاست پر عائد ہوتی ہے نا کیونکہ ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کیا ہوا ہ