Gazze'ye gönüllü giden Dr. Tanya Haj-Hassan:
“Cansız bir çocuğu kucağımda tuttum—onu kurtaracak hiçbir ekipman yoktu. Bu bir savaş değil, masumların katliamı.”
From Turkey to Algeria, Egypt, Iran, Morocco, Bosnia, Spain, and Scotland, fans of national teams raised the Palestinian flag and called to "Red Card Israel." Palestine didn't play in the World Cup, but it was present in every stadium, by the will of the people.
#DisruptFIFA
A young Muslim teenager, on the biggest stage in world sport, watched by billions around the world.
May Allāh keep him steadfast and help him become a better Muslim.
شہاب نامہ سے انتخاب: "عہدے کی اوقات اور انسانی رویہ"
قدرت اللہ شہاب صاحب جب ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے، تو انہوں نے وہاں ایک بڑا ہی سبق آموز واقعہ دیکھا، جو انہوں نے اپنی کتاب میں یوں قلمبند کیا ہے:
"ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قیام کے دوران مجھے ایک عجیب تجربہ ہوا۔ ایک روز میں اپن�� موٹر کار میں سوار کہیں جا رہا تھا کہ ایک چوراہے پر سگنل سرخ ہو گیا۔ میری کار رک گئی۔ برابر میں ایک اور ��ھوٹی سی کار آ کر رکی جس کی حالت کوئی بہت زیادہ اچھی نہیں تھی۔
میں نے اتفاقاً برابر والی کار کے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔ وہ ایک اوسط درجے کا بوڑھا آدمی تھا، جس نے عام سے کپڑے پہن رکھے تھے۔ مجھے دیکھ کر اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔ میں نے بھی جواباً سر ہلا دیا۔
تھوڑی دیر بعد سگنل سبز ہوا اور ہم دونوں اپنی اپنی راہ چل دیے۔
اگلے روز جب میں ہالینڈ کے بادشاہ (یا صدر) سے ملاقات کے لیے ان کے محل گیا، تو وہاں رسمی ملاقات اور سفارتی آداب کے بعد جب گفتگو شروع ہوئی، تو مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت کا جھٹکا لگا کہ یہ وہی بزرگ تھے جو کل ایک معمولی سی کار میں میرے برابر کھڑے مجھے دیکھ کر مسکرا ��ہے تھے! یعنی وہ ملک کے سربراہ تھے۔
جب انہیں معلوم ہوا کہ میں پاکستان کا سفیر ہوں، تو انہوں نے مسکرا کر مجھ سے کہا: 'کل چوراہے پر ہم دونوں برابر کھڑے تھے، لیکن آج آپ میرے مہمان ہیں۔ چوراہے پر ہم دونوں صرف دو انسان تھے، اور یہاں ہم اپنے اپنے عہدوں کے نمائندے ہیں۔ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن انسانیت اور سادگی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔'"
تحریر کا حاصلِ کلام (سبق):
قدرت اللہ شہاب اس واقعے کے بعد لکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ اور عظیم قومیں اپنے عہدوں اور پروٹوکول کے پیچھے نہیں چھپتیں۔ وہ اپنی سادگی اور انسانیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ اصل شرافت اور بڑا پن یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنا بڑا عہدہ یا گاڑی ہے، بلکہ اصل بڑا پن یہ ہے کہ آپ اپنے سے کم تر یا برابر والے انسان کے ساتھ کتنے عاجز اور مخلص ہیں۔
@JAAC__Official No one is interested. Kindly leave us alone. Mirpur loudly said " No To JAAC " . If you don't believe it, come to Chowk and watch the banner.