اللہ ہمت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ بد دعا دینے والوں کے ساتھ نہیں۔
پشاور کی خاتون شہری شفق عامر نے کپڑوں کے مشہور برینڈ 'کھاڈی' سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے۔ جب وہ بل ادا کرنے لگیں تو دیکھا کہ بل میں تیس روپے شاپنگ بیگ کے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ شفق نے کہا کہ اس بیگ پر آپ کے برانڈ کا لوگو و نام لکھا ہوا ہے، جس سے مشہوری آپ کے برانڈ کی ہوگی، اسکی قیمت میں کیوں ادا کروں؟ بتایا گیا کہ کمپنی کی پالیسی یہی ہے۔ یہ 20 دسمبر 25ء کی بات ہے۔
شفق نے اس پر 'کھاڈی' کو لیگل نوٹس بھجوا دیا، جسکا جواب تو دیا گیا لیکن کمپنی اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ شفق نے بالآخر کھاڈی کے خلاف پشاور کی کنزیومر کورٹ میں شاپر کے 30 روپوں کی واپسی کے علاوہ خطیر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔
جواب میں کھاڈی نے موقف اختیار کیا کہ قانون کہیں نہیں کہتا کہ شاپر فری دیا جائے۔ انکا شاپنگ بیگ ماحول دوست مٹیریل سے تیار کیا جاتا ہے، جس پر خاصی لاگت آتی ہے، یوں وہ اس کی قیمت وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کپڑوں کے دیگر عالمی برینڈز بھی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ یہ بیگ تشہیر کی غرض سے نہیں بلکہ اس پر اسے دوبارہ استعمال کرنے کا پیغام لکھا ہوا ہے۔ خاتون کو ایک مفت پلاسٹک کا شاپر پیش کیا گیا تھا، مگر انہوں نے خود کاغذی بیگ کا مطالبہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اسکی قیمت ادا کرنی ہوگی، جس پر انہوں نے اپنی مرضی سے اسے خریدا۔ لہٰذا 30 روپے کی رسید پر اتنا خطیر ہرجانے کا دعویٰ محض انہیں ہراساں کرنا ہے۔
کنزیومر کورٹ کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے کل 16 ستمبر 2026ء کو کیس کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کھاڈی نے سات ہزار کے کپڑوں کی فروخت اور بیگ کے عوض 30 روپے اضافی وصول کرنے کا خود اعتراف کیا جو رسید سے بھی ثابت ہے۔ عام طور پر کوئی بھی کسٹمر جب کسی دکان سے خریداری کرتا ہے، تو وہ جائز طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ خریدا گیا سامان اسے بغیر کسی اضافی قیمت کے کسی بیگ میں رکھ کر دیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر دکاندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاہک کو ایک عام (بغیر برانڈ لوگو والا) شاپر مفت فراہم کرے۔
کھاڈی ایک مشہور برانڈ ہے اور جو بیگ انہوں نے 30 روپے میں فروخت کیا، اس پر انکے برینڈ کا نمایاں لوگو موجود تھا۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ برینڈ اپنے نام کی تشہیر کے لیے جو بیگ استعمال کر رہا ہے، اسکی قیمت بھی وہ خود اپنے صارفین کی جیب سے وصول کر رہا ہے۔ کھاڈی نے نہ صرف اضافی رقم لی بلکہ اس بیگ کو اپنی تجارتی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا۔ یہ عمل قانون کی نظر میں سراسر غلط ہے اور تحفظِ صارفین قانون کے تحت واضح طور پر ایک "غیر منصفانہ تجارتی عمل" ہے۔
شاپنگ بیگ کی مد میں ناجائز لیے گئے 30 روپے کے علاوہ سائلہ کو ذہنی اذیت اور مقدمہ بازی کی زحمت کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جائیں۔ اس غیر منصفانہ تجارتی عمل پر مزید 25 ہزار روپے بطور جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کروائے جائیں۔
عدالت نے ان احکامات کے ساتھ شفق عامر کی کمپلینٹ منظور کر لی۔
کوئی زمین سےنکلتا ہوا میلا پانی پینےوالا رہا ہے اور نہ ہی زمین کا مٹیالا پانی پلانے والا۔ نہ وہ جام رہا اب جس میں دھرتی کا پانی پیا جائےنہ وہ ساقی رہےاب جو دھرتی کا پانی پلاتے تھے
میری عظیم اور محبوب قائد دختر مشرق فخرےایشیاء کہ جانے کہ بعد اس کامریڈے یتیم ہوگئے
نور الہدی شاہ