Uncovering forgotten stories
Lost empires
Hidden truths that shaped our world
Daily History Discoveries
Forgotten Stories • Lost Empires • Hidden Truths
ایک سندھی کا مہاجر سیاست کو دوٹوک جواب: کراچی سندھ کا تھا، ہے اور رہے گا
میں ایک سندھی کی حیثیت سے یہ بات صاف، دوٹوک اور بغیر کسی مصلحت کے کہنا چاہتا ہوں کہ کراچی پر جھوٹ، جذباتی نعرے، مظلومیت کی سیاست اور تاریخی قبضہ گیری کا بیانیہ اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی کوئی ایسا شہر نہیں جس کی تاریخ 1947 کے بعد شروع ہوئی ہو۔ کراچی سندھ کی زمین پر آباد تھا، سندھ کی تاریخ کا حصہ تھا، سندھ کی معیشت کا مرکز تھا، اور آج بھی سندھ کا دل ہے۔ جو لوگ کراچی کو سندھ سے الگ سوچتے ہیں، وہ تاریخ سے بھی ناواقف ہیں اور زمینی حقیقت سے بھی۔
مہاجر بھائیو، سب سے پہلے یہ بات سمجھ لو کہ ہجرت ایک تاریخی واقعہ ہو سکتی ہے، مستقل سیاسی لائسنس نہیں۔ ہجرت قربانی تھی، مگر قربانی کے نام پر کسی دوسرے کی زمین، تاریخ اور شناخت پر دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کے بزرگ بھارت سے آئے، پاکستان نے جگہ دی، سندھ نے جگہ دی، کراچی نے روزگار دیا، ماحول دیا، زندگی دی۔ اب اسی سندھ کے دل کراچی کو سندھ سے کاٹنے کی بات کرو گے تو جواب بھی نرم نہیں آئے گا۔
“مہاجر” لفظ کا مطلب ہے ہجرت کرنے والا؛ یعنی وہ شخص جو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تین تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی انسان خود کو صرف مہاجر کہتا رہے؟ کیا اولاد در اولاد ایک ہی عبوری شناخت کو سیاسی ہتھیار بنا کر رکھا جائے؟ دنیا میں لوگ ہجرت کرتے ہیں، نئی ریاست کی شہریت لیتے ہیں، وہاں کے قانون اور قومی شناخت کو قبول کرتے ہیں۔ مگر یہاں عجیب سیاست ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی نسل بھی خود کو مستقل مہاجر کہہ کر الگ سیاسی شناخت بناتی ہے۔
یہ دوہرا معیار بھی ختم ہونا چاہیے۔ جب آپ کے لوگ امریکہ جاتے ہیں، وہاں citizenship لیتے ہیں، تو خود کو American کہتے ہیں۔ جب UK جاتے ہیں، تو British کہلاتے ہیں۔ وہاں کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہم نسل در نسل مہاجر ہی رہیں گے، ہمیں الگ سیاسی حیثیت چاہیے، ہمیں الگ شناختی سیاست چاہیے۔ پھر سندھ میں سندھی کہلوانے میں مسئلہ کیوں ہے؟ سندھ میں پیدا ہوئے، سندھ کا شناختی کارڈ رکھتے ہو، سندھ کے وسائل استعمال کرتے ہو، سندھ کی زمین پر رہتے ہو، پھر سندھی شناخت کو مکمل طور پر قبول کرنے میں رکاوٹ کیا ہے؟
ہمیں عام مہاجر شہری سے کوئی دشمنی نہیں۔ ہمارا مسئلہ اس سیاسی سوچ سے ہے جو کراچی میں رہ کر سندھ کی تاریخ کو جھٹلاتی ہے، سندھ کی وحدت کو چیلنج کرتی ہے، اور پھر حقوق کے نام پر علیحدگی کا بیانیہ بناتی ہے۔ حقوق مانگنا الگ بات ہے، سندھ کی زمین کاٹنے کی بات الگ بات ہے۔ پانی، روزگار، ٹرانسپورٹ، صفائی، بلدیاتی اختیار اور انصاف مانگو، ہم ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ مگر کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرو گے تو سندھی قوم تمہارے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگی۔
کراچی قیامِ پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا۔ اس کی بندرگاہ تھی، تجارت تھی، شہری نظام تھا، مقامی برادریاں تھیں، کاروباری خاندان تھے، میمن، بوہری، پارسی، سندھی، بلوچ، کچھی، گجراتی اور دیگر لوگ اس شہر کی معاشی بنیادوں میں شامل تھے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ کراچی کو صرف ایک مہاجر برادری نے بنایا، محض سیاسی مبالغہ نہیں بلکہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ جدید کراچی میں مہاجروں کا کردار ہے، مگر کراچی کی بنیاد مہاجر سیاست کی محتاج نہیں تھی۔
آپ نے کراچی میں کام کیا، تعلیم میں کردار ادا کیا، صحافت، ادب، دفتر شاہی، تجارت اور شہری زندگی میں حصہ لیا؛ اس کردار کا اعتراف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کردار کو ملکیت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سندھ کی زمین پر آ کر سندھ کی تاریخ کو کمزور کہنا، کراچی پر مکمل دعویٰ کرنا، اور پھر خود کو مظلوم بھی ثابت کرنا، یہ سیاست اب پرانی ہو چکی ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھو کہ کراچی کی علیحدگی کا نعرہ سندھیوں کے لیے محض سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ سندھ کی وحدت پر حملہ ہے۔ سندھ کوئی انتظامی فائل نہیں کہ جس کا دل کاٹ کر الگ کر دیا جائے۔ کراچی سندھ کا معاشی، تاریخی اور جغرافیائی حصہ ہے۔ کوئی بھی تحریک، کوئی بھی جماعت، کوئی بھی نعرہ، کوئی بھی دباؤ سندھ کے لوگوں کو کراچی سے دستبردار نہیں کر سکتا۔
اگر مسئلہ بلدیاتی اختیار کا ہے تو بلدیاتی نظام مضبوط کرو۔ اگر مسئلہ ٹیکس کا ہے تو شفاف حساب مانگو۔ اگر مسئلہ سہولتوں کا ہے تو حکومت سے جواب لو۔ لیکن اگر ہر مسئلے کا حل سندھ کی تقسیم بتایا جائے گا تو پھر یہ حقوق کی سیاست نہیں، سندھ دشمنی سمجھی جائے گی۔ اور سندھی قوم سندھ دشمنی پر خاموش رہنے والی قوم نہیں۔
مہاجر شناخت کو اگر ثقافتی یادداشت کے طور پر رکھا جائے تو کسی کو اعتراض نہیں۔ آپ اپنی زبان، ادب، تہذیب، کھانے، شاعری اور خاندانی تاریخ پر فخر کریں۔ مگر جب یہی شناخت سندھیت سے اوپر، سندھ کی وحدت کے خلاف، یا کراچی کی علیحدگی کے حق میں استعمال ہوگی تو پھر اسے چیلنج کیا جائے گا۔ سندھی کسی کی ثقافت کے دشمن نہیں، مگر سندھ کو کاٹنے والی سیاست کے ضرور مخالف ہیں۔
یہ بھی یاد رکھو کہ پاکستان میں ہر قوم اپنی تاریخ رکھتی ہے۔ سندھیوں کی ہزاروں سالہ تہذیب ہے، اپنی زبان ہے، اپنا ادب ہے، اپنی مزاحمت کی تاریخ ہے، اپنی زمین سے گہرا رشتہ ہے۔ سندھ نے حملے بھی دیکھے، قبضے بھی دیکھے، نوآبادیاتی دور بھی دیکھا، وسائل پر دباؤ بھی دیکھا، مگر اپنی شناخت نہیں چھوڑی۔ اس لیے کوئی یہ غلط فہمی نہ رکھے کہ سندھی کراچی کے معاملے پر کمزور پڑ جائیں گے۔
کراچی میں رہنے والا ہر شہری ہمارے لیے قابلِ احترام ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سندھ کا احترام کرے۔ اگر آپ کراچی کو اپنا گھر کہتے ہیں تو سندھ کو بھی اپنی زمین مانو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کراچی سے فائدہ بھی لو، کراچی کو اپنا بھی کہو، مگر سندھ کی تاریخی حیثیت کو ماننے سے انکار کرو۔ گھر وہی ہوتا ہے جس کی بنیاد کو عزت دی جائے۔ کراچی کی بنیاد سندھ ہے، اور اس حقیقت کو ماننا پڑے گا۔
مہاجر سیاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا: سندھیت اختیار کرنی ہے یا مستقل علیحدہ شناخت کے نام پر سیاسی دیواریں کھڑی کرنی ہیں؟ اگر آپ سندھی ہیں تو سندھی بن کر بات کریں۔ اگر سندھ میں رہتے ہیں تو سندھ کے احترام کے ساتھ بات کریں۔ اگر کراچی کے شہری ہیں تو شہری حقوق کی بات کریں، مگر سندھ کی تقسیم کی سیاست نہ کریں۔ یہ بات جتنی جلدی سمجھ لی جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
ہم سندھی کسی کے روزگار، تعلیم یا عزت کے خلاف نہیں۔ ہمیں اعتراض اس غرور پر ہے جو کراچی کو سندھ سے اوپر سمجھتا ہے۔ ہمیں اعتراض اس لہجے پر ہے جو مقامی تاریخ کو مٹاتا ہے۔ ہمیں اعتراض اس سیاست پر ہے جو اپنے حق کے نام پر دوسروں کے تاریخی حق کو روندنا چاہتی ہے۔ سندھ کی زمین پر رہ کر سندھ کی وحدت کو چیلنج کرنا قابلِ قبول نہیں۔
کراچی سب کا شہر ہو سکتا ہے، مگر سندھ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ کراچی میں سب رہ سکتے ہیں، سب کام کر سکتے ہیں، سب ترقی کر سکتے ہیں، مگر کراچی پر سندھ کے تاریخی حق کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی ہر سوچ، ہر نعرہ اور ہر منصوبہ سندھی قوم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
میرا آخری پیغام صاف ہے: مہاجر بھائیو، اپنی تاریخ سناؤ، مگر ہماری تاریخ نہ مٹاؤ۔ اپنی قربانی بیان کرو، مگر سندھ کی زمین پر دعویٰ نہ کرو۔ حقوق مانگو، مگر سندھ کی تقسیم کا نعرہ نہ لگاؤ۔ کراچی میں رہو، ترقی کرو، عزت سے رہو، مگر یہ بات ذہن میں رکھو کہ کراچی سندھ کا تھا، سندھ کا ہے، اور سندھ کا رہے گا۔
سندھ میں رہنا ہے تو سندھی بن کر رہو۔ سندھ میں رہنا ہے تو سندھ کا احترام کر کے رہو۔ کراچی کو اپنا گھر کہتے ہو تو اس گھر کی بنیاد سندھ کو مان کر رہو۔ یہی حقیقت ہے، یہی تاریخ ہے، اور یہی وہ لکیر ہے جسے سندھی قوم کسی صورت مٹنے نہیں دے گی۔
اگر کسی کو اپنی تاریخی شناخت، اپنے آبائی علاقوں اور اپنی سیاسی طاقت پر اتنا ہی فخر ہے تو پھر اسے دوسروں کی زمین پر آ کر دعوے کرنے کے بجائے اپنی تاریخ سے بھی سچائی کے ساتھ سوال کرنا چاہیے۔ ہجرت ایک تلخ حقیقت تھی، مگر اس حقیقت کو سندھ کی زمین، کراچی کی شناخت اور سندھی قوم کے تاریخی حق کے خلاف سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔ جس سرزمین نے جگہ دی، روزگار دیا اور زندگی کا موقع دیا، اسی سرزمین کی وحدت کو چیلنج کرنا نہ انصاف ہے نہ اصول۔ حقوق مانگنا سب کا حق ہے، مگر کسی صوبے کی زمین کو کاٹنے کا مطالبہ کرنا حق نہیں، زیادتی ہے۔ اگر کراچی کو اپنا گھر کہتے ہو تو سندھ کو بھی عزت دو، ورنہ یہ دوہرا معیار قابلِ قبول نہیں۔
#Karachi
#Sindh
#KarachiIsSindh
#SindhCulture
#SindhHistory
#SindhUnity
#KarachiHistory
#SindhiIdentity
#PakistanPolitics
#UrbanRights
#SindhRights
#KarachiIssues
#PoliticalAwareness
#HistoryMatters
#PakistanDebate
@Nimrah_Khan30 Exactly. You don’t have to keep explaining yourself to people who already decided to misunderstand you. Peace comes when you stop trying to control their version of you.
اگر پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) واقعی سندھ کی وحدت کی محافظ ہے تو پھر سندھ اسمبلی میں ایسا موشن پیش کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی؟ PPP کو صاف بتانا ہوگا کہ یہ موشن کس کے کہنے پر، کس سیاسی سوچ کے تحت اور کس کے مفاد کے لیے پیش کیا گیا؟
ایک طرف سندھ کی وحدت کے نعرے، دوسری طرف ایم کیو ایم (MQM) کو سندھ کی تقسیم کے حق میں دلائل دینے کے لیے اسمبلی کا فلور فراہم کرنا یہ آخر کیسی سیاست ہے؟
سندھ نہ PPP کی جاگیر ہے نہ MQM کی سیاسی سودے بازی کا میدان۔
سندھ ایک ہے اور اس کی وحدت پر کسی قسم کی ڈیل یا سمجھوتہ قبول نہیں ہوگا۔
#sindhisone
#sindhisunited
#SindhUnitedMarch
پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ بھلائی کردی... ہم بھت خوش ہیں، ہم نے تو اسمبلی میں اس موقع کے لیے خواب بھی نہیں دیکھا تھا. پ پ پ نے بھلا کردیا- ایم کیو ایم.
ایم کیو ایمی لیڈروں اور چھاڑتوں نے سندھی صحافیوں کو فونیں کر کر کہ بتایا اور بڑی خوشی کا اظہار کیا.
سنیے ارباب چانڈیو کی زبانی :
#SindhIsOne
#SindhUnitedMarch
#ArbabChandio