میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں
ہمارے مطالبات ہیں:
26ویں ترمیم کا خاتمہ
جمہوریت اور آ��ین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
میں نے ایک لیڈرشپ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو احتجاج کو لیڈ کرے گی اور تمام مذاکرات کرے گی
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
رجیم چینج آپریشن اور 9 مئی ، دونوں ہمارے خلاف سازش تھی اور ہمیں ہی مجرم بنا کر ہمیں ہی سزا دی جارہی ہے۔ دونوں معاملات میں ہم نے انکوائری کی ڈیمانڈ کی اور دونوں میں انکوائری نہیں کی گئی۔
میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ جس نے ۹ مئی کی فوٹیج چرائی اسی نے ہی ۹مئی کروائی۔
ہمارے خلاف سازش ہوئی اور ہماری ��کومت گرائی گئی ۔ سائفر ہمارے خلاف آیا تھا اور اس کا کیس مجھ پر اور شاہ محمود قریشی پر بنا دیا گیا۔اس سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ مجھے ملٹری کی حراست میں لے لیا جائے ۔
اس وقت پاکستان بنانا رپبلک بن چکا ہے جہاں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے ۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ اب دنیا بھر میں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ پاکستان میں بجلی کا بل گھر کے کرائے سے زیادہ ہو گیا ہے۔آئی پی پی کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں پسی ہوئی عوام پر ہر مہینے بجلی کا بل قہر بن کر گرتا ہے۔ ان چند خاندانوں نے خاص طور شریف اور زرداری خاندان نے اپنے ذاتی فائدے اور دولت بنانے کے لیے ملک میں بجلی کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ دو سال میں معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے فیصل آباد میں فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور یہ ان کی ساری توجہ تحریک انصاف اور مجھے کرش کرنے پر لگی ہوئی ہے۔
Today marks one year to horrific state-sanctioned murder of our innocent supporter Zille Shah (Ali Bilal), who was brutally killed for exercising his right to peaceful protest.
Despite his autopsy showing brutal torture on 26 different parts of his body including his skull, lungs and his private parts, the case hasn’t been investigated, and the culprits remain at large— showing the plight of our justice system.
We, once again, demand a transparent probe into this horrific killing.
25 اپریل 1996 کو چیئرمین عمران خان نے انصاف، انسانیت اور خودداری کے اصولوں پر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ مصائب، مشکلات اور جبر و استحصال کےسلسلۂ ناتمام کے باوجود پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی حقیقی آزادی کیلئے اپنی صبر آزما جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
#28YearsOfStruggle
On April 25, 1996, Chairman Imran Khan laid foundation of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) on the principles of justice, humanity and self-esteem. Despite hardships, set backs and oppression, PTI continues to fight for Pakistan’s Haqeeqi Azadi (true freedom) #28YearsOfStruggle
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی تباہ کن کیفیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے چیف جسٹس کو ان کی دستوری ذمہ داریوں کا احساس دلوایا ہے۔
اس کے ساتھ انہیں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے حلف سے وفاداری نبھانے اور بانیانِ پاکستان کے اصول و اقدار اور آئینِ پاکستان کی بالادستی پر ایمان کے اپنے دعوؤں کی پاسداری کا پیغام بھجوایا ہے۔
(چیف جسٹس آف پاکستان کو انگریزی میں بھجوائے گئے خط کا اردو ترجمہ)
رب العزت کی عظیم ترین تخلیق یعنی انسان جب گرتا ہے تو حیوانات تک کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ وہ وحشی جنہوں نے تشدد سے ہمارے ظلِ شاہ (علی بلال) کی جان لی، درندوں سےبھی بدتر ہیں۔ انہوں نےنفسیاتی طور پر مجہول اور دماغی خلل کےشکار ایک شخص کی نگرانی میں اعظم سواتی،شہباز گِل اور بہت سے
#وہ_کون_ہے
رجیم چینج آپری��ن کے بعد ایک افغان شہری کو عمران خان کو رستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے کاروائی کرکے گرفتار کیا۔ موصوف کے پاس سرحد کے دونوں اطراف جو اہم ذمہ داریاں تھیں اور عوام میں جو ان کا پروفائل تھا وہ تو تشویش ناک تھا ہی، ان کی گرفتاری کا مقام اور ان کو چھڑوانے کے لیے جس سطح پر کوششیں کی گئیں وہ تفصیلات اور بھی ہولناک تھیں۔
عمران خان پورے پاکستان میں جلسے کر رہے تھے، اسی سلسلے کا ایک جلسہ صوابی میں بھی تھا، اطلاع موصول ہوئی کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ بروقت اطلاع ملنے پر پلان ناکام ہوا۔ جس شخص کو یہ ٹاسک سونپا گیا تھا، موصوف ڈبل ایجنٹ تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ کچھ ہی عرصہ بعد ایک پڑوسی ملک میں ایک ایسے حملے میں ان کی ہلاکت ہوگئی جس کی ذمہ داری دونوں جانب سے قبول کی گئی۔
پھر وہ دن بھی سب کو یاد ہی ہوگ�� کہ جب خان صاحب کے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ ہوئی تھی۔ معلوم ہوا ہیلی کاپٹر میں غلط فیول ڈلوایا گیا تھا۔ بتایا گیا تحقیقات میں کچھ نہیں نکلنا کیونکہ فیول ڈلوانا جن کی ذمہ داری ہے رپورٹ بھی انہی نے مرتب کرنی تھی۔
پنجاب میں ایک جلسے سے واپسی پر اس بات پر اصرار کیا گیا کہ خان صاحب ایک مخصوص گاڑی میں سفر کریں۔ اور سفر کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ دلچسپ بات کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں بھی کچھ خاص نہیں نکلا۔
وزیر آباد حملے کے محرکات اور اس سے پہلے کے واقعات تو سب کے سامنے ہی ہیں، کیسے توہین مذہب کا بیانیہ بنایا گیا، جسے ٹاؤٹ صحافیوں کے علاوہ نیشنل ٹی وی پر بھی چلایا گیا اور پھر ایک “مذہبی جنونی” نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ پھر کیسے ملزم کے بیانات پولیس ریکارڈ کرکے میڈیا سے چلواتی رہی، کہاں سے اس کا مقدمہ لڑا جارہا ہے اور کیسے اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی عمران خان ک�� ایف آئ آر تک نہ درج ہوسکی۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے کارکنان کے کیمپ زمان پارک منتقل ہوگئے۔ بنی گالہ میں بھی متعدد بار مشکوک لوگوں کی جانب سے کیمپس میں تعلقات بنانے اور انٹر ہونے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔ زمان پارک سے چار دفعہ مشکوک افراد پکڑے گئے، جنوبی پنجاب کے کیمپ سے ایک بندہ پکڑا گیا کارکن اس کو سائیڈ پر لے جا کر پوچھ تاچھ کر ہی رہے تھے کہ پولیس اس کو آکر لے گئی، بعد میں کوئی جواب نہیں کہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا، کس نے بھیجا تھا۔ جب خطرہ ہی تحفظ دینے والوں سے ہو تو بندہ شکایت کہاں لے کر جائے؟
زمان پارک کی رہائش گاہ پر خودکش حملے کی اطلاعات تھیں۔ ہم نے بلٹ پروف گیٹ اور چاردیواری کے ساتھ ریت کی بوریاں رکھوانے کا انتظام کیا تو مزدوروں کو کام کرنے سے منع کردیا گیا۔ ریاست مذاق اور بیانیے بناتی رہی کارکن اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے خود بوریاں لگاتے رہے۔
۱۴ مارچ کو پولیس زمان پارک پہنچی، ۱۸ مارچ کو عمران خان نے عدالت پیش ہونا ہی تھا، اس سے پہلے بھی پیش ہوتے رہے تھے۔ پھر بھی ایسا آپریشن شروع ہوا جیسے کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ عوام نے تو واٹر کینن اور شیلز دیکھے، چھتیس خول گولیوں کے میں نے خان صاحب کے گھر کے باہر سے اٹھا کر دیے۔ آئی جی پلاسٹک کی بوتلوں کے پٹرول بم پر پریس کانفرنس کرتے رہے ان کی فورس سابقہ وزیر اعظم کے گھر پر فائرنگ کرتی رہی۔
ایک طرف یہ رویہ تھا ریاست کا دوسری جانب بیانیہ بنایا جارہا تھا کہ زمان پارک میں دہشتگرد موجود ہیں۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ یہ کسی فالس فلیگ آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں سو کیمپس میں سیکیوریٹی بڑھا دی گئی۔ اسی دوران کارکنان نے کیمپ سے ایک ادارے کا اہلکار پکڑا، انہی اہلکاروں کے ذریعے کیمپوں میں اسلحہ رکھوانے کا پلان تھا، اس اہلکار کو پرویز خٹک صاحب کارکنان سے چھڑا کر لے گئے۔۔ ۱۸ مارچ کا ڈیتھ ٹریپ بھی لمحہ بہ لمحہ کیمروں میں محفوظ ہے۔
مارچ کے آخری ہفتے میں عمران خان کو قتل کرنے کے ایک ا��ر منصوبے کی اطلاع ملی۔ مبینہ طور پر یہ والا منصوبہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ دی رپورٹرز پروگرام میں اس منصوبے کا تذکرہ ہوا اور سو منصوبہ لیک ہونے کے سبب کٹائی میں پڑ گیا۔ لاہور کے چند افسران کی جانب سے قیادت کو متنبع کیا گیا کہ اس معاملے پر زیادہ بات نہ کریں۔ چونکہ یہ منصوبہ سیاسی پارٹی کا تھا، اداروں نے تصدیق کی کہ اطلاع مصدقہ تھی لیکن تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ نہیں کیا۔
عمران خان کی عدالتی پیشیوں اور ریلیوں کے دوران جیسا رویہ ریاستی اداروں کی جانب سے رکھا گیا، جیسے ان کی سیکیوریٹی واپس لی گئی اور ہماری ذاتی سیکیوریٹی کے نظام کو بھی بار بار مفلوج کیا گیا۔ جیسے ہمارے سیکیوریٹی پر معمور لوگوں کو بار بار اٹھایا جاتا رہا۔ یہ سب واقعات ایک ہی کہانی سناتے ہیں۔ اگست ۲۰۲۳ سے عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں اور اب جب کہ بشری بی بی کے ٹیسٹس میں اتنی تاخیر کے باوجود یہ واضح ہے کہ ان کے کھانے میں کوئی ایسی شے ملائی گئی ہے جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ اثرات آنے والے دنوں میں ان کی زندگی کے لیے مضر ثابت ہوں، عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں رہ جانی چاہئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے روازنہ کچھ ٹاؤٹس کے ذریعے لپیٹ لپاٹ کر دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کیسے ہی انہی اور انہی جیسے دیگر ٹاؤٹس کی جانب سے ان کے اور بشری بی بی کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے بھی بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ مقصد ایک ہے عوام کو کنفیوژن میں رکھ کر اپنا مقصد پورا کرنا۔(میں اپنے دوستوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں ان کے بیانیوں اور ان کی تشریحات میں الجھنے اور اپنے آج کی فکر میں رہنے کے بجائے براڈر پکچر پر نظر رکھیں۔ عوام کا مفاد، وطن کے ساتھ وفاداری اگر کسی کی سیاست کی ترجیح نہیں بھی ہے تو یاد رکھیں ان فیملی انٹرپرائزز میں آپ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اور آپ آج جو ہیں اور کل اگر کسی مقام تک پہنچ سکتے ہیں تو اس کا دارومدار صرف عمران خان کے نظریے پر ہے۔ خان صاحب کے ناحق قید، ان کی زندگی کو لاحق خطرات کا ذکر کریں۔ ان کے تحفظ کا سوال اٹھائیں۔ عمران خان اور بشری بی بی ریاستی تحویل میں ہیں، بنی گالہ سے لے کر اڈیالہ تک کا کنٹرول آئی ایس آئی کے پاس ہے۔ میں صاف اور واضح الفاظ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں جنگل کا بادشاہ عمران خان کو ختم کرنے کا اعادہ کرچکا ہے۔ عوامی ریکشن کے پیش نظر یہ منصوبہ سلو پوائزننگ کے ذریعے بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے، جس سے ان کی طبیعت بتدریج بگڑنا شروع ہوگی۔ تاثر یہ دیا جائیگا کہ عمران خان ڈپریشن کا شکار تھے اور اس سبب (خدانخواستہ) حرکتِ قلب بند ہونے سے ہلاک ہوئے یا خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بہرطور اس منصوبے پر عملدرآمد متعدد مرتبہ کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے اور کسی کو اس معاملے میں کوئی گمان نہیں رہنا چاہئے یہ کوشش جاری رہے گی۔ وللہ خیر الما��رین۔
Founding Chairman Imran Khan writes to the Chief Justice of Pakistan, highlighting the grave state of affairs in the country, and reminds him of his responsibility to stay true to his oath and declared belief in the principles and values espoused by Pakistan's founding fathers & his proclamation of Supremacy of the constitution.
“کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں آپ نے ناصرف ووٹ ڈلوانے ہیں بلکہ ووٹ پر پہرہ بھی دینا ہے-
ووٹ ڈلوا کر تب تک پولنگ سٹیشن پر رہیں جب تک پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 نہ مل جائے- اس کے بعد ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر پہنچیں اور جب تک ہمارے امیدواروں کو فارم 47 نہ ملے تب تک گھر نہ جائیں” -
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارٹی سپورٹرز اور ورکرز کے لیے ہدایات.
گویا ججز کو ڈرانا دھمکانا، عام انتخابات پر ڈاکہ ڈالنا اور پولیس تھانوں پر دھاوے بولنا کافی نہ تھا کہ وہ ” نامعلوم“ افراد جو اب زیادہ نامعلوم بھی نہیں رہے، این اے-8 باجوڑ میں الیکشن آفس پر حملہ آور ہوئے ہیں جہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ الیکشن عملے کو بھی وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا ہے جسکی تفصیلات ریٹرننگ افسر نے اپنے خط میں قلمبند کی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ریاستی نظم کا شیرازہ پوری طرح بکھر چکا ہے اور ”جنگل کا بادشاہ“ یہاں قانون کی حکمرانی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئےپوری ڈھٹائی سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بظاہرکسی ساز باز کے نتیجے میں اس لاقانونیّت میں ملوّث ہے یا اس کے خلاف اقدام کرنے سے بے حد خوفزدہ اور عاجز ہے۔
Extremely concerned about the abduction of Hassan Niazi and Ibad Farooq who were tried by military court, unconstitutionally, and were awaiting sentencing when they were abducted to be tortured by the same people who planned the 9th May false flag operation & stole all the CCTV recordings.
Supreme Court bench hearing the military court case must take immediate notice of this law of jungle prevailing in Pakistan today.
ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اگلے جہان میں جواب بھی دینا ہے۔ اس کی سرزمین پر ارشد شریف شہید کے قتل کو حادثہ قرار دیا گیا اور اسکی موت بھی ایک حادثے میں ہو گئی۔ یا اللہ رب العزت تو ہی سب سے بہتر انصاف فرمانے والا ہے۔
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیال�� جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
“گزشتہ سماعت پر جنگل کے بادشاہ کا نام لیا تھا تو آج عدالت میں اضافی شیشے لگا کر دیواریں بنا دی گئی ہیں،
ملک میں جنگل کا قانون ہے اور یہ سب جنگل کا بادشاہ کروا رہا ہے- جنگل کا بادشاہ چاہتا ہے تو نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہو جاتے ہیں اور جب چاہتا ہے تو پانچ دن میں ہمیں تین - تین کیسز میں سزا دے دی جاتی ہے-
جنرل عاصم منیر میری بیوی کو سزا دلوانے میں براہ
راست ملوث ہے- جج کہتا ہے کہ میری کنپٹی پر گن رکھ کر فیصلہ کروایا گیا- اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک زندہ ہوں عاصم منیر کا ��یچھا نہیں چھوڑوں گا، اس کے غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات کو بےنقاب کرتا رہوں گا-
آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے نہیں سرمایہ کاری سے معیشت مستحکم ہو گی- جنگل کے قانون کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی- سعودی عرب کا آنا اچھی بات ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے ملک میں Rule of Law ہونا لازم ہے-
بہاول نگر میں قانون توڑ کر پولیس کو پھینٹا لگایا گیا، لیکن ہمارے لوگوں پر ظلم کرنے والے آئی جی اور وائسرائے نے پھینٹی لگانے والوں سے ہی معافی مانگ لی،
وائسرائے نے کہا کہ “یہ ہمارے بھائی ہیں”،
ایسا سلوک بھائیوں سے نہیں غلاموں سے کیا جاتا ہے،طاقتور نے پھینٹا بھی لگوایا اور معافی بھی منگوائی-
ہمارے لوگوں کو ضمنی الیکشن میں بھی روکا جا رہا
ہے-اس وقت ظلم کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے- ہمارے کارکنان نے ایک ایک ووٹ کی حفاظت کرنی ہے، ووٹ پر پہرہ دینا ہے-“