16 جون2022ء کی جس FIR میں ایم کیوایم کے بزرگ وکلاء ادریس علوی اورمحمدسلمان کوملوث کیا گیا اس FIRمیں PSP کے مصطفی کمال نامزد اور مفرور ہے
مگر
قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم وفاقی وزیر بنا پھر رہا ہے
کیا بدنیتی کےاس عمل سے پاکستان کا نام روشن
اور
ریاست،عدالت اورصحافت کی نیک نامی ہوگی؟
ایم کیوایم کی لیگل ایڈکمیٹی کے سینئرارکان ادریس علوی ایڈوکیٹ اورمحمدسلمان ایڈوکیٹ کوپولیس کی جانب سے ریمانڈ کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ادریس علوی ایڈوکیٹ نے جج سے کہاکہ مجھ پر یہ مقدمات سراسرجھوٹے ہیں، قتل کامقدمہ پی ایس پی اورٹی ایل پی کے درمیان جھگڑے کاہے،کورنگی ریلی کے جس مقدمے میں مجھے ملوث کیاگیاہے اس میں تومیں خود وکیل ہوں،مجھ پر یہ مقدمہ سراسر غلط ہے۔
ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کی جانب سے سندھ بار کے سابق صدرعامر نواز وڑائچ ایڈوکیٹ، حسیب پنہورایڈوکیٹ، رحمان کورائی ایڈوکیٹ، اکرم قریشی ایڈوکیٹ، سیدرحمت رحمانی ایڈوک��ٹ، فرح ایڈوکیٹ، فہد ایڈوکیٹ اورشاہ زیب ایڈوکیٹ بھی پیش ہوئے۔وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے اور 63 کی درخواست بھی جمع کروائی اس میٹر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے فوری طور پر ڈسچارج کیا جائے۔ایم کیوایم کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جھوٹا کیس ہے۔ مقدمہ جس واقعہ کے بارے میں ہے اس میں دو الگ جماعتوں ٹی ایل پی اور پی ایس پی کا جھگڑا ہے اوراس میں ان کے سربراہان نامزد ہیں جبکہ دوسری طرف ادریس علوی ایڈوکیٹ اور سلیمان ایڈوکیٹ کاتعلق جناب الطاف حسین کی زیرقیادت ایم کیو ایم سے ہے۔ان کا اس کیس سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لہٰذا ادریس علوی ایڈوکیٹ اور سلیمان ایڈوکیٹ ی�� مقدمہ خارج کیا جائے اور انہیں باعزت بری کیا جائے۔
سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر نے اپنے دلائل پیش کیے اور مزید ریمانڈ کی درخواست کی۔
جج سارہ جونیجو نے دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد سینئر ایڈوکیٹ محمد ادریس علوی اور محمد سلیمان ایڈوکیٹ کو جیل منتقل کرنے کاحکم دیا۔
یزیدی حکمرانوں کی بیعت کرنے سے انکار کر نے والے واجب سزا قرار دیے جارہے ہیں۔ الطاف حسین
ایم کیوایم کے بزرگ ادر��س علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کومزید تین جھوٹے مقدمات میں نامزد کرنا سراسرظلم ہے۔
ظلم وجبرکا پاکستان زندہ باد…۔۔
فرعونی طرزحکومت کا پاکستان زندہ باد
………………………………………………
پاکستان میں حق اورسچ کاعلم اٹھانے والوں اورظلم کوظلم کہنے اورحق اورسچ کے لئے آوازبلند کرنے والوں پریزیدی مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔آج پاکستان میں یزیدی دور حکومت میں عوام کااپنی جماعت سے وابستگی اوراس کایوم تاسیس بند کمروں میں منانا بھی جرم بنادیاہے، ایم کیوایم پر غیراعلانیہ پابندی ہے، جبروستم کی انتہا یہ ہے کہ ایم کیوایم کی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کوبندکمروں م��ں بھی منانا جرم ہوگیا ہے۔ APMSO کے 48 ویں یوم تاسیس پر کراچی کے ایک سینئر صحافی اوریوٹیوبر تحسین عباسی نے اپنے بچے کے کہنے پر اپنے پاکستان ٹائمز نیوز کے دفتر میں یوم تاسیس کاکیک کاٹنے کاپروگرام رکھا جہاں ایم کیوایم کےبزرگ کارکنان شریک ہوئے تو پولیس ورینجرزنے ان کے دفتر پر چھاپہ مارکر ان سب کوگرفتارکرلیا جن میں ایم کیوایم کے سینئروکیل اوربزرگ کارکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ، تحسین عباسی، ان کے 15سالہ بیٹے حسین علی اوردیگربزرگ شامل ہیں۔ان گرفتارشدگان پر دہشت گردی کامقدمہ بنادیا گیا، عدالت سے ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کی ضمانت پر رہائی ہوئی توان��یں دوبارہ گرفتارکرلیاگیا اور اب انہیں مزیدتین جھوٹے مقدمات میں بھی نامزدکردیا گیا ہے جوسراسر ظلم ہے۔ ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کوایک ایسے مقدمہ میں بھی نامزدکیاگیا جو 2022ء میں ٹی ایل پی اورپی ایس پی کے افراد کے درمیان فائرنگ کا تھاجس سے ہماری ایم کیوایم کا دور دورتک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کوایک ایسے مقدمہ میں بھی نامزد کیاگیا ہے جو 2023ء کا ہے اوروہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔یہ کیسا مذاق ہے؟ یہ سراسر ظلم ہے، یزیدیت ہے، جبروسفاکیت ہے جوآج ساڑھے 14 سوسال بعد بھی جاری ہے۔
پاکستان کو مسلمانوں کاملک کہا جاتا ہے لیکن کیاپاکستان کے حکمراں واقعی مسلمان ہیں؟کیاانہیں بے گناہوں پر ایک کے بعد دوسرا اوردوسرے کے بعد تیسراجھوٹامقدمہ بناتے ہوئے اوراپنے عوام پر اس طرح کے ظلم کرتے ہوئے کوئی شرم نہیں آتی؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام بھی یہ مظالم دیکھ رہے ہیں اور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جولوگ ان یزیدی حکمرانوں کی بیعت کرنے سے انکار کررہے ہیں وہ قابل گردن زنی اور واجب سزا قرار دیے جارہے ہیں۔ یہ پاکستان میں عوام پر کیسا ظلم ڈھایاجارہا ہے؟ اس پر یہی کہا جاسکتا ہےکہ ظلم وجبرکا پاکستان زندہ باد …… فرعونی طرزحکومت کا پاکستان زندہ باد ……ظالم، جابر، چور اچکے حکمرانوں کا پاکستان زندہ باد……ظالم حکمران��ں کی بیعت نہ کرنے والوں کوقیدوبند میں رکھنے والا پاکستان زندہ باد۔قوم کی بیٹی ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ کوعمرقید کی سزادینے والا پاکستان زندہ باد…… ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرنے پرایک سابق وزیراعظم عمران خان، کینسر سروائیور ڈاکٹریاسمین راشد اوردیگر رہنماؤں کوجھوٹے مقدمات میں قید کرنے والا پاکستان زندہ باد۔
یہ کیساظلم ہے کہ ملک میں جوبھی اپنا حق مانگ رہاہے، انصاف مانگ رہاہے اسے مزید ظلم وجبر کانشانہ بنایاجارہا ہے۔ بلوچوں، مہاجروں، پشتونوں پرظلم کیا گیا، کشمیری اپناحق مانگ رہے ہیں توفوج، پیراملٹری رینجرز، ایف سی اورپولیس کی جانب سے انہیں گولیاں ماری جار��ی ہیں، ریاستی مظالم کانشانہ بنایا جارہا ہے، کشمیری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔
بیرون ملک مقیم کشمیریوں، پی ٹی آئی کے کارکنوں اوردیگرسیاسی کارکنوں اور پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں کو چاہیےکہ وہ برطانیہ اورجہاں جہاں مقیم ہیں،انہیں ان زیادتیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرناچاہیے اوروہاں کے ارکان پارلیمنٹ کوان ظالمانہ واقعات سے آگاہ کرناچاہیے۔
جوسیاسی مخالفین اورنام نہاد اینکرز ملک سے باہر آکراپنے آپ کوپی ٹی آئی کاہمدرد قراردیتے ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی حالات کاتجزیہ کرتے ہوئے ایم کیوایم پر آج بھی الزام تراشی کرتے ہیں اورایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں پر جھوٹے مقدمات کو درست قراردیتے ہیں اوربہتان تراشی کرتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔
جب تک میرے جسم میں جان ہے، میں ظلم کوظلم کہتارہوں گا اورظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا، تمام پاکستانیوں کوبھی اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنی آواز اٹھاناچاہیے اور ظلم سے نجات کیلئےجدوجہد کرنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 422 ویں فکری نشست سے خطاب
27 جون 2026ء
https://t.co/m3Fen6F9z9
خصوصی عدالت کے حکم پر ادریس علوی ایڈوکیٹ اورمحمدسلیمان ایڈوکیٹ کو جیل منتقل کردیاگیا
مجھ پر مقدمات جھوٹے ہیں، قتل کامقدمہ پی ایس پی اورٹی ایل پی کے درمیان جھگڑے کاہے، کورنگی ریلی کی جس ایف آئی آر میں مجھے ملوث کیاگیامیں اس میں خود وکیل ہوں۔ ادریس علوی ایڈوکیٹ کا مؤقف
ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے فوری طور پر ڈسچارج کیا جائے،
عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاکی بڑی تعداد موجود تھی۔
لندن……27جون 2026ء
ایم کیوایم کی لیگل ایڈکمیٹی کے سینئرارکان ادریس علوی ایڈوکیٹ اورمحمدسلیمان ایڈوکیٹ کوپولیس کی جانب سے ریمانڈکے لئے انسداد دہشت گردی کی کورٹ نمبر پانچ کی جج سارہ جونیجو کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کی جانب سے سندھ بار کے سابق صدرعامر نواز وڑائچ ایڈوکیٹ، حسیب پنہورایڈوکیٹ، رحمان کورائی ایڈوکیٹ، اکرم قریشی ایڈوکیٹ، سیدرحمت رحمانی ایڈوکیٹ، فرح ایڈوکیٹ، فہد ایڈوکیٹ اورشاہ زیب ایڈوکیٹ بھی پیش ہوئے۔ وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے اور 63کی درخواست بھی جمع کروائی کہ ایف آئی آر نمبر 396/2022 سے ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے فوری طور پر ڈسچارج کیا جائے۔ایم کیوایم کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جھوٹا کیس ہے۔اس واقعہ کے بارے میں ہے اس میں دو الگ جماعتوں ٹی ایل پی اور پی ایس پی کا جھگڑا ہے اوراس میں ان کے سربراہان نامزد ہیں جبکہ دوسری طرف ادریس علوی ایڈوکیٹ اور سلیمان ایڈوکیٹ کاتعلق جناب الطاف حسین کی زیرقیادت ایم کیو ایم سے ہے لہٰذا ان کا اس کیس سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس ایف ائی ار میں نامزد ملزم مصطفی کمال جو کہ میڈیا پہ اور ہر جگہ موجود ہے مگر اسے گرفتار نہیں کیا گی�� جبکہ ایک بے گناہ سینئر اور بیمار وکیل کو اس جھوٹی ایف آئی آر میں بند کیا گیاہے لہٰذا ادریس علوی ایڈوکیٹ اور سلیمان ایڈوکیٹ یہ مقدمہ خارج کیا جائے اور انہیں باعزت بری کیا جائے۔
اس موقع پر ادریس علوی ایڈوکیٹ نے اپنے خلاف قائم مقدمات کے بارے میں اپنامؤقف پیش کرتے ہوئے جج سے کہاکہ مجھ پر یہ مقدمات سراسرجھوٹے ہیں، قتل کامقدمہ پی ایس پی اورٹی ایل پی کے درمیان جھگڑے کاہے، کورنگی ریلی کی جس ایف آئی آر 795/2023 میں مجھے ملوث کیاگیا اس میں تومیں خود وکیل ہوں، مجھ پر یہ مقدمہ سراسر غلط ہے۔
پروسیکیوشن کی جانب سے آئی او کے ساتھ سرکاری وکیل ایڈوکیٹ کامران پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل پیش کیے۔ پروسیکیوشن کے وکیل اور تفتیشی افسر نے اپنے دلائل پیش کیے اور مزید ریمانڈ کی درخواست کی۔ جج سارہ جونیجو نے دونوں پارٹیوں کے دلائل سننے اور مکمل فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد سینئر ایڈوکیٹ محمد ادریس علوی اور محمد سلیمان ایڈوکیٹ کو جیل منتقل کرنے کاحکم دیا۔ زمان ٹان اور عوامی کالونی کی پولیس دیگرمقدمات میں ریمانڈ کے لئے سٹی کورٹ پہنچے کیونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا اور تمام کورٹس بند ہو چکی تھیں لہٰذا ریمانڈ پیش نہیں کرایا جا سکا اورجج کے آرڈر کے مطابق دونوں سینئر وکلا کو جیل کسٹڈی کر دیاگیا۔
عدالت میں سماعت کے موقع پر عامر نواز وڑائچ ایڈوکیٹ، حسیب پنہورایڈوکیٹ، رحمان کورائی ایڈوکیٹ، اکرم قریشی ایڈوکیٹ، سیدرحمت رحمانی ایڈوکیٹ، فرح ایڈوکیٹ، فہد ایڈوکیٹ اورشاہ زیب ایڈوکیٹ،کراچی بار کے سابقہ صدر نعیم قریشی اور سینیئر ایڈوکیٹ اصغر علی پٹھان، شکیل احمد اور دیگر وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔
@AltafHussain_90 آداب بھائ،
یومِ عاشور ہمیں حق، صبر، قربانی اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق پر قائم رہنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آداب قائدِ محترم،
یومِ عاشور کے حوالے سے آپ کا فکر انگیز اور بصیرت افروز پیغام غور سے سنا۔ آپ نے واقعۂ کربلا کے اصل فلسفے، اہلِ بیتِ اطہارؑ کی عظی�� قربانیوں اور حق و باطل کی دائمی کشمکش کو جس انداز میں بیان کیا، وہ ہر حق پرست انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
بلاشبہ واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظلم، جبر اور باطل قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے حق و صداقت پر ثابت قدم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ ہمیں ہر دور میں اہلِ بیتؑ کی قربانیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی توفیق مانگنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، سلامتی، درازیٔ عمر اور مزید قوت عطا فرمائے تاکہ آپ اسی طرح قوم کی فکری رہنمائی کرتے رہیں۔ آمین۔
@AltafHussain_90 Adaab arz Bhai
You have always followed the path of Imam Hussain, teaching and inspiring everyone to uphold righteousness, truth, justice, and unwavering moral courage.
@AltafHussain_90 آداب
قائد محترم
بیشک صحیح فرمایا
بانی و قائد محترم جناب الطاف حسین بھائی کا یوم عاشور کے موقع پر تازہ ترین بیان 👇🏽👇🏽👇🏽
یوم عاشور کا پیغام رہتی دنیا تک کے حق پرست لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوم عاشور کا پیغام رہتی دنیا تک کے حق پرست لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوم عاشورکربلا کے میدان میں ظالم وسفاک حکمراں یزید ملعون بیعت کرنے کے بجائے حق وصداقت کاعلم بلندکرکے جام شہادت نوش کرنے والوں کا دن ہے۔
بعض نام نہاد علماء کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ واقعہ کربلا حق وباطل کے درمیان معرکہ نہیں بلکہ حضرت امام حسین ؑ اوریزید ملعون کے درمیان اقتدارکی جنگ تھی۔ ایسی سوچ وفکر رکھنے والوں پر صرف افسوس ہی کیاجاسکتا ہے۔ مہذب معاشرے میں دلیل کے ساتھ اختلاف رائے رکھی جاتی ہے لیکن ایک فقہ کے لوگ دوسرے فقہ کے لوگوں سے نفرت میں اتنی اخلاقی پستی میں گرجاتے ہیں کہ وہ محرم الحرام کے تقدس کو فراموش کردیتے ہیں۔
واقعہ کربلا کی تاریخ یہ ہے کہ ایک طرف نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی اولاد تھی اوردوسری طرف طاقت کے نشے میں چوریزید ملعون اور اس کی فوج تھی، یزیدملعون کا رسول خداؐ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن پھربھی بعض علماء اہل تشیع سے عداوت میں اتنے آگے بڑ ھ کر ظالم یزید کے ظالمانہ عمل کی پردہ پوشی کا گھناؤنا عمل کرتے ہیں۔
آج سے تقریباً ساڑھے14 سوسال قبل جب اہل بیت ؑ، اولاد رسولؐ جن میں پاک بیبیاں اورشیرخوارمعصوم بچے بھی شامل تھے، امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی قیادت میں کربلائے معلی پہنچے تو ان کے سامنے یزید ملعون کے ہزاروں فوجیوں کا لشکرتھاجویزید ملعون کے ہاتھوں بیعت کرانا چاہتا تھالیکن حضرت امام حسین ؑ اوران کے رفقاء نے ظالم اورسفاک یزید کی بیعت سے صاف انکارکردیا۔
واقعہ کربلا آسمانوں پر لکھاجاچکا ہے،واقعہ کربلا میں اولاد رسولؐ کی لازوال قربانی نے تاقیامت لوگوں کو یہ پیغام دیاہے کہ حق وسچ کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہوجاؤ، ظالم حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرو اور حق وصداقت کی راہ میں گردن کٹانی پڑجائے تو اپنی گردن کٹادو لیکن باطل قوت کے آگے اپنا سرہرگز نہ جھکاؤ۔ اسی لئے واقعہ کربلا کو حق وباطل کے درمیان معرکہ کہاجاتا ہے۔
آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ دو ارب ہے لیکن کتنے مسلمان واقعہ کربلا کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں؟ آج بھی بعض لوگ عوامی اجتماعات میں جہالت کامظاہرہ کرتے ہوئے یزید ملعون کو (نعوذباللہ) اچھے الفاظ سے یادکرتے ہیں۔درحقیقت واقعہ کربلا ظالم اورمظلوم میں تفریق کرتا ہے اور درس دیتاہے کہ کسی ظالم وجابر حکمراں کی اطاعت کرنے کے بجائے اس کے سامنے ڈٹ جاؤ کہ ہم باطل حکمرانوں کی بیعت نہیں کریں گے۔
قیام پاکستان کو 79 سال گزرچکے ہیں لیکن کیاپاکستان کے عوام نے واقعہ کربلا سے کوئی سبق سیکھا؟
آج پاکستان میں حق اورسچ بولنے والوں کویزیدی مظالم کاسامنا ہے۔سچ اور حق بولنے کی پاداش میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اوران کی بہنوں پر جھوٹے، من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے،عمران خان اور ان کے ساتھی گزشتہ تین برسوں سے جیلوں میں قید ہیں،پاکستان کے عوام کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے پھر آج تک پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان کی رہائی کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کیوں ن��یں بناسکی؟
یوم عاشور کا پیغام رہتی دنیا تک کے حق پرست لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے، یوم عاشور کا تقاضا ہے کہ اہلِ بیت اطہار کی زندگی اور قربانیوں کا جائزہ لیاجائے اور پاکستان کے عوام اپنا احتساب کریں کہ کیا ہم اہلِ بیت اور کربلا کے شہیدوں کی قربانیوں کوسامنے رکھ کرظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا حق ادا کررہے ہیں یا نہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 422 ویں فکری نشست سے خطاب
26، جون 2026ء