اللّه نہ کرے وہ حسینؑ ہو
آپ کا بھی تو کوئی عشق ہو گا جسے آپ روز یاد کرتے ہوں گے۔ جس کے لیے تڑپتے ہوں گے۔روتے ہوں گے۔ خاموش رہتے ہوں گے۔اس کی تکلیف، اس کا درد آپ کی روح زخمی کر دیتا ہو گا۔آپ اپنی تمام تر جوانی اور مضبوطی کے باوجود اس کے دکھ پہ تڑپ جاتے ہوں گے۔
سنبھلنا مشکل ہوتا ہو گا۔دل درد سے بھر جاتا ہو گا۔آپ کو بھی کسی پیارے کی تکلیف کا ایک ایک لمحہ بے چین رکھتا ہو گا۔آپ کو اس سے بڑا پیار ہو گا۔آپ اس کے لئے دعائیں کرتے ہوں گے۔
اللّه نہ کرے آپ کا عشق ہزاروں کی فوج کے گھیرے میں بے بس و لاچار ہو۔اللّه نہ کرے اسے کوئی پانی پلانے والا نہ ہو، اللّه نہ کرے اس کی آواز پہ کوئی لبیک کہنے والا نہ بچے،اللّه نہ کرے اسے بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں اور ساتھیوں کی لاشیں خود اٹھانا پڑیں۔
اللّه نہ کرے وہ جنگ پہ جاۓ تو بیٹے کی لاش دفن کر کے جاۓ۔ اللہ نہ کرے اسے گھر کی عورتیں جنگی سامان پہنائیں۔اللّه نہ کرے وہ مدد کے لیے صدائیں دیتا رہ جاۓ۔ اللّه نہ کرے وہ پیاسا ہو اور میدان جنگ میں ہو۔
اللّه نہ کرے کہ وہ اس قدر زخمی ہو جاۓ کہ اس کا جسم گھوڑے اور تیروں کے درمیان اٹک جاۓ۔اللّه نہ کرے اس کی بہنیں ، بیٹیاں اسے ذبح ہوتے ہوئے دیکھیں۔
اللّه نہ کرے اسے تمام تر الہی ثبوتوں کے باوجود باغی قرار دے کر مار دیا جاۓ۔اللّه نہ کرے اس کے قتل کو دین سمجھ لیا جاۓ۔
اللّه نہ کرے مال غنیمت کی پہلی لٹ اس کی لاش پہ مچائی جاۓ۔اللّه نہ کرے سجدے میں اس کا سر اتار لیا جاۓ۔اللّه نہ کرے اس کے قتل پہ جشن منایا جاۓ۔اللّه نہ کرے اس کی لاش پہ گھوڑے دوڑائے جائیں۔ اللّه نہ کرے ویرانے میں اس کا جسد چھوڑ دیا جاۓ۔ اللّه نہ کرے اس کے قتل پہ انعام لیا جاۓ۔
اللّه نہ کرے اس کی بہن کا نام زینب ہو، اللّه نہ کرے اس کے بھائی کا نام عبّاس ہو۔ اللّه نہ کرے اس کے بیٹے کا نام علی اکبر ہو۔اللّه نہ کرے وہ علی کا بیٹا ہو۔ اللّه نہ کرے وہ رسول خدا کا نواسہ ہو۔
اللّه نہ کرے۔ اللّه نہ کرے، اللّه نہ کرے۔ اللّه نہ کرے وہ حسینؑ ہو۔
ناصر ادیب
خواتین و حضرات، مومنین کرام،
جناب جینز کری ممنوع نے حضرت علی اور اے آئی یعنی آرٹیفیشئل انٹیلجنس کے درمیان بدو بدی کا کمپیٹیشن یعنی مقابلہ پیدا کر دیا ہے۔
اور دنیا کو چیلنج کر دیا ہے کہ تمہارے پاس اے آئی ہے اور ہمارے پاس علی ہیں۔
بھاگ لگے رہن ، مولا خوش رکھے
ہمارے دیہاتوں میں چموٹے والے لوگ چودھری کی خیر مانگتے ہیں۔فنکار لوگ ہوتے ہیں۔زبان دا کھٹیا کھاندے نے۔اللہ نے ان کا رزق لگا رکھا ہے۔اور چودھری اپنی جے جے کار کے چکر میں تھوڑا بہت نواز بھی دیتا ہے۔
ناصر ادیب
بلھے شاہ کے کلام کا ایک مصرعہ ہے
بلھے شاہ اسمانی اڈدیاں پھڑداں ایں، جیہڑا گھر بیٹھا اونوں پھڑیا ای نہیں
ہم بین الاقوامی ثالث ہیں۔ تیسری عالمی جنگ رکوا رہے ہیں۔ کبھی امریکہ کبھی ایران جا رہے ہیں۔دنیا بھر کے میڈیا میں ہماری خبریں ہیں۔ہر طرف پاکستان پاکستان ہو رہی ہے۔
مگراپنے گھر میں آگ لگی ہے۔ ہمارے مظلوم اور معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں۔ایک پورا علاقہ مسلسل آگ کی لپیٹ میں ہے۔اپنے گھروں کو جاتے پردیسی شہید ہو رہے ہیں۔
نقصان پہ نقصان ہو رہا ہے۔اتنے لوگ تو ملکوں کی جنگوں میں جان سے نہیں جاتے جتنے ہم ہر سال بغیر جنگ کے گنواتے ہیں۔ یہ خبریں اب زیادہ پریشان کرتی ہیں جب ان کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا۔ وزیر داخلہ اور وزیر اعلی کی گھسی پٹی پریس کانفرنس سے کسی کو کوئی تسلی نہیں ہوتی۔ان کو چاہئے کہ حادثہ کے فورا بعد ٹی وی پہ نہ آیا کریں۔اچھا نہیں لگتا
ناصر ادیب
شکل مومناں، کرتوت چدھڑاں
مومنہ اور چدھڑ کیس خیر سے قومی مسلہ بن گیا ہے۔ہم بھی ویلے لوگ ہیں۔ نہ تو مومنہ کوئی مونیکا لیونسکی اور نہ ہی چدھڑ کوئی بل کلنٹن ہے کہ اس معاملے کو لازمی ڈسکس کرنا ہے( بچے اس سکینڈل کو گوگل کر لیں) ۔کوئی اخلاقیات کا تڑکا لگا رہا ہے کوئی سیکس کا۔کوئی بے نکاحے تعلق کی پھوڑی بچھا کے بیٹھا ہے اور کوئی ایک تازے تازے امیر کے مغلائی شوق دیکھ کر حیران ہے۔ بے فن اداکارہ اور ان پڑھ بے ووٹے ایم پی اے سے آپ کو کیا کیا امیدیں تھیں۔ اور کیسی کیسی امیدیں تھیں۔ سبحان اللہ۔
حقیقت تو یہ کہ انتہائی ذاتی اور قربت کے تعلقات کا انہی دو لوگوں کے علاوہ کسی کو ککھ پتہ نہیں ہوتا۔ باقی سب اندازے لگا رہے ہوتے ہیں۔اور جو باتیں وہ دو لوگ پبلک میں بتا رہے ہوتے ہیں وہ نوے فیصد جھوٹ ہوتی ہیں۔ کیونکہ سچ بتائے جانے کے قابل نہیں ہوتے۔ویسے وہ دو لوگ جو اپنے قربت کے تعلقات کی حیا خود نہیں کر رہے آپ ان کو ڈسکس کر رہے ہیں۔مولا کسے کم لائے تہانوں۔
بجٹ آرہا ہے۔مہنگائی جیب کے اندر سے نیچے گر رہی ہے۔بے روزگاری سے نوجوان خودکشیاں کر رہے ہیں۔حکومت نے اپنے سینے والا پتھر عوام کے سر میں مار دیا ہے اور ہمیں فکر ہے کہ کون کس کے ساتھ سو رہا ہے۔ کہاں گھوم رہا ہے اور کتنی راتیں ایک ساتھ گزار چکے ہیں۔ پلے نیں تیلا تے کردی میلہ میلہ۔
ناصر ادیب
سلمان،شاہین،شان اور محسن نقوی
آپ پاکستان کرکٹ کے ان عظیم دماغوں اور ان کی کرکٹنگ سینس کا اندازہ کیجئے جن کو لگتا ہے کہ یہ تینوں نمونے اپنے اپنے فارمیٹ کے بہترین لوگ ہیں اور ان کو کپتان ہونا چاہئے۔جبکہ ان تینوں کی ہی اپنی اپنی ٹیم میں بطور بارہواں کھلاڑی بھی جگہ نہیں بنتی۔
سلمان علی آغا سے پہلے پاکستان کی ٹی ٹوینٹی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔اب ہم خیر سے پہلے مرحلے میں ہی چیونگم چباتے باہر نکل جاتے ہیں۔
شاہین سے پہلے ہم ہارے ہوئے ون ڈے میچ بھی جیت جاتے تھے۔شاہین کے کپتان بننے کے بعد ہم جیتے ہوئے میچ بھی آرام سے ہار جاتے ہیں۔شان مسعود سے پہلے ہم انڈیا کو بھی ٹیسٹ میچ ہرا دیتے تھے۔اب ہم بنگلہ دیش سے کلین سویپ ہو جاتے ہیں۔
ان تینوں کو کرکٹ اور کپتانی کی اتنی ہی سینس ہے جتنی محسن نقوی کو سیاست اور کرکٹ بورڈ کی۔
ناصر ادیب
ایک بار پھر حدیقہ کیانی۔
آپ رعایت اللہ فاروقی ہیں یا طاہرہ کاظمی، آپ دانشور ہیں یا دانشوڑ،
آپ بہت عقلمند ہیں یا بہت عقل بند،آپ کو مذہب گوڈے گوڈے چڑھا ہوا ہے یا آپ آزاد خیالی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔آپ کو سب جانتے ہیں یا آپ کو کوئی نہیں جانتا،آپ مذہب کے چکر میں سب کو لپیٹ رہے ہیں یا روشن خیالی کی وجہ آپ کو باقی سب بیوقوف لگتے ہیں۔
آپ جو بھی ہیں، جیسے بھی ہیں، جس وجہ سے بھی،خدارا حدیقہ کیانی کو معاف کر دیں۔
ایک مہا پرش کو اس کے جسم میں کچھ نظر نہیں آرہا، ایک آزاد خیال اس کے جواب میں مردوں کی ٹائمنگ تک گننے پہ آگئی ہے۔
ایک کو حدیقہ میں بیش بہا ٹیلنٹ اور انسانیت ہونے کے باوجود " عورت" ہونے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔اور ایک کو لگا کہ مردوں کے مخصوص اعضاء پہ لکھنا ہی حدیقہ کیانی کا بہترین دفاع ہے۔
یعنی دو انتہاوں پہ چولیں ماری جا رہی ہیں۔ اور دونوں گندی اور غلیظ انتہائیں۔ان دانشوروں کے ذہنوں کی طرح۔
اپنے اپنے گندے دماغوں کے کوڑادان اس لڑکی پہ مت الٹاو،بلکہ اپنے گٹروں میں خود ہی چھلانگ لگا دو اور ضائع ہو جاو تا کہ حدیقہ جیسے لوگ معاشرے میں سکون سے کام کر سکیں۔
ناصر ادیب
حدیقہ کیانی ۔ تمغہ امتیاز
اسسٹنٹ کمشنروں،جواد احمدوں، اقرارالحسنوں،نبییہ خانوں،عائشہ ثناوں،انمول پنکیوں کے پاکستان میں ایک روح حدیقہ کیانی کی بھی ہے۔جو اس حبس زدہ ماحول تازہ اور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ جس کے ہونے سے لگتا ہے کہ شکر ہے کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ اچھا ہے۔
میوزک سے لے کر فلاحی کاموں تک نہ کوئی پبلسٹی سنٹٹ نہ شہرت کی طلب۔نہ پاڈکاسٹ نہ مارننگ شوز میں عجیب و غریب حرکتیں۔نہ لچر گانے نہ گھٹیا ریلیں۔ بس کام اور ٹیلنٹ ۔ سلجھا ہوا رویہ اور جی دار انداز۔
یہ ایک ایسا تمغہ امتیاز تھا جس سے یہ بے وقعت تمغہ بھی ممتاز ہو گیا۔
ناصر ادیب
مجھے اس اے سی کی لیڈی ڈاکٹر سے بدتمیزی کا ذرا کم دکھ ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ یہ سب چند ایک کو چھوڑ کر ازلوں اور اصلوں ہی بدتمیز ہوتے ہیں۔
میں کام اور روزی روٹی چونکہ میڈیا ہے تو میں مائیک اور کیمرہ کو مقدس آلات سمجھتا ہوں۔ اس نے کیمرہ اور مائیک کی بے حرمتی کی ہے۔
آپ ذرا اس کی ذہنی صلاحیت کا اندازہ کئجیے کہ یہ بندہ گھر سے کیمرہ اور مائیک لے کے چلا تھا۔اس کا مطلب بدتمیزی کا ذہن بھی پہلے ہی بنا چکا تھا۔اور اسے ریکارڈ کرنے کا بھی۔سبحان اللہ۔
یہ حالات ہیں کریم کے جس کا یونیورسٹی کی ڈگری، سی ایس ایس کے امتحان اور اکیڈمی کی ٹریننگ نے بھی کچھ نہ بگاڑا۔
سخت گرمی میں کوٹ پہن کے مائیک لگا کے دماغ بند کر کے آجاتے ہیں۔نہ بولنے کی تمیز نہ سوشل سینس۔نہ عوامی مقام پہ بی ہیو کرنے کی ٹریننگ۔بس دماغ میں افسری اور گوڈوں میں عقل۔
ناصر ادیب
اچھا سنیں ۔۔۔
میرا نام ناصر ادیب ہے
میں پاکستانی ہوں۔میرا ملک چودہ اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا۔میں حال ہی میں ایک جنگ جیتنے اور ایک ایک عالمی جنگ رکوانے والے ملک کا باشندہ ہوں۔
میں حکومت پاکستان کو تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہر آئٹم پہ ٹیکس بھی دیتا ہوں ۔ لاہور کے ایک بڑے کالج میں میڈیا اسٹڈیز پڑھا رہا ہوں۔اسسٹنٹ پروفیسر ہوں ۔ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہوں۔ بارہ سال سے سروس میں ہوں۔دو بار پنجاب پبلک سروس کمیشن پاس کر چکا ہوں۔ گریڈ اٹھارہ میں ہوں۔ہزاروں سٹوڈنٹس کو پڑھا چکا ہوں ۔
میری ایجوکیشن سے سلیکشن اور پھر سروس تک کے دوران آئی ایم ایف کا کوئی رول نہ تھا۔
لیکن میری تنخواہ میں اضافہ ہو گا یا نہیں اس کا فیصلہ آئی ایم ایف کرے گا۔ اور حکومت پاکستان میرے حقوق سرنڈر کر دے گی۔ اس سے بہتر ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی کالونی قرار دے دیا جاۓ تا کہ میں پھر اپنی سروسز کی آئی ایم ایف سے ڈیل کرسکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد 😭
ناصر ادیب
پچھلے سال کسی نے پاکستان کی پچانوے فیصد عورتوں کو " جاہل" کہا تھا تو ہم سے اپنی اماں کے دفاع میں یہ تحریر سرزد ہوئی تھی۔ ماؤں کے عالمی دن پہ ہماری محبتی ماؤں کے نام 🌹❤️
کیا میری " اماں" جاہل ہیں ؟
میری اماں نوے سال کی سادہ لوح دیہاتی بزرگ خاتون ہیں۔وہ کبھی سکول نہیں گئی ہیں۔پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔پنجابی کے علاوہ کوئی زبان نہیں آتی۔ اب میرے ساتھ لاہور میں رہتی ہیں مگر ساری زندگی دیہات میں گزری ہے۔دیہات بھی وہ جہاں بجلی اور انٹرنیٹ سارے پاکستان کے بعد آیا ہے۔
انہیں پچانوے فیصد جدید چیزوں کے نہ ہی نام پتہ ہیں اور نہ ہی کانسپٹ ۔طاغوت کا کبھی سنا بھی نہیں ہو گا ۔
مگر سیانی بہت ہیں۔میرے دونوں بچوں کو بڑا انہوں نے کیا ہے۔محبت میں گندھی ہوئی ہیں ، ہر شخص سے بے شمار شفقت سے پیش آتی ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ اللّه کی رحمت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔انہیں ہر بات پہ خدا یاد آتا ہے ۔فرج کا ٹھنڈا پانی بھی پئیں تو یا اللّه تیرا شکر ہے۔رشتے دار کو گھر بیٹھے دعائیں دیتی ہیں۔کبھی کسی کا نہ برا سوچا نہ کیا۔کوئی کسی پہ اعتراض کرے تو فورا کہہ دیں گی " پتر کوئی گل نیں بندیاں کولوں غلطی ہو جاندی اے، رب نہ بن جایا کرو تسی"
ہر کوئی ان کی عزت کرتا ہے،وہ سینکڑوں لوگوں کی بھابھی ، تائی،چاچی،پھوپھو،دادی،نانی،خالہ وغیرہ ہیں۔ہر کوئی ان سے خوش ہے۔ان سے مل کر راضی ہوتا ہے۔
میں اپنی بظاہر "ان پڑھ" ماں کا "پروفیسر" بیٹا ہوں۔میڈیا پڑھ رکھا ہے ۔لکھتا بھی ہوں ۔چار لوگ جانتے بھی ہیں۔ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہوں۔مگر اپنی زندگی بلکہ روزمره کے ہر معاملے میں ان سے بات کرتا ہوں۔معاملہ ان کے علم میں نہ بھی مشورہ ضرور کرتا ہوں۔شیئرنگ ضرور کرتا ہوں۔ وہ آگے سے معاملہ اللّه کے حوالے کر دیتی ہیں۔ ۔۔۔
مجھے کسی کا نام نہیں لینا مگر یہ ضرور پوچھنا ہے کہ جب تم گلا پھاڑ کے کسی کو بھی اور خاص طور پہ عورتوں کو "جاہل" کہہ دیتے ہو تو میری اماں جیسی روح جو پاکستان کے ہر گھر میں کسی نہ کسی رنگ میں روپ میں موجود ہے ۔ان کا کیا وجود باقی رہ جاتا ہے۔
اور اگر تم میری بلکہ ہماری ایسی اللّه پرست ماؤں کو "جاہل"کہو گے تو میں تو بیٹا تمہیں گھر تک چھوڑ کے آؤں گا ۔کیوں کہ میری اماں کو نہ سہی مجھے تو پتہ ہے نا کہ تم کتنے "پڑھے لکھے"ہو ۔
ناصر ادیب
پورے ملک میں گرمیاں آ گئی ہیں ۔لوگ ہلکے پھلکے کاٹن کے کپڑے پہن رہے ہیں۔ مگر ملک بھی کی عدالتوں اور کچہریوں میں ابھی تک شدید سردیوں کاموسم چل رہا ہے ۔ان کا دسمبر جنوری نہیں ختم ہوتا۔
یونیفارم کا احترام بجا مگر میں نے ایک وکیل صاحب سے کہا کہ
سر جب آپ سڑک پہ ہوتے ہیں یا بائیک پہ ہوتے ہیں یا پھٹے پہ بیٹھے ہوتے ہیں تو کوٹ اتار کے ہاتھ میں پکڑ لیا کریں ۔سٹائل بھی بن جاتا ہے ، بندہ ہیرو بھی لگتا ہے اور گرمی سے بھی بچت ہو جاتی ہے ۔جب عدالت میں حاضر ہوں تو دوبارہ پہن لیں۔ پر نہ جی اسی تے سارا مال روڈ پینٹ کوٹ وچ ای پھرنا اے ۔
یہ ہی حال بیوروکریٹس کا ہوتا ہے۔کن پٹیوں سے پسینہ بہہ رہا ہوتا ہے مگر پینٹ کوٹ توں بھیڑے نیں پیندے۔
بھئی بس کر دیو ضروری نہیں بندہ پینٹ کوٹ میں ہی زیادہ ہینڈسم اور بارعب لگتا ہے ۔موسم کے اعتبار سے کپڑے پہنیں یا کم ازکم سردیوں گرمیوں کے الگ الگ official attire رکھ لیں ۔
مرو تہانوں لوے مولا کدھرے عوام تے رعب پان دے چکر وچ کوئی شے نہ گال لیو یا پت نہ کڈا لیو ۔۔۔🙏🏻🙏🏻
ناصر ادیب
"افسران کی بیویوں کی محفل میں کسی میڈم نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا ذکر کیا اور سائنس کے شعبہ میں ان کی خدمات کا تذکرہ کیا، ایک افسر کی بیوی نے نہایت انہماک سے سننے کے بعد کچھ یوں اپنی مایوسی کا اظہار کیا کہ:
اچھا اگر اتنا ہی لائق اور قابل تھا تو اس نے CSS کیوں نہیں کیا؟"۔۔۔۔ہیں۔۔۔؟