بیوی کو 120 مردوں کیساتھ جنسی تعلق پر مجبور کرنے والے شوہر کو قید کی سزا
ملزم اپنی بیوی کو قابو میں رکھنے کیلیے زندہ جلانے کی دھمکی دیتا، منشیات استعمال کراتا اور کیمروں سے نگرانی کرتا تھا
سویڈن کی ایک عدالت نے اپنی بیوی کو دھمکیوں، تشدد اور کڑی نگرانی کے ذریعے 120 سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنے والے 61 سالہ شوہر کو قید کی سزا سنا دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سویڈن کے مشرقی ساحلی شہر ہارنوسینڈ کی ضلعی عدالت نے ملزم کو اقدامِ زیادتی، جبراً جنسی خدمات کی فراہمی، تشدد اور غیر قانونی دھمکیوں سمیت متعدد جرائم میں مجرم قرار دیدیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2022 سے اپنی اہلیہ کو زبردستی مختلف مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کیا۔ یہ مرد ملک بھر سے ان کے کرمفورس میں واقع ایک ویران فارم ہاؤس پر آتے تھے اور اس کے عوض رقم ادا کرتے تھے۔
یہ معاملہ اکتوبر 2025 تک جاری رہا جب خاتون گھر میں لگے کیمروں سے آنکھ بچا کر کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں اور تھانے پہنچ کر پولیس میں شکایت درج کرا دی۔
سرکاری نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کے مطابق خاتون کو معلوم تھا کہ گھر میں کیمرے کہاں نصب ہیں چنانچہ وہ ایک ایسے حصے سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں جہاں کیمروں کی نگرانی نہیں تھی اور وہاں سے پولیس کو اطلاع دی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنی بیوی کو قابو میں رکھنے کے لیے منشیات استعمال کراتا، گھر میں نصب سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے اس کی نگرانی کرتا اور اسے قتل، زندہ جلانے، جسم پر پٹرول چھڑکنے اور انگلیاں کاٹنے جیسی سنگین دھمکیاں دیتا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے بے رحمی سے اپنی بیوی کا استحصال کیا اور اسے نہ صرف مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات پر مجبور کیا بلکہ آن لائن جنسی مواد نشر کرنے، مزید گاہک حاصل کرنے اور یہاں تک کہ پڑوسیوں اور گاہکوں کو بھی اس کے ساتھ جنسی تعلقات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے اپنی بیوی کی جنسی خدمات فروخت کرنے کا منصوبہ خود بنایا اور اس پورے کاروبار کا زیادہ تر انتظام بھی وہی کرتا تھا۔
اگرچہ استغاثہ نے ملزم پر زیادتی کے آٹھ الزامات بھی عائد کیے تھے تاہم عدالت نے ثبوت ناکافی ہونے کی بنیاد پر یہ الزامات مسترد کر دیے۔ البتہ ایک مقدمے میں اقدامِ زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔
عدالت نے چار سال پانچ ماہ قید کے علاوہ ملزم کو حکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو دو لاکھ سویڈش کرونا بطور ہرجانہ ادا کرے۔
تحقیقات کے دوران حکام نے 120 ایسے مردوں کی نشاندہی کی جنہوں نے خاتون سے جنسی خدمات حاصل کی تھیں تاہم صرف 29 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ ان میں سے 28 کو مجموعی طور پر 56 مرتبہ جنسی خدمات خریدنے کا مجرم قرار دیا گیا۔
ان مجرموں میں سے دو کو قید کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر کو معطل سزا یا پروبیشن پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
یاد رہے کہ فرانس میں بھی ایسا ہی ایک ہولناک کیس سامنا آیا تھا جب شوہر نے برسوں تک اپنی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر 70 سے زائد اجنبیوں کے ساتھ زیادتی کروائی تھی۔
@benbybit@xStocksFi@krakenfx The @Bybit_Official p2p team had cancelled my my order despite i paid seller. Protect a scammer. And her is the proof where seller admit that he is a scammer.
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
پچھلے ایک سال میں دُنیا بدل گئی؟
۱- پاک بھارت جنگ میں بھارت کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جنگ کے بعد بھارت خوف کی ٹرافی گھر لیکر گیا، اور آجتک بھارتی افواج اس صدمے سے باہر نکل نہیں پائیں
۲- ایران امریکہ/اسرائیل جنگ میں پہلی دفعہ امریکہ اور اسرائیل نے ملکر پوری قوت سے ایران پر حملہ کیا، اسرائیل اور امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور دونوں خوف کی ٹرافی گھر لیکر گئے، امریکہ اور اسرائیل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آ سکے
۳- دونوں جنگوں کے پیچھے چینی ٹیکنالوجی اور مدد تھی، چین نے ایک گولی چلاۓ بغیر اپنے دو دشمنوں بھارت اور امریکہ کو شکست دے دی
۴- پاک بھارت جنگ کے بعد مودی بھاگا بھاگا چین گیا، چین کی تعریفوں کے پُل باندھے، اصل میں منت کی، کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم نا کریں
۵- ایران امریکہ جنگ کے بعد ٹرمپ بھاگا بھاگا چین گیا، چین کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے، اصل میں منت کی کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم نا کریں
۶- امریکہ دورہ امریکی کاروباری افراد کا بزنس مین ٹرمپ کی سرپرستی میں دورہ تھا، سب مستقبل میں اپنے اپنے کاروبار کو چین سے جُڑنے گئے تھی، اصل میں منت کی، ہمارا خیال رکھیے گا
۷- ٹرمپ کا دورہ چین، ایران کی فتح کا بھی غیر سرکاری اعلان تھا
۸- چین، ایران، پاکستان نے ملکر وہ کھیل کھیلا کہ دُنیا میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی بدمعاشی کا اختتام ہو گیا
۹- اگلا قدم ایران، پاکستان، وسطی ایشائ ریاستیں، روس اور چین کا تجارتی اور فوجی اتحاد ہوگا
۱۰- ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد یورپ کو مکمل یقین آ گیا کہ ہماری بقا چین کے ساتھ ہے، امریکہ اب ایک بھولی ہوئ داستان ہے،
۱۱- ایلون مسک تو اپنے چھ سال کے بیٹے کو چین لے گیا اور بچے کا چینی زبان سیکھنے کا مظاہرہ بھی کیا، بتانا یہ مقصد تھا کہ ایلون مسک بھی چین کی طرف دیکھ رہا ہے
۱۲- جو والدین اپنے بچوں کو چین زبان سیکھنے پر لگائیں گے وہ سب سے اچھا کام کریں گے، دُنیا کا انگلش سے چینی زبان کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
میری سمجھ سے باہر ہے کہ جو شخص بھی بغض عمران کا شکار ہو کر پبلک میں اول فول بولتا ہے، یا عمران خان کو دھوکہ دیتا ہے، قدرت اُسے بار بار ذلیل کرتی ہے، مجھے اس phenomenon کی سمجھ نہیں آ رہی جو تسلسل سے دہائیوں سے جاری ہے،
کسی نے عزت ایکدن میں گنوانی ہو، عمران خان کے خلاف کوئ اول فول بول کے دکھاۓ، منی بیک گارنٹی، بندہ ذلیل نا ہوۓ تو پیسے واپس
کیا یہ کوئ ٹیکنولوجیا ہے؟ جو ہماری سمجھ سے باہر ہے؟
“I am deeply saddened to hear about the passing of Lady Annabel Goldsmith. My family shared this heartbreaking news with me today while I am in prison.
Annabel was a wonderful grandmother to my sons and an exceptionally kind and compassionate person. During my visits to London, I would stay with her along with my sons. She became like a mother to me, especially after losing my own mother in 1985.
Her passing is a profound loss. My heartfelt thoughts are with all her children and grandchildren. She will be dearly missed by all of us. If I were not in prison, I would have attended her funeral along with my sons, Sulaiman and Kasim”
Illegaly incarcerated Imran Khan's message from Adiala Jail (October 21, 2025)
وجوہات جو بھی ہوں مگر ایک مڈل کلاس نوجوان شخص کا اعلیٰ سیاسی عہدے پر منتخب ہونا صرف قابلِ تحسین نہیں قابلِ تقلید مثال بھی ہے۔ یہ کتنی مدت کیلئے ہے، یہ اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ بجائے اسے سراہنے اور اسے کامیاب دیکھنے کی آرزو رکھنے کے، اسے ناکام دیکھنے کی یہ حسرت محض کج فہمی نہیں بلکہ اس سوچے سمجھے منفی اور غلام مافی الضمیر کا اظہار ہے جو بڑھتی عمر کے ساتھ پختہ ہو چکا ہے۔ جمہوریت اور مڈل کلاس کیلئے تمام عمر جد و جہد کے دعویدار سعد رفیق نے بھی بالآخر قے کر دی اور باطنی بغض کو اگل ڈالا۔ اگرچہ موصوف کی ایک بین الاقوامی طور پر مستند بدعنوان اور جمہوریت کش خاندان سے دیرینہ وابستگی ہی ان کے سیاسی و اخلاقی معیار کو منکشف کرنے کیلئے کافی تھی، مگر اب معلوم ہوا کہ وہ مڈل کلاس کو اچھوت سمجھنے اور رکھنے والوں میں بھی شامل ہیں۔
دو تصاویر، درحقیقت دو کہانیاں ہیں...
یہ عزم اور وہم کے درمیان فرق کی داستان ہے۔
یہ محنت، لگن اور خلوص کا وہ آئینہ ہے،
جس میں ہر خواب دیکھنے والا خود کو دیکھ سکتا ہے۔
یہ کہانی ہے سہیل آفریدی کی
ایک ایسے نوجوان کی جو فٹ پاتھ سے ایوان اعلی تک پہنچا..
محنت، جدوجہد، اور کچھ کر گزرنے کی تڑپ نے اُسے مخمل تک پہنچایا۔
سہیل آفریدی اب صرف ایک نام نہیں،
بلکہ ہر مڈل کلاس اور غریب کی امید بن چکا ہے۔
وہ امید، جو کہتی ہے کہ اگر حوصلے بلند ہوں،
تو اقتدار کے ایوان بھی دور نہیں رہتے۔
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
“میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک بھر میں جاری افسوسناک سیلابی صورتحال میں ریسکیو اینڈ ریلیف مہم میں ہمیشہ کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیں- تحریک انصاف بھی سیلاب زدگان کے لیے بلاتفریق اپنا کردار ادا کرے۔
میں ہمیشہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے آنے والے نقصانات کے حوالے سے شعور اجاگر کرتا رہا ہوں- ہم نے پہلے خیبر پختونخوا میں”بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا اور وفاقی حکومت میں آ کر “ٹین بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا- اس کے ساتھ متعدد چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کے ڈیمز اور نیشنل پارکس سمیت ایسے اہم ماحولیاتی حفاظت کے منصوبے شروع کروائے جو ماحولیاتی تباہی میں کمی کا باعث بنے- درخت ہی ماحولیات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ ایسے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے-
افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے افغانیوں کے پاکستان سے زبردستی نکالے جانے پر بھی شدید تحفظات اور افسوس ہے۔
خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ علی امین گنڈا پور سمیت صوبائی حکومت کو اس معاملے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ پہلے ہی وہ علاقے سیلاب کی تباہی جھیل رہے ہیں ان حالات میں آپریشن یا ڈرون حملے اور اپنے علاقوں سے بے دخلی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
میری ہدایات کی روشنی میں تحریک انصاف کا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے والے امیدواران بھی داد کے مستحق ہیں۔ جن ارکان نے اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی دیا ہے وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ ان کو یہ بھی ہدایت کرتا ہوں اگر ان کے زیر استعمال کوئی بھی گاڑی یا مراعات ہیں تو اسے فوری واپس کریں۔ پشاور جلسے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ستمبر میں ہی سیلاب کی صورتحال دیکھ کر مشاورت سے کیا جائے۔
تین سال ظلم و جبر سہنے اور حق پر ہونے کے باوجود میں نے ملکی مفاد میں مذاکرات کی بات کی مگر مجھ سمیت میرے خاندان سے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی گئی ، ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور پارلیمان میں ہمارے اپوزیشن لیڈرز تک کو نا اہل کر دیا گیا اس کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ مجھ سمیت میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید کر دیں میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی ان کے آگے جھکوں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (2 ستمبر، 2025)
علمیہ خان کے بیٹوں کی گرفتاری کے خلاف اب تک
سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی ، پارلیمانی کمیٹی سمیت تمام عہدیدار جن کے پاس پارٹی فیصلوں کا اختیار ہیں ابتک کوئی اجلاس کیوں طلب نہیں کیا؟ احتجاج کی کال کیوں نہیں دی جب بہنیں شکوہ کرتی ہیں تو پھر بُرا لگتا ہیں اب تک پارٹی میں ایمرجنسی حالات ہونے چاہئے تھے اپ کی کمزوروں کے سوال جواب ہم سے ہوتے ہیں آخر کب تک ہم خاموش تماشائی بنے رینگے