تربت میں 17 جون سے احتجاج پر بیٹھے جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا دھرنا تربت ڈی سی آفس کے سامنے جاری ہے۔
تربت کی جھلسا دینے والی گرمی جس میں آج درجہ حرارت °50 تک پہنچنے کا امکان ہے اس گرمی میں بے یار و مددگار ایک ٹینٹ کے نیچے اپنے گمشدہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے بیٹھے ہیں۔
پیر مرد ناکو میار سے لیکر ننھی بچیاں تمام تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے بیٹھے ہیں لیکن انصاف کا مطالبہ بھی ایسی بے حس ریاست سے کی جارہی ہے جس میں شہریوں کے حقوق دور کی بات ہے انسانیت بھی نہیں ہے۔
تربت میں 17 جون سے احتجاج پر بیٹھے جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا دھرنا تربت ڈی سی آفس کے سامنے جاری ہے۔
تربت کی جھلسا دینے والی گرمی جس میں آج درجہ حرارت °50 تک پہنچنے کا امکان ہے اس گرمی میں بے یار و مددگار ایک ٹینٹ کے نیچے اپنے گمشدہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے بیٹھے ہیں۔
پیر مرد ناکو میار سے لیکر ننھی بچیاں تمام تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے بیٹھے ہیں لیکن انصاف کا مطالبہ بھی ایسی بے حس ریاست سے کی جارہی ہے جس میں شہریوں کے حقوق دور کی بات ہے انسانیت بھی نہیں ہے۔
تربت ڈی سی آفس کے سامنے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی احتجاجی دھرنا دسواں روز جاری!
دھرنے پر بیٹھےہوئےلاپتہ افراد کےاہلخانہ نے حکومت سے اپیل کی کہ انکےلاپتہ پیاروں پرکوئی الزام ہےتو انہیں عدالت میں پیش کیاجائےاگر بےقصور ہے تو فوری طور پر رہا کرکے انہیں ذہنی اذیت سےنجات دلائی جائے