ظلم کی انتہاء دیکھئے
پارا چنار میں ایرانی پالتووں نے امام مسجد کا سر کاٹ کر فوجی چوکی پر رکھ دیا ہے، دہائیوں سے جاری اس بدمعاشی کا واحد حل ان ایرانی پراکسیز کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ہی ہے https://t.co/qsZkWVZiCs
نہیں یہ فلسطین نہیں بلکہ پاکستان ہےاور آگ لگانے والا اسرائیل نہیں بلکہ انکی ناجائز اولاد روافض ہیں
ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیون نے اہلسنت کے بگن بازار کو آگ لگادی
ریاستی ادارے خاموش یا پھر ناکام؟
یہ آج اس وقت کی ویڈیو ہے،رات وحشت اور بربریت کا جو ننگا ناچ ہوا وہ انسانی حقوق کے کسی چیمپئن کو نظر نہیں آرہا
انجمن حسینیہ اور زینبیون کی سرپرستی میں کل پہلے پاکستانی پرچم کو پاؤں تلے روند دِیا پھر پاکستانی جھنڈے کے جگہ ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیوں کا پرچم لگایاگیا
اہلسنت کے گاؤں بگن پر منظم حملہ کیا گیا، اس حملے میں زینبیون نے پورے بگن بازار کو آگ لگا دی، گھروں کو تباہ کیا، اور معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کی گود میں بے دردی سے قتل کیا۔۔۔۔
خاندانوں کے خاندان غائب ہیں جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل رہا گھروں سے قیمتی سامان اور مویشی تک کھول کر کے جائے گئے۔۔۔ ۔
یہ ناقابل برداشت انسانیت سوز مظالم چونکہ اہلسنت مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس لئیے نا تو کسی بار کونسل کو احتجاج کی توفیق ہوگی،ناکسی صحافی کے کان پر جوں رینگے گی اور نا ہی کسی میڈیا گروہ کو توفیق ہوگی کہ حقائق سامنے لائے۔۔۔۔۔
ہماری ان تمام اکاونٹس پھر گہری نظر ہے جو اس موقع پر حق نمک ادا کررہے کراچی کے وکیل سے لیکر گلگت کے ذاکروں تک نے پاکستان کو گالیاں دیں، پرچم جلائے، پاک آرمی کی پوسٹوں پر جھنڈے گاڑی کر فتح کا اعلان کیا اور انجمن حسینیہ کے عنایت حسین طوری نے اسے فتح مبین کا نام دیکر جشن منایا۔۔۔۔
میں یہاں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس اور دیگر صحافی تنظیموں اور وکلاء برادری کو دعوت عام دیتا ہوں کہ آپ لوگ پہلے اس مسئلہ کو سمجھیں دیکھیں سنیں اسکے بعد کم از کم بول نہیں سکتے تو باطل کی آواز تو نا بنیں!!!!
آفتاب نذیر
#SecureTheKurram
#JusticeForBugan
#stopkillingsunni
مورخہ 20 نومبر 2024 کو اوچت لوئر کرم کے مقام پر اہل تشیع اور اہل سنت کے مشترکہ کانوائے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں 39 افراد اہل تشیع کے ہلاک اور 27 زخمی ہوئے اسکے ساتھ ساتھ ایک آرمی کا جوان اور دو اہل سنت سویلینز بھی قتل ہوئے جن میں ایک عورت بھی شامل ہے۔
یہ واقعہ چونکہ اہلسنت علاقے میں واقع پیش آیا تو اس کے درعمل اہل تشیع نے دو مسافر اہلسنت افراد کو آگرہ اور سلطان اپر کے درمیان گاڑیوں سے اتار کر پتھروں سے شہید کردیا جبکہ دیگر 4 افراد کو اغوا کرلیا گیا جن کی بابت تاحال کوئی خبر نہیں!
اسی طرح کل ایک حاضر سروس F.C کے جوان پر زینبیون کے دہشتگردوں نے شرکو جو کہ پاک افغان بارڈر کے بالکل قریب واقع چھوٹا سا علاقہ ہے فائرنگ کرکے زخمی کیا۔
جبکہ باب کرم، ملی کلے اور میرباخیل چیک پوسٹ سمت پاڑہ چنار میں پاک آرمی کی انسٹالیشنز کو بھی جلادیا گیا۔
اوچت کے مقام پر اہل سنت عوام نے اسلامی و پشتو روایات پر عمل کرتے ہوئے ہلاک شدگان اور زخمیوں کو صحیح سلامت اہل تشیع عمائدین کے حوالے کیا۔ جبکہ دیگر 52 افراد( اہل تشیع) جنہوں نے اہلسنت کے گھروں میں پناہ لے رکھی تھی کو بھی صحیح سلامت انکے گھروں تک پہنچا کر امن پسندی اور خیرسگالی کا ثبوت دیا لیکن اس سب کے باوجود پھر بھی اہل سنت کو نہیں بخشا گیا اور رات بھر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔
یاد رہے کہ بگن کانوائے واقعہ پر اہلسنت کے تمام قبائل نے ناصرف شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ مذکورہ واقعہ سے لاتعلقی کا اظہاربھی کیا تھا۔
تھوڑا پیچھے جائیں تو 12 اکتوبر 2024 کو اہل سنت کانوائے ��ر کنج علی زئی کے مقام پر زینبیون کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا جس میں عورتوں بچوں اور علماء کرام کو انتہائ بے دردی کے ساتھ شہید کیا ،معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے کلہاڑیوں اور چاقووں کے وار سے شہید کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد 62 معلوم دہشتگردوں کی فہرست اہل تشیع کے حوالے کی گئ تاہم دہشتگردوں کو حکومت کے حوالے کرنے کے بجائے اپرکرم والوں نے الٹا ��ن کی پشت پناہی کی
سب جانتے ہیں کہ اوچت کے علاقے میں مقامی کمانڈر کاظم ایکٹو ہے اور ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہیکہ کانوائے پر حملے میں بھی ملوث ہے تاہم اہل تشیع نے بغیر کسی تحقیق کے اہل سنت کو قصوروار ٹھہرا کر الٹا ان ہی پر دھاوا بولدیا۔
کل مورخہ 22 نومبر 2024 کو مسلح شیعہ زینبیون دہشتگردوں نے نجی ملیشیاء کی وردیاں پہن کر سنی اکثریتی علاقے کے گاؤں بگن پر دھاوا بولا جب علاقہ مکین رات کے کھانے میں مصروف تھے اور کسی بھی حملے سے بلکل بے خبر تھے، حملے میں بازار کے کچھ حصے کو نذر آتش کردیا گیا جبکہ دیگر سرکاری املاک نادرا آفس بینکس اور پیٹرول پمپس وغیرہ کو نقصان پہنچانے ک�� ساتھ ساتھ گھروں میں گھس کر لوٹ مار بھی کی گئ۔
گاؤں پر اتنے اچانک حملے سے اہلسنت کا بہت نقصان ہوا ڈاکٹر طلا صاحب کی ایک بیٹی کو انکے کے سامنے قتل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق زینبیون کے اس حملے میں بوڑھوں بچوں خواتین سمیت کسی کو نہیں بخشاگیا۔۔۔۔۔
اور تو اور وحشی خونی درندوں نے یہ بھی کہا کہ اب جو ��لح کے لئیے آئیگا اسکا بھی تابوت واپس جائیگا جسکا مظاہرہ آج زینبیون کیجانب سے سرکاری ہیلی کاپٹر پر حملے کی صورت میں ہوچکا۔۔۔۔
اہل سنت مشران بار بار سول سوسائٹی اور انتظامیہ سے یہی اپیل کررہے کہ خونریزی کرنے اور فسادات کو ہوا دینے والوں کو آخر ایک ہی بار کیوں نہیں اٹھا لیا جاتا
اگر یہ چند شرپسند عناصر ہیں تو ان پر آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا؟
آخر کب تک ہم اپنی عورتوں اور بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے!!!!
تحریر و ترتیب: آفتاب نذیر
یہاں کوئی جلسہ جلوس منقعد نہیں ہو رہا ۔۔ یہ غزہ میں خواتین اور بچے روٹی حاصل کرنے کے لیے جمع ہیں ۔۔ دنیا کے امیر ترین ممالک میں گھرے ہوئے متروک شودر ۔۔۔
ضلع کرم ایجنسی میں گزشتہ روز ہونے والے واقعے پہ پورا ملک رنجیدہ ہے۔ سب لکھ اور بول رہے ہیں ۔ لیکن اس سب کی آڑ میں ایرانی پراکسی زینبیون کو کھل کر کھیلنے کی اجازت کس نے اور کیوں دی ہے؟ اداروں کو مطلوب دہشت گردوں نے آج جو کچھ کیا وہ ۹ مئی سے کم ہرگز نہیں ہے۔ فوجی چیک پوسٹ پہ حملہ، وہاں سے پاکستان کا جھنڈا اتار کر زینبیون کا پرچم لہرا دینا، بیکری سمیت درجنوں عوامی املاک کو نذر آتش کر دینا۔ پھر اطراف کے گاؤں سے مسلح جتھوں کا اہلسنت کی آبادی پہ دھاوا بولنا، ابھی چند ہفتے قبل بوشہرہ میں جو ہوا ناقابل بیان ہے۔ یہ آجکل کی بات نہیں ، پاراچنار اور کرم میں ایسے سانحات سالوں سے ہوتے چلے آ رہے ہیں، گزشتہ کئی ماہ اہلسنت پہ بہت بھاری گزرے ، خون کا رنگ لال ہوتا ہے، اہل تشیع کا ہو یا اہلسنت کا، ایسے قتل عام کرنا اسلام و قانون میں جرم ہے اہلسنت کا ہو یا اہل تشیع کا۔
کل بھی عرض کیا تھا کہ یہی وقت ہے اپنے نوجوان کو کسی دوسرے ملک کی پراکسی وار کا نشانہ بننے سے بچانے کیلیے سنجیدگی سے بیٹھ کر سوچ کر لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا جو پاکستان کے مفاد میں ہو ۔ جس سے سب کا بھلا ہو۔ اللہ تعالی میرے ملک پہ رحم فرمائے
��یسے تو ہر امریکی صدر یہودی لابی کی خوشنودی کیلیے سرتوڑ کوششیں کرتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے خاصا بدترین ہے۔ مسلم دشمنی ہو یا اسرائیل نوازی ٹرمپ نے اپنے پچھلی صدارتی ٹرم میں تمام امریکی صدور کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ٹرمپ نے خصوصا مسلمانوں کیلیے امریکی ویزوں کے حوالے سے سخت پابندیاں لگائیں۔ کئی مسلم ممالک کو مکمل طور پہ بین کیا۔ٹرمپ کا اپنا داماد بااثر یہودی بلکہ صیہونی ہے۔ جسکا اثر ہمیں ابراہم اکارڈ ایگریمنٹ میں نظر آتا ہے۔ جسکے تحت UAE سمیت کئی اسلامی ممالک ��ے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے تجارتی تعلقات قائم کیے۔ ٹرمپ کی آشیرباد سے ہی اسرائیل نے اپنا دارلخلافہ بیت المقدس منتقل کیا۔ لیکن یہاں پاکستان میں کچھ لوگوں کو ٹرمپ کی جیت پہ خوشیاں صرف اس لیے چڑھی ہوئیں کہ شاید وہ آتے ہی انکے مہاتما کو جیل سے نکال کر وزیراعظم ہاؤس میں بٹھا دے گا۔
اقبال رح سے معذرت کے ساتھ کہ
اللہ کو پامردی مومن پر بھروسہ
ابلیس (یوتھیوں) کو یورپ کی مشینوں ( ٹرمپ) کا سہارا
@babakodda18plus ڈیموکریٹ کانگرس مین نے جو خط لکھا ہے اس میں عاصم منیر کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ اس کا امریکہ میں داخلہ بند کیا جائے اور اثاثے مجمد کیے جائیں
شیخ الاسلام صاحب نے کیا عجیب نکتہ ارشاد فرمایا
کہ یہ رحمان کا فضل ہے جو فضل الرحمٰن کے ذریعے پورا ہوا الحمدللہ
اور جمعہ کا دن یوم تشکر منانے کا اعلان بھی کیا -
#مولاناتیرا_شکریہ