@NidaAhm16105291 I spent my teenage years reading all these writers, and the blatant misogyny mixed with religion in their novels has always been nauseating to me.
@shadesofangels I once commented on a FB post that Islam is a feminist religion, and I still cringe whenever I think about it. Well, I was 18 and clearly had no idea what I was talking about. 😂
to everyone saying 17 year old boy who r*ped 18 MONTHS old baby girl was worse than animals. no he wasn’t. he was a man. call him what he is, a MAN. let’s stop protecting men by hiding them behind words. animals don’t r*pe children and women, men do.
@Advjalila They aren't naive. They know exactly what's happening. They just don't think protecting their children is worth risking their marriages. Worse, they're afraid it will be a struggle to marry her off later. After all, aren't Desi girls raised to stay silent about sexual assault?
Double standards don't exist, but...
"You're a girl" is a reprimand.
"He's a boy" is an excuse.
"She was drunk" makes it worse.
"He was drunk" makes it understandable.
"She puts her career first is aflaw.
"He puts his career first" is ambition.
"She's 40" means "already"
"Heis 40° means "only."
@hell_line0 If things were in my hands, I would have taken revenge. Why should they escape accountability after causing an entire gender such immense suffering? I'm not that magnanimous.
توڑ کر رسم کے بتُ بندِ قدامت سے نکل
ضعفِ عشر ت سے نکل وہمِ نزاکت سے نکل
نفس کے کھینچے ہوے حلقہٰ عظمت سے نکل
قید بن جائے محبت تو محبت سے نکل
راہ کا خار ہی کیاگل بھی کچلنا ہے تجھے
اُ ٹھ میری جان میرے ساتھ ہی چلناہے تجھے
عورت – کیفی اعظمی
سب کہتے ہیں 1970 میں فری اور فیئر الیکشن ہوے....لیکن یہ بھی تو دیکھیں اسکے نتیجے میں ہوا کیا؟...اس لئے جب سے اصطبل ہر الیکشن کا نتیجہ اپنی مرضی کا لاتی ہے .اب بار بار ملک تڑوانے سے تو رہی۔۔۔سالی ۔۔ہیں،َ۔؟.
🚨محمد عمیر کا پیغام🚨
براہِ کرم میرے 17 ماہ کے معصوم بیٹے محمد صالح بن عمیر کے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں
18 جولائی کو صبح تقریباً 5:00 بجے ہم اپنے 17 ماہ کے بیٹے کو سول ہسپتال مری لے گئے کیونکہ اسے الٹی اور اسہال کی شکایت تھی۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نہ اس کا بخار چیک کیا اور نہ ہی اس کی دیگر اہم علامات (Vital Signs) کا معائنہ کیا۔ اس کے بجائے اس نے پرچی پر پانچ انجیکشن لکھ دیے۔
یہ پانچوں انجیکشن پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لگا دیے گئے۔ حتیٰ کہ رنگر لیکٹیٹ (Ringer Lactate)، جو عام طور پر ڈرِپ کے ذریعے دیا جاتا ہے، اسے بھی ڈرِپ لگانے کے بجائے براہِ راست انجیکٹ کر دیا گیا۔ میں نے مرد نرس سے پوچھا:
“کیا رنگر لیکٹیٹ ڈرِپ کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟”
اس نے جواب دیا:
“ اب ہو گیا ہے۔”
اور باقی انجیکشن لگاتا رہا۔
اس کے فوراً بعد ڈاکٹر نے ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہہ دیا۔
اس کے بعد ہم اسے قریبی سی ایم ایچ مری (CMH Murree) لے گئے۔
وہاں عملے نے پہلے دیے گئے علاج کا جائزہ لینے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہمیں دوبارہ سول ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر بچے کو داخل نہیں کر سکتے، اور اگر تقریباً 10 گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھل جائے تو دوبارہ لے آئیں۔
صبح تقریباً 10:00 بجے ہم دوبارہ اپنے بیٹے کو سول ہسپتال مری کے ماہرِ اطفال کے پاس لے گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمارے بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پانچوں انجیکشن صرف پانچ منٹ کے اندر لگا دیے گئے تھے۔
ان کا جواب تھا:
“بی بی، یہ گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ یہاں یہی ہوتا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں ہم اسے ایڈمٹ کر لیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔”
بچے کو داخل کرنے کے بجائے انہوں نے ایک اور انجیکشن (Onset) لکھ دیا۔ نرس نے اس انجیکشن کا تقریباً آدھا حصہ لگایا۔ اس وقت تک ہمارے بیٹے کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ اور پاؤں نیلے پڑ چکے تھے، لیکن کسی نے بھی اس کی حالت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں دوبارہ گھر بھیج دیا گیا۔
گھر جاتے ہوئے اس کا بخار 105°F تک پہنچ گیا۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز کی ہر ممکن کوشش کے باوجود ہمارا 17 ماہ کا معصوم بیٹا اسی دن شام تقریباً 5:00 بجے انتقال کر گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سول ہسپتال مری میں ہمارے بیٹے کو دیے گئے علاج کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ہم جواب چاہتے ہیں، ذمہ داروں کا احتساب چاہتے ہیں، اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک معصوم کی جان سول ہسپتال مری میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث چلی گئی۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا ناقابلِ برداشت سانحہ ہے، اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا قانون کے مطابق احتساب انتہائی ضروری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور معصوم کی جان بھی اسی غفلت کی نذر ہو سکتی ہے۔
میں اپنے تمام میڈیا فیلوز، صحافی دوستوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور انصاف پسند لوگوں سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ براہِ کرم اس معاملے پر آواز اٹھائیں، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اور ہماری آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔
براہِ کرم ہماری آواز بنیں۔ ایک معصوم جان واپس نہیں آ سکتی، لیکن انصاف ضرور ہونا چاہیے۔
#JusticeForMuhammadSualehBinUmair #JusticeForSualeh #MedicalNegligence #CivilHospitalMurree #VoiceForJustice #THQHospitalMurree
Maryam Nawaz Sharif Raja Osama Sarwar Punjab Healthcare Commission - PHC PML-N Punjab
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
@yasminkhalid1 I wonder why they always target girls in these kind of articles. Are they in relationship with ghosts? Why they don't talk about ever growing population of charactless boys in colleges, who are only there to target girls and trick them into starting a relationship with them.
@maahiiiway Been there. My family went as far as socially boycotting me and that continued for around 6 months. Imagine not a single person talking to you in your own home just because you said no to a rishta.
@notyourpastry Children having rights is a concept still very foreign to Pakistani society, where a child is expected to selflessly serve and obey his parents just because they gave birth to him and what they did to him or for him except for giving birth is irrelevant.
@ded_brown_lad Read the last three lines and by the way I wanted to call you dumb so bad but restrained just for the sake of politeness. But since you started it dumb a**, read what you wrote yourself first.