The loss of an innocent life in the heart of Lahore is not a mere accident, it is a crime, and it has bowed my head in shame. Instead of accepting responsibility, facts were distorted to hide incompetence. Officers who cannot even secure an open manhole have no right to hold office. I will not rest until justice is served, the blood of the two daughters is accounted for, and every responsible officer is brought to punishment. Despite my relentless focus and repeated instructions, a poor life was lost to negligence and dereliction of duty, but what is even more painful is the attempt to suppress the truth. Let me be clear, the time of negligent and dishonest officers is over. I will stand as a shield for the family that was harassed instead of being given justice. In Punjab, every life will be valued, no matter how powerful the officer involved.
دریائے فرات کے کنارے اگر کتا مرے گا تو حضرت عمر ذمہ دار ہوں گے تو آپ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ ملک میں کچھ ہوگا اور وزیراعلی ذمہ دار نہیں ہوگی۔ میں رات کو سو نہیں پاتی، مجھے اپنے عوام کی فکر رہتی ہے۔ وزیراعلی مریم نواز کا خطاب
بہرحال یہ Governance نہیں ہے آپ اِسے انقلاب کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ دو سال میں دنیا کی تاریخ میں شائد ایسی مثال ملتی ہو جس میں 133 کروڑ آبادی کے صوبے میں اتنی تیزی سے Transformation ہو رہی ہو۔ آپ کے مخالفین بھی آپ کی تعریف کر رہے ہیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
چین نے سال 2025 میں امریکہ سے دوگنی بجلی استعمال کی جو چین کی صنعتی اور ڈومیسٹک استعمال کو ظاہر کرتی ہے اور یہ بجلی ابھی بھی چین کی کُل بجلی پیداوار کا آدھا تھا یعنی چین اپنی بڑھتی ہوئ بجلی کی مانگ کیلئے پہلے سے تیار ہے،
دُنیا میں پانچ ٹاپ بڑے ممالک جو سستی ترین بجلی اپنی عوام اور صنعت کو فراہم کرتے ہیں، وہ چین، بھارت، ترکیہ، سعودی عرب اور روس ہیں
روس، سعودی عرب، تو اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کیوجہ سے سستی بجلی دیتے ہیں لیکن اصل کریڈٹ چین، بھارت اور ترکیہ کو جاتا ہے جو عوام کو ریلیف دینے کیلئے اور اپنی صنعت کی ترقی کی خاطر سستی بجلی فراہم کرتے ہیں
پاکستان کی بجلی جنوبی ایشیا میں سب سے مہنگی ہے، اور یہ آئ پی پیز کیوجہ سے ہے،
ایک اور چیز بہت امپورٹنٹ ہے، اسے نوٹ کریں کہ سڑکوں پر لگنے والے مین ہولز کا لیول سڑک سے اونچا نہیں ہونا چاہیے، اس سے لوگ اور بچے گر کر زخمی ہوتے ہیں۔ آدھا ملی میٹر بھی فرق نہیں ہونا چاہیے
دوسری بات یہ کہ کرب اسٹونز (فٹ پاتھ کے پتھر) پر بار بار پینٹ کے خرچے سے بچنے کے لیے اوریجنل پگمنٹڈ (رنگین) پتھر استعمال کریں
تیسرا یہ کہ شہروں کے داخلی و خارجی راستوں، انڈر پاسز اور پلوں کے نیچے والی جگہوں کو خوبصورت بنائیں، کیونکہ وہاں گندگی کے ڈھیر اور نشئی افراد کے ڈیرے بنے ہوئے ہیں۔ ان جگہوں کو بیوٹی فائی کریں
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
ڈاکٹر شہباز گل ؛ ایک تبصرہ انجینئر محمد علی مرزا پر ، ایک نجم سیٹھی پر۔ صفر تبصرہ عمران خان کی قید تنہائی پر۔ صفر پوسٹ اڈیالہ کے باہر عاصم منیر کی غنڈہ گردی پر۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
عمران ریاض خان ؛ تین تبصرے محمد علی مرزا پر ، ایک افغانستان پر ایک پیپلزپارٹی پر۔ عمران خان کی قید تنہائی پر کوئی ٹویٹ نہیں۔ آفر پوسٹ اڈیالہ کے باہر غنڈہ گردی پر۔ آخری دو میں سے ایک ولاگ کے تھمب نیل میں انجینئر ۔ ایک میں اڈیالہ کے باہر ظلم کی روداد ، عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
صابر شاکر ؛ مبشر زیدی کی سالگرہ ، اے آئی ویڈیو اور افغانستان پر پوسٹس۔ چند عدد پوسٹس اڈیالہ پر اور صفر پوسٹس عمران خان کی قید تنہائی پر۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں فیلڈ مارشل کا خفیہ خط لیک کی جھوٹی سنسنی ، عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
عادل راجہ ؛ ایک پوسٹ مرزا انجینئر پر ، ایک پوسٹ افغانستان پر ، ایک پوسٹ ایرانی صورتحال پر ، صفر پوسٹ عمران خان کی قید تنہائی پر۔ آخری دو ولاگز کے تھمب نیلز میں ایران۔ عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
معید پیرزادہ ; ایک پوسٹ اڈیالہ کے باہر کی صورتحال پر ایک میں کچھ ملا جلا سا تبصرہ۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں اڈیالہ کے باہر احتجاج کا ذکر عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
صدیق جان ؛ آپ کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپ کے ایکس اور یوٹیوب دونوں پر اڈیالہ و عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر موجود ہے۔ آپ سے گزشتہ گستاخیوں پر معذرت۔
تبصرہ ؛ جناب ولاگران و انفلوئنسران، یہ ایک غلط رویہ ہے۔ کوئی کیا کہنا اور بولنا چاہتا ہے یہ اسکی مرضی۔ لیکن یہاں اتنا غلط ہورہا ہے ، اتنا غلط ہورہا ہے ، اتنا غلط ہورہا ہے کہ کچھ نا کچھ غلط ہمیں بھی کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی قید تنہائی اس قدر طویل ہوگئی ہے اور اس قدر نارمل بنا دی گئی ہے کہ اب ہمیں یہ رپورٹ کارڈز جاری کرنا ہی پڑیں گے۔ آپ کا اپنی پذیرائی اور اپنے انفلوئنس کے بارے میں کیا خیال ہے اسکا مجھے علم نہیں ، میرا یہ ماننا ہے کہ اس اکاونٹ کی پذیرائی کے پیچھے سب سے بڑا اور غالب فیکٹر عمران خان اور اسکے چاہنے والے یوتھیے ہیں۔ لہذا یہ اکاونٹ عمران خان اور یوتھیوں کا مقروض ہے۔ اسے یہ قرض اتارنے کے لیے استعمال کیا جاوے گا۔
اگلی فرصت میں اس طرح کے رپورٹ کارڈز تحریک انصاف کے بڑے بڑے رہنماؤں اور سیاسی کمیٹی کے ممبران کے بھی جاری ہوں گے۔ جو عمران خان کا ذکر نہیں کرتا یا کرنا چاہتا ہم اس کا ذکر کریں گے اور خوب کریں گے۔ غلط ہے۔ لیکن مجبوری ہے۔
عمران خان اور فیض احمد فیض: اذیت کا وہی اسکرپٹ، بس وردی پرانی اور دہائی نئی۔
قید تنہائی — 1951 سے عسکری اشرافیہ کا آزمودہ ہتھیار، گوانتاناموبے طرز کی ریاستی بربریت۔
اُس زمانے میں فیض صاحب کو راولپنڈی سازش کیس میں اس لیے گھسیٹا گیا کہ جنرل اکبر خان نے دس گھنٹے تک اپنی ’’عظیم‘‘ بغاوت پر خود ہی داد وصول کی۔ سب نے شائستگی سے کہا، ’’نہیں جی، شکریہ‘‘ — اور نکل لیے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ جرنیلوں کو اختلافِ رائے ہضم نہیں ہوتا۔ چنانچہ فیض اور ان کے ساتھیوں کو پھر بھی گرفتار کیا گیا۔ لیاقت علی خان کو یہ سبق پڑھایا گیا کہ انصاف وہی ہے جو سلاخوں کے پیچھے دفن ہو۔ اسمبلی کو دھمکا کر خصوصی ٹربیونل ایکٹ ایسے پاس کروایا جیسے آئین کوئی فضول کاغذ ہو۔ نتیجہ؟ فیض ساہیوال میں تین قیدِ تنہائی میں رکھے گئے—انسانی وجود توڑنے کی کلاسیکی مشق۔
جب انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو فیض مسکرا رہے تھے، بہت خوش تھے۔ وجہ؟ کہا کہ"تین ماہ بعد انسانی چہرے دیکھنا میرے لیئے عید ہے۔" یہ تھا ریاستی جبر کے منہ پر زوردار طمانچہ۔ مقدمہ ہوا، کچھ ثابت نہ ہوا، 1954 میں رہائی۔ سجاد ظہیر کو ملک بدر کیا گیا—بھارت کا تاحیات ویزا، تاکہ سچ وطن سے دور رہے۔
اب فاسٹ فارورڈ کریں: قیدی نمبر 804۔ چھ ماہ سے زیادہ تنہائی کی قید—اقوامِ متحدہ جسے کھلے لفظوں میں تشدد کہتی ہے۔ وہی پرانا نسخہ، دماغ بالکل خالی۔ جتنا دباؤ بڑھاتے ہیں، اتنی ہی مقبولیت بڑھتی ہے۔ ایٹمی بم بھی یہاں بیکار۔ لاٹھیاں الٹا نقصان۔ دباؤ؟ ہمارے لیے مفت تشہیر۔ یہ آدمی مصیبت کو ایندھن بناتا ہے۔ جتنا دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اتنا اوپر اُبھرتا ہے۔ یہ منظر مضحکہ خیز نہیں تو کیا ہے—مچھلی کو ڈبونے کی کوشش کبھی کامیاب ہوئی ہے؟
اور پردہ پوشی؟ یہ تو ریاستی ڈی این اے ہے۔ 1951 میں لیاقت علی خان قتل، قاتل کو فوراً خاموش کر دیا گیا—کوئی سرا نہیں چھوڑنا۔ جائے واردات دھو دی گئی۔ پھر بے نظیر۔ پھر 26 نومبر اسلام آباد۔ پھر ٹی ایل پی کے قتل۔ ایک ہی سانچہ: مٹا دو، دھو دو، سی سی ٹی وی غائب کردو۔
قائداعظم نے یہ ناسور 1948 ہی میں پہچان لیا تھا۔ کوئٹہ میں فوجی افسران سے کہا کہ صبح مجھے پتہ چلا کہ چند نہایت اعلیٰ افسران حلف کے مطلب سے ہی ناآشنا نکلے۔ اور پھر دو ٹوک فیصلہ کن جملہ: "تم عوام کے خادم ہو۔ سیاست اور ریاستی امور سے تمہارا کوئی تعلق نہیں—یہ شہریوں کا دائرہ ہے۔"
لیکن یہاں پتھر پر لکھی باتیں کون پڑھتا ہے؟ پانچ مئی کے بعد جناح ہاؤس کی پوجا زیادہ اچھی سپن ہے، آئین کی اطاعت نہیں۔
یہ فوج نہیں جو بدنام ہوتی ہے—یہ چند جرنیل ہیں جو ہر نسل میں ریل پٹڑی سے اتاردیتے ہیں: ایوب، یحییٰ، ضیاء، مشرف، اور اب ایف ایم عاصم منیر اور ان کی چاپلوس منڈلی، جو ہر عقلمند آواز کو روند رہی ہے۔
میں نے بھی بار بار کہا اور دنیا چیخ رہی ہے کہ ’’خدا کے لیے بات کرو—اس سے پہلے کہ ریاست کے پہیے مکمل طور پر ٹوٹ جائیں۔‘‘
ہم شہری بھی سب سے بڑے سہولت کار۔ ہم نے ہی اِنہیں بچایا کیونکہ فوج ہماری ہے۔ بھٹو نے حمودالرحمٰن رپورٹ دفن کی۔ قدیر خان نے دوسروں کے گناہ اپنے دامن میں ڈال دیئے۔ اب بہت ہو چکا۔
جیسا کہ فیض نے اسی حیدرآباد کی کوٹھڑی سے 1952 میں لکھا—
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا، کچھ دور تو نالے جائیں گے
موجودہ غاصبوں آپ بھی ۔۔۔ اب چلتے بنو اور عمران خان کو راستہ دو ۔۔۔
https://t.co/izqV7acgcA
عمران خان کا فیصلہ مقبول بھی ہے اور قبول بھی ہے، عمران خان کا حکم آیا تو علی امین گنڈاپور نے فوری استعفٰی دیا اور ساتھ ہی پارلیمانی میٹنگ بلا کر اعلان کیا کہ ہم ہر صورت سہیل آفریدی کو وزیر اعلٰی بنائیں گے،
مینا خان آفریدی
🔴 گریٹا تھنبرگ
میں ہماری قید کے دوران ظلم و زیادتی پر بہت دیر تک بات کر سکتی ہوں — یقین کریں، لیکن یہ اصل کہانی نہیں ہے۔
اصل کہانی یہ ہے کہ اسرائیل نسل کشی اور تباہی کو بڑھا رہا ہے، ایک پوری آبادی کو ہماری آنکھوں کے سامنے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
A 40-year-old critical cardiac patient was successfully airlifted by the Punjab Air Ambulance from Bahawalnagar to Punjab Institute of Cardiology (PIC), Lahore, within the crucial golden hour.
A precious life saved, Alhamdulillah 🙏🏼