ڈی جی آئی ایس پی آر تو پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو فتنہ الہندوستان قرار دیتے ہیں جبکہ مریم صفدر پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی ذمہ پختونوں کو قرار دے رہی ہے۔
یہ تو انڈیا کے بیانیے کی جیت ہو گئی۔
مبارک ہو سر یہ بھی آپکا ہی تحفہ ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ دہشتگردی انڈیا کروا رہا ہے جبکہ جنرل رانی مریم نواز نے بھارت کو کلین چٹ دے کر الزام خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ پر لگا دیا ہے
یہ پاکستان سے غداری نہیں تو اور کیا ہے ؟ مریم نواز آرٹیکل 6 کی حقدار ہے
یہ تعصب کی انتہا ہے ان خاتون کو کچھ لوگ آیندہ کا ممکنہ وزیراعظم قرار دے رہے ہیں مگر بھارت کے مقابلے میں دوسرے صوبوں کے بارے میں ایسے بات کرنا ، سیاسی ناپختگی ہی نہیں تعصب ہے یہ شرمناک زبان ہے ۔ ان خاتون کو پاکستان کی اکائیوں کے خلاف اس انداز میں بات کرنے پر معافی مانگنی چاہیے
نجم سیٹھی کے مطابق نواز شریف اس وقت relevant نہیں رہے۔
الیکشن سے پہلے میں نے مریم نواز کو لیڈی میکبیتھ کہا تھا۔ وہ عورت جو اپنے شوہر کو استعمال کر کے اقتدار کی سشذیڑھیاں چڑھتی ہے اور بعد میں احساسِ جرم سے پاگل ہو جاتی ہے۔
مریم نواز نے تاہم اپنے کاغذی شوہر کی بجائے اپنی والدہ کے شوہر کو استعمال کیا اور پھر انہیں کوڑے دان میں پھینک دیا۔
عاصم منیر کی جاہل لونڈی چاہتی ہے کہ پاکستان میں اب خانہ جنگی ہو اور یہ عورت صرف خانہ جنگی کروانے اور پاکستان توڑنے ائی ہے
27 ستمبر کو نکلو اور اس کا تخت گرا دو
فلک جاوید کو تمام۔کیسز سے ضمانت مل گی۔اب جب کوئ کیس نہیں رہا تو جناح ہاوس کیس شروع۔۔
کسی خاتون کو مغرب کے بعد جیل سے کہیں نہیں لے جایاجا سکتا قانون کے مطابق۔لیکن فلک جاوید کو عدالت سے یہ کہاں لے گیے؟
عظمی بخاری خاتون ہیں خواتین کی حرمت کا خیال کریں
عاصم منیر اور فوج کہتی ہے کہ دہشتگردی “فتنہ ہندوستان” ہے
ان کی پنجاب پر مسلط کی گئی ناجائز وزیراعلی مریم نواز کہتی ہے کہ پنجاب کو دہشتگردی کا خطرہ ہندوستان سے نہیں پنجاب کے ساتھ لگنے والے تین صوبوں (سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا) سے ہے
👏🏻
فوج سے ایک معصومانہ سوال ہے کہ آپ کی سب سے زیادہ پسندیدہ وزیرِ اعلیٰ کی مودی کو کلین چٹ دے کر اور یہ اعلان کر کے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت کا کوئی ہاتھ نہیں، کیا اب ہمیں یہ بھی مان لینا چاہیئے کہ فتنۃ الہندوستان بھی محض ایک من گھڑت کہانی ہے؟
مودی سے یاری انکے خون انکی گھُٹی میں ہے
فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر، ترجمان اعلی انجینئر شریف، بیان ساز اعلی جنرل مشتاق اور سینکڑوں بیانیہ باز پونے چار سال سےپوری دنیا کو فتنہ الہندوستان سے آگاہ کررہے ہیں لیکن ان سب کی خاص اعلی انڈیا،مودی اور ہندوتوا کو کلین چٹ دے رہی ہیں
آج مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے دہشتگردی پاکستان آ رہی ہے۔ لیکن یہ نہيں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کہاں سے آئی۔
شہبازشریف نے 14 مارچ 2010 کو لاہور میں جامعہ نعیمہ میں خطاب کیا اور بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کہاں سے آئی ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ ایک آمر نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اغیار کے اشاروں پر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا اور اغیار کے سامنے سرجھکا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی نے ڈکٹیٹر کے غلط اقدامات کی وجہ سے جنم لیا جس کے نتیجے میں آج پورا پاکستان اس میں جھلس رہا ہے۔
غدار وطن لونڈی را کی ایجنٹ ملک توڑنے ائی ہے دیکھ لیں ۔۔
کہتی مجھے دشمن ملکوں سے کم خطرہ ہے مجھے ہمسائے صوبے سے خطرہ ہے
ہائے اوئے کھولو انکھیں گراؤ اس کا تخت۔۔
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔