جناح ٹاؤن یوسی 4، وارڈ 2 عامل کالونی میں روڈ کارپیٹنگ
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر کے ایم سی کی جانب سے جناح ٹاؤن یوسی 4، وارڈ 2 حامل کالونی میں روڈ کارپیٹنگ کا کام کیا گیا۔
اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات ضلع شرقی ارتضیٰ عبدالقیوم بلوچ، جنرل سیکریٹری پی ایس 102 سید نعیم شاہ اور سیکریٹری اطلاعات پی ایس 102 عبدالرحمان صدر نے موقع پر موجود رہ کر کام کا جائزہ لیا اور نگرانی کی، جبکہ جیالے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
ہم اس ترقیاتی کام پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صدر ضلع شرقی اقبال ساند، جنرل سیکریٹری ریاض بلوچ، سینئر نائب صدر سرور خان غازی اور سیکریٹری اطلاعات فرخ نیاز تنولی ترجمان سندھ حکومت اور صدر پی اس ۱۰۲ سیدہ اقرباء فاطمہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جن کی کاوشوں سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔
@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ@sharmilafaruqi@murtazawahab1@FTanoli21774@IrtazaBaloch1@IqbalSandh
Plant lena sirf ek moment tha, lekin usay grow karna ab hamari responsibility hai Hopefully ye chhota sa plant kal ek bara darakht banega
#savourfoods#PakistanZindabad#جشن_آزادی_مبارک
گزشتہ 36 سال سے پنجاب اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کر رہا ہے۔
1990-91 سے 2026-27 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے پاکستان کے گندم بحران کی ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
پنجاب کی گندم کی پیداوار 10.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 21.9 ملین ٹن ہو چکی ہے۔
ریکارڈ پیداوار 2025-26 میں 24.24 ملین ٹن رہی۔
یہ اضافہ زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے سے نہیں ہوا۔
گزشتہ 36 برس میں گندم کا رقبہ تقریباً 14 سے 17.4 ملین ایکڑ کے درمیان رہا۔ پیداوار میں اضافہ بہتر بیج، کھاد اور مشینی کاشت کی وجہ سے ہوا۔
اصل مسئلہ آبادی ہے۔
پنجاب کی آبادی تقریباً 6 کروڑ سے بڑھ کر 13.8 کروڑ ہو گئی، جس کے باعث فی کس دستیاب گندم 176 کلوگرام سے کم ہو کر 159 کلوگرام رہ گئی۔
اس کے باوجود پنجاب نے 36 سال میں ہر سال سرپلس گندم پیدا کی۔
سالانہ سرپلس کبھی 2.4 ملین ٹن سے کم نہیں ہوا اور اس وقت 3.89 ملین ٹن ہے۔
یہ اضافی گندم صرف پنجاب کے لیے نہیں۔
اسی سرپلس سے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ کے بعض علاقوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، جبکہ کچھ گندم افغانستان بھی جاتی ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے گزشتہ 36 سال میں 22 مرتبہ گندم درآمد کی، جن میں 2020-21 سے 2023-24 تک مسلسل چار سال بھی شامل ہیں۔
جولائی 2024 سے درآمدات پر پابندی ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ پنجاب میں گندم کی کمی نہیں۔
اصل مسائل یہ ہیں:
• خسارے والے صوبوں کی ضروریات
• سرحد پار گندم کا اخراج
• ناکافی اسٹریٹجک ذخائر
• خریداری اور ریلیز کے نظام میں خامیاں
مسئلے کا حل پیداوار بڑھانے سے زیادہ، ان پالیسی مسائل کو درست کرنے میں ہے۔