کراچی کا ایک اور بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا، شاہ فیصل ٹاؤن پیپلز پارٹی کا ہو یا پی ٹی آئی کا اس سے ہٹ کر یہ حادثہ قابض میئر کی زیر نگرانی واٹر کارپوریشن کی بدترین نااہلی کا شاخسانہ ہے، 47 ارب سالانہ کا بجٹ رکھنے والا واٹر کارپوریشن گٹر پر ڈھکن تک نہیں لگا سکتا تو کیا کرے گا؟
بنو قابل پروگرام کی کوریج کے حوالے سے ملتان ، مانسہرہ ، سرگودھا، فیصل آباد، سوات، سمیت مختلف شہروں میں جانا ہوا، جس شہر میں بھی گے نوجوانوں کی قبل از وقت آمد شروع ہوجاتی تھی اور پنڈال بھرنے سے زیادہ الخدمت فاونڈیشن کے ذمہ داروں کو اس بات کا خوف لاحق دیکھا کہ لوگ انتظامات سے زیادہ آگے ہیں اور سلسلہ بڑھ رہا ہے تو ��زید انتظامات کیے جائیں
لیکن جعفر آباد بلوچستان پہنچتے ہی احساس ہوا کہ پروگرام کامیاب کیسے ہو ہوگا ،
چھوٹے چھوٹے قصبے ، تھوڑی سی آبادی اوپر سے غربت اور بوسیدہ سا سرکاری انفراسٹکچر یہ پروگرام یہاں نہیں رکھنا چاہیے تھا ،
پنڈال پہنچے تو سخت دھوپ اور چھبنے والی گرمی ، الخدمت کے ذمہ دارن نے بتایا کہ آٹھ ہزار افراد کے لیے کرسیاں لگائی جاچکی ہیں ، دل میں موجود خدشہ زبان پر آہی گیا کہ اتنے لوگ آجائیں گے ، تو منتظمین کا اعتماد دیکھتے ہوئے خاموش ہوگیا لیکن ڈر بہرحال موجود تھا کہ پسماندہ صوبے کے ایک ضلع میں آٹھ ہزار افراد کو وڈیرے اور جاگیردار ملکر اکھٹا نہیں کرسکتے یہ پھر ایجولیشنل کوشش ہے ، خواتین کی سائیڈ پر لگی کرسیوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر مقامی الخدمت کے ذمہ دار فرد سے پوچھا کہ یہ کیوں ؟ تو بولے آپ دیکھتے جائیے ،
جمعہ کی نماز کے بعد دوبارہ پنڈال آئے تو اکا دکا نوجوانوں کی آمد شروع ہوتی دیکھی ، گرمی اور دھوپ ایسی کہ بغیر سائے کہ بیٹھا نہ جائے ، دھول اور مٹی جب ہلکی ہوا چلے تو ساتھ چلی آئے ،
پروگرام کا وقت چار بجے تھا ساڑھے تین بج چکے تھے اور پنڈال کی ایک تہائی نشستیں ہی فل ہوئی تھیں ، اور جو بیٹھے تھے ، سیدھی دھوپ نے انکی انرجی دس منٹ کے اندر ڈرین کردینی تھی لیکن عملا اسکے برعکس ہوا، جو آئے تھے وہ پرجوش اور ایکسائیٹڈ تھے کچھ کرنے کا جذبہ سیکھنے کی لگن اور خواہش ان کے چہروں سے جھلکتی نظر آئی ، چار بجے کا وقت تھا انٹری ٹیسٹ کا اور جب نظر ڈالی پنڈال پر لمبی لائنیں ، بلوچستان جیسے صوبے کی امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سے گزرتے نوجوانوں کی آمد کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کرسیاں بھر چکی تھیں اور لوگ چلے آرہے تھے ، مجھے الخدمت کے منتظمین پر ترس بھی آیا اور پیار بھی ، ہنگامی حالات ہوچکے تھے آنے والوں کو واپس نہیں کر سکتے تھے اور ان کے لیے جگہ بھی بنانی تھی ، فارم بھی دینے تھے ، ٹیسٹ بھی لینا تھا اور وہ سب انہوں نے کردکھایا جو الخدمت کے لوگوں کا “خاصہ “ہے ، دس ہزار سے زائد نوجوان ٹیسٹ دینے پہنچ چکے تھے ، اور پھر جو چیز جعفر آباد کے انٹری ٹیسٹ میں نظر آئ وہ کہیں اور کم ہی دیکھی اور وہ تھی امیر جماعت اسلامی اور بنو قابل پروگرام کے خالق حافظ نعیم الرحمان کے خطاب پر نوجوانوں کا والہانہ ریسپانس ، حافظ صاحب کا خطاب گویا جعفر آباد اور بلوچستان کے نوجوانوں کے دل کی آواز تھا ، حافظ صاحب کے خطاب کے دوران قریبا ایک سے دو منٹ تک بجلی جنریٹر سے معطل ہوگئی توایک منفرد اور دلچسپ منظر دیکھنے میں آیا حافظ صاحب چند ثانیے کے لیے جیسے ہی رکے تو نوجوانوں نے بھرپور جوش کا مظاہرہ کیا ، گویا کہنا چاہ رہے ہو کہ حافظ نعیم صاحب ، آپ بغیر حکومت کے اگر بلوچستان کے دور افتادہ علاقے کے نوجوان کو آئی ٹی کی اسکل سکھانے آپہنچے ہیں، آپ ہمارے محسن اور مسیحا ہیں آپ نے خاموش نہیں ہونا،
خواتین کی بچوں کے ہمراہ شرکت، بڑی عمر کے مرد ،
دھوپ ، گرمی ، دھول ،مٹی کو برداشت کرتے نوجوان
گویا اعلان تھا کہ حافظ نعیم الرحمان کا وژن اور ہماری کوشش اس ملک کی تقدیر کو بدلُ کر رکھ دے گی
تعمیر کا یہ جذبہ ہی پاکستان کو بدل سکتا ہے، نوجوانوں کے لیے بنوقابل آئی ٹی پروگرام تعمیری جذبے اور امید کی ناقابل یقین کہانی ہے۔ یہ تصاویر آج راولپنڈی میں ہونے والے داخ��ہ ٹیسٹ کی ہیں۔ کراچی سے مالاکنڈ تک لاکھوں نوجوان بنوقابل کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ نوجوان پاکستان کی آئی ٹی برامدات میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور آئی ٹی کی عالمی لہر سے پاکستان کا شیئر حاصل کریں گے، ان شاء اللہ
#بنوقابل_راولپنڈی
@Ommiyar میں بلدیہ میں رہتی ہوں یوسی آپکے پاس، ٹاون آپ کے پاس، فارم 47 ایم پی اے آپ کے پاس، قبضہ میئر آپ کے پاس، کرپٹ وزیر اعلی آپ کے پاس، مسٹر ۱۰ فیصد زرداری آپ کے پاس لیکن بلدیہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ کوئی ایک پارک بحال نہیں کیا ،کوئی ایک اسکول بحال نہیں کیا لیکن بھٹو زندہ ہے۔
18 سال میں پیپلز پارٹی نے کراچی کو ایک قطرہ اضافی پانی نہیں دیا، سرکلر ریلوے کا منصوبہ چوپٹ کردیا، ریڈ لائن کے نام پر یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دی، انڈر پاس کے لیے کریم آباد کو برباد کیا، کراچی کے 3360 ارب کہاں خرچ ہوئے؟
#Karachi