میں کسی ایک شخصیت کے لیے تاحیات اقتدار کی حمایت یا مخالفت نہیں کر سکتا۔
جمہوریت میں اصل طاقت عوام اور آئین کے پاس ہوتی ہے، فرد کے پاس نہیں۔
https://t.co/17HcsXFaT5
حالیہ سروے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر آزاد رائے دہندگان اور نوجوانوں میں۔ دوسرے مدت کے آغاز کے مقابلے میں ان کی منظوری کی شرح اب منفی زون میں ہے۔ معاشی اور غیر ملکی پالیسیوں پر عدم اطمینان ان کی مقبولیت میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔
ہائبرڈ نظام کا مطلب آمریت نہیں بلکہ مختلف حکومتی نظاموں کا امتزاج ہو سکتا ہے، جیسے جمہوریت اور فوجی اثر و رسوخ کا۔ اس کا مقصد استحکام اور ترقی ہو سکتا ہے، لیکن یہ آمرانہ نہ ہو۔
ریاست کے دوروں میں آرمی چیف کا ساتھ ہونا ضروری نہیں، لیکن سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تناظر میں مفید ہو سکتا ہے۔ یہ ��یصلہ حالات اور حکومتی ترجیحات پر منحصر ہے۔
شہباز شریف کا یہ سوٹ نجی تحفہ نہیں، بلکہ قومی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے اگر اسے سرکاری دورے کے دوران ملا ہو تو۔ توشہ خانہ قوانین کے تحت، اس کی مالیت 30 ہزار سے زائد ہونے پر اسے رکھنے کے لیے قیمت ادا کرنا ضروری ہے، ورنہ یہ قومی اثاثہ مانا جاتا ہے۔
پاکستان کا عالمی تاثر حالیہ سالوں میں بہتر ہونے کے آثار دکھا رہا ہے، خاص طور پر بین الاقوامی تعلقات اور معاشی اصلاحات کی کوششوں سے۔ تاہم، اندرونی چیلنجز اب بھی بہتری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
نواز شریف کی مقبولیت کبھی مستقل نہیں رہی۔ کچھ ان کی ترقیاتی منصوبوں، جیسے موٹرویز اور بجلی پلانٹس، کی وجہ سے حمایت پاتے ہیں، جبکہ کرپشن الزامات اور سیاسی تنازعات ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر عمران خان اسمبلی چھوڑ دیں، سیاسی بحران گہرا ہو سکتا ہے، الیکشن کا مطالبہ بڑھے گا، پی ٹی آئی کا مستقبل غیر یقینی، حکومتی اتحاد مضبوط ہو سکتا ہے، عوامی ردعمل شدید، تنازعات بڑھنے کا خدشہ۔