بہت سے لوگ عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کے لیے مخبری کا کام کرتے تھے، لیکن شہباز گل ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے کبھی ان کے لیے جاسوسی نہیں کی۔
شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں جنرل باجوہ نے دو سے تین بار ان سے تنہائی میں ملنے کی کوشش کی، مگر شہباز گل نے ہر بار اسے نظر انداز کیا.
حامد میر
یہی وجہ ہے کہ آج بھی "کمپنی" کبھی شیر افضل مروت تو کبھی شفیع جان جیسے لوگوں کے ذریعے شہباز گل کے خلاف مکردار کشی کرواتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر شہباز گِل کی رہائی کے بعد زمان پارک میں یہ سرگرمی میں نے خان صاحب سے اجازت لے کر کی تھی۔
جن جن لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی، سب نے انکار کر دیا، اور اسی رات مجھے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اب پی ٹی آئی میں تمہاری سیاست ختم ہو گئی۔ لیکن میں تو پی ٹی آئی میں سیاست کرنے آیا ہی نہیں تھا۔
بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کے اپنے ذرائع کے ذریعے سے بہت بڑے تہلکہ خیز انکشافات۔ ہر جگہ ہل چل مچا دی۔ سہیل آفریدی کا فیصلہ مشکوک ہوگیا 🔥🔥
4 اگست دوپہر بارہ بجے سے دو بجے کے درمیان سہیل آفریدی کی ملاقات ہوتی ہے دو اہم شخصیات کے ساتھ۔ ایک شخصیت وردی میں اور ایک وردی کے بغیر۔ جو شخص وردی میں ہے انکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ کورکمانڈر پشاور ہیں۔ اور وردی کے بغیر والی شخصیت جو اشارہ ہے وہ محسن نقوی کی طرف ہے۔ کہا جارہا ہے وہ بھی اس ملاقات میں شامل تھے۔ یہ ہمیں چیف منسٹر کے اپنے آفس سے جو ذرائع ہیں وہ یہ Claim کر رہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں اگلے چوبیس گھنٹے میں چیف منسٹر کا آفس اس ملاقات کو Deny کرتا ہے، تردید جاری کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ تردید جاری کریں گے تو ہمارے ذرائع یہ Claim کرتے ہیں کہ وہ پھر ہمیں مزید انفارمیشن دیں گے جو اس ملاقات سے Related ہے۔ ہمارے جو ذرائع ہیں انکا اندازہ ہے کہ یہ جو لوگ مارچ کی کال دی گئی ہے اسکو Discuss کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ دوسری جو اہم چیز ہے وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے جو سنئیر ترین لیڈر شپ میں سے ایک دو لوگوں سے ہماری بات چیت ہوئی انہوں نے کورکمیٹی کی ایک میٹنگ ہوئی، اُس کے اندر Discuss نہیں کیا گیا اس سارے معاملے کو کہ 27 تاریخ کی کال ہوگی۔ اسی طریقے سے ذرائع یہ بھی Claim کرتے ہیں کہ جو پولیٹیکل کمیٹی ہے اُس کے اندر بھی 27 تاریخ کو Discuss نہیں کیا گیا۔ سنئیر ترین لیڈر شپ میں جن سے میری بات ہوئی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انکا گمان یہ تھا کہ یہ کال 13، 14 اگست کے اردگرد کی ہوگی لیکن وہ کہتے ہیں سہیل خان آفریدی نے 27 ستمبر کی Date دی تو سب ہی حیران ہوئے کیونکہ یہ ڈیٹ انہوں نے اپنے پاس سے دی۔ یہ پولٹیکل کمیٹی کورکمیٹی کی Endorse ڈیٹ نہیں تھی، یہ ڈیٹ وہاں پر Decide نہیں ہوئی تھی۔
@ahmedalikhan01 وزیر اعلی سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کی کال ایسے ہے جیسے کسی مریض کو آج ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو مگر اسے علاج کے لیے دو ماہ بعد لے جایا جائے
“ شہباز گل نے عمران خان کے فون چرائے “ پہلے تحریک انصاف کے اندر شہباز گل کے مخالفین کا سکرپٹ تھا اب فوجی سکرپٹ ہے۔ گنڈاپور برادران کو بھی یہی لگتا تھا کہ انکے خلاف ہر سازش شہباز گل کرتا ہے۔ اب شفیع جان وغیرہ کی بھی یہی کہانی ہے۔ سوشل میڈیا ، ولاگرز ، یوٹیوبرز ، بے نامی اکاونٹس پر تنقید کو عوام اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ ابصار عالم جیسوں کے شوز میں جا کر بیٹھنے والا شفیع جان خود کو اور پختونخواہ حکومت کو بٹہ لگا رہا ہے۔ اگر پختونخواہ کو عوامی مقبولیت کی پرواہ ہے اور یہ خود کو مزید متنازعہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنی حکمت عملی بدلیں یا اپنے چہرے بدلیں۔ یہ حکمت عملی آپ کو مزید برباد کرے گی۔ شہباز گل کے خلاف عمران خان کو تحفظات ہوتے تو فواد چوہدری و دیگران نے کئی مرتبہ جیل ملاقاتوں میں عمران خان سے شہباز گل کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے کبھی ایسا کچھ نہیں کہا۔
شہباز گل بقلم خود