حکومت کو اب اعلان کردینا چاہیے کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں کیونکہ ڈیفالٹ کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔
اگر قرضہ جی ڈی پی کا 50 فیصد ہو جائے تو یہ ڈیفالٹ کی علامت ہے جبکہ ہمارا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکا ہے ۔ ماہر معیشت حسن ظفر
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
🚨Enzo Fernández AGREDE con un puñetazo en la nuca a un jugador inglés y no le sacan la tarjeta roja.
De hecho no sacó ni amarilla.
Minuto tres y Argentina ya está robando. Es una puta vergüenza.
🚨 إنزو فرنانديز عطى لاعب إنجلترا لكمة في مؤخرة راسه، ولا عطوه كرت أحمر.
بل حتى أصفر ما طلع له.
من الدقيقة الثالثة، والأرجنتين بدت تستفيد من قرارات التحكيم
فضيحة
منال دلچسپ کہانی اور وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
منال کے مالک لقمان افضل نے سی ڈی اے سے 15 سال کے لیے 2021 تک لیز پر لیا کرایہ دیتا رہا
2019 میں منال کو ریمونٹ ویٹرنری فارمز ڈائریکٹوریٹ جنرل (راولپنڈی) نے کہا یہ منال ہماری لینڈ پر بنا ہوا ہے اصل مالک ہم ہیں اب سے کرایہ ہمیں دیں اور اس سے قبل 2016 سے بھی کرایہ ہمیں دیں (تب سے ہماری ملکیت میں ہے) منال کے ساتھ فارمز ڈائریکٹوریٹ نے 17 سال کا لیز ایگریمنٹ بھی 2019 میں کر لیا ابھی سی ڈی اے کے ساتھ دو سال کا لیز ایگریمنٹ رہتا تھا
لقمان افضل کے بقول انہوں نے اس حوالے سے 2019 سے 2021 تک سی ڈی اے ، ایم سی آئی کو بار بار بتایا کہ کرایہ کس کو دینا ہے انہوں نے کچھ جواب کیا
2021 میں سی ڈی اے کے ساتھ لیز ختم ہوئی تو لقمان افضل نے2021 میں سول کورٹ میں کیس فائل کیا کہ میں نے (2019) میں اصل مالک (ویٹرنری ڈائریکٹوریٹ) کے ساتھ 17 سال کا (2035) تک لیز ایگریمنٹ کر لیا ہے مجھے سی ڈی اے 2006 ایگریمنٹ کے بقایا بھی واپس کرے جو پہلے ایگریمنٹ کے تحت لیتا رہا ہے اہم سی آئی نے بھی منال لیز ختم ہونے کے بعد قبضہ واپس لینے کے لئے ضلعی عدالت میں کیس کر دیا
پھر ضلعی عدالت سے اسٹے نہیں ملا تو لقمان افضل اسٹے کے لیے ہائیکورٹ پہنچے تو جسٹس اطہر من اللہ کے سامنے کیس کھلا تو کہانی ہی کچھ اور نکلی
ہائی کورٹ نے منال ، دیگر تعمیرات اور ویٹرنری ڈائریکٹوریٹ کی کلیم کردہ زمین کو غیر قانونی قرار دے دیا انکوائری کا حکم بھی دیا
سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا
آج وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے انصاف کا قتل کیا ہے
ہم دونوں فیصلے کالعدم قرار دیکر معاملہ سول کورٹ کو بھیج رہے ہیں
اب منال کو یہ ریلیف ملا کہ ان کا پرانا کیس بحال ہو گیا غیر قانونی والا فیصلہ ختم ہو گیا
ویٹرنری ڈائریکٹوریٹ کو ریلیف یہ ملا ہے کہ ان کی جو آٹھ ہزار چھ سو ایکٹر زمین کی ملکیت غیر قانونی قرار دی گئی تھی وہ ملکیت تکنیکی طور پر بحال ہو گئی ہے
باقی مارگلہ نیشنل پارک کا اللہ حافظ ہے
مزاکرات کی ناکامی کا اعلان
ہم نے خان صاحب کے وژن کے مطابق ملک کی خاطر بات چیت کی ہر کوشش کر کے دیکھ لی لیکن بات پیش کش سے آگے نہیں بڑھ سکی اس لیے اس مرتبہ لائحہ عمل اور احتجاج میں delay نہیں ہو گا ۔
عبوری چئیرمن گوہر علی خان
وفاقی آئینی عدالت کا منال فیصلہ مختصراً یہ ہے کہ
منال جس جگہ موجود تھا یہ زمین سی ڈی اے کی ہے یا Remount, Veterinary and Farms Directorate, General Headquarters, QMG Branch Rawalpindi کی ہے
یہ اب اسلام آباد کی سول کورٹ طے کرے گی ۔۔۔ ہاہا
آج ایک خبر آئی ہے خاور مانیکا کو اینٹی کرپشن عدالت ساہیوال نے اراضی کیس سے بری کر دیا
خاور مانیکا کا بری ہونا ہی بنتا تھا کہونکہ ۔۔۔۔
کہانی اراضی کیس کم کسی اور طرف زیادہ لنک ہوتی تھی جس کی ڈاٹس آپ ملا لیں سمجھ آجائے گی
ہوا کچھ یوں کہ
18 جنوری 2023 کو مفتی سعید نے عدت نکاح کیس متعلق بیان دیا
مارچ 2023 میں اسلام آباد کے شہری محمد حنیف نے اس بیان کی بنیاد پر اسلام آباد عدالت میں عدت نکاح کیس دائر کیا لیکن اسلام آباد کی عدالت نے جولائی میں جا کر کہا کہ کیس قابل سماعت ہی نہیں یہ معاملے اپیل کے مرحلے میں تھا پھر ریمانڈ بیک بھی ہوا لیکن چل نہیں رہا تھا
پھر ٹوئسٹ آیا
25 ستمبر 2023 کو اچانک اینٹی کرپشن نے خاور مانیکا کو گرفتار کر لیا
15 نومبر 2023 خاور مانیکا کی رہائی ہوئی تو 20 نومبر کو بڑے چینل پر انٹرویو میں پہلی دفعہ خاور مانیکا عدت نکاح معاملے میں کھل کر بولے ان سے شاہ زیب خانزادہ نے سخت سوال بھی کئے جن کے جواب اس کے پاس نہیں تھے اس کے باوجود جو مدعا ٹی وی سکرین پر آنا تھا آ گیا اس پر کچھ حلقوں نے انٹرویو پر سخت تنقید بھی کی
پھر ہوا کچھ یوں کہ اچانک ۔۔۔۔ مینجمنٹ دیکھیں
اسلام آباد کے شہری محمد حنیف نے 24 نومبر 2023 کو عدت نکاح کیس کی درخواست واپس لی ۔۔۔۔ اور ۔۔ کہانی ختم نہیں بلکہ ابھی شروع ہوئی
اگلے ہی دن 25 نومبر 2023 کو خاور مانیکا نے اسلام آباد کی عدالت میں درخواست دائر کر دی
پھر جو ہوا سب نے دیکھا ۔۔۔ اس لئے بری ہونا ہی بنتا تھا کیونکہ کیس بظاہر اور مقاصد اور نظر آرہے تھے
نوٹ : یہ کیس نظام انصاف کی ایک شخصیت کو کھا گیا ایک کو سنوار بھی گیا (تفصیل پھر کبھی سہی)